After his father's death, Daud's brother is the sole earner of the family consisting of two sisters, a mother and Daud. So what happens when he gets married and tells his mother that he's leaving? All the responsibility comes upon Daud. Daud gets a job offer from outer-country. His two sisters tell him that he won't be able to survive a week without the comfort of home so he takes upon himself the challenge of not coming back until he's achieved something. But there is much he has to go through and learn in this new world. Join Daud in his journey of finding love and the harsh truths of life.
I can't comprehend into words what I feel or what I read or where even am I. The only thing I'll says, this wasn't at all what I expected it to be. Hence, the reason I ended up loving it more. Just go read it, if you want the 'WHAT JUST HAPPENED?!' book. Was totally worth my time
It’s just too good. اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ اِس میں سب سے اچھی بات مجھے کیا لگی۔ کرداروں کا حقیقی ہونا یا اختتام کا حقیقی ہونا۔ ہاں شاید اختتام ہی وہ چیز ہے جو انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے یا شاید وہ آخری خطوط جو داؤد سے زیادہ قاری کے دل پر اثر کرتے ہیں۔ وہ خطوط نہیں احساس تھے،فریاد تھے،پکار تھے۔
کہانی کو ختم کرنے کے بعد میں کافی دیر سوچتی رہی کہ میں نے اِس سے کیا سیکھا؟ کیا جن کی زندگی میں بچپن سے مسائل ہوں وہ کبھی ختم نہیں ہوتے؟ کیا سارا کھیل قسمت کا ہی ہے؟ شاید ہاں ۔ کیونکہ اگر مسائل ختم ہوتے تو ایک "مارننگ گلوری " کی کیا ہی اہمیت ہے؟
مجھے عنیزہ سید کی کتابوں کے اختتام سے محبت ہوگئ ہے ۔جہاں وہ قاری کو اس نتیجے پر چھوڑ جاتی ہیں کہ اگر آپ کبھی زندگی میں اِس جگہ پر آ کھڑے ہوں تو آپ کیا کریں گے؟ اگر کبھی آپ داؤد ہوتے یا آپ ہما ہوتے یا آپ زینب ہوتے تو آپ کی زندگی میں وہ کونسا فیصلہ ہوتا جو آپ کی زندگی بدل دیتا۔ یا آپ بھی زینب وقار کی طرح اُس ڈر کو قسمت کا نام دے دیتے یا ہما کی طرح حسد کو محبت کا نام دے دیتے یا پھر شاید داؤد کی طرح ہمدردی کو محبت کہہ دیتے ۔کیونکہ ہم زندگی میں کبھی نہ کبھی ہما،زینب اور داؤد ضرور بن جاتے ہیں۔ اور ہمارا اعتماد ہی ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتا۔
I would just say HEARTBROKEN 😭💔, HEWRT SHATTERED , پہلے پہل مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے دل میں محبت کا بیج بو دیا ہے اور میرے دل میں پھول کھلنے لگے ہے ۔پھر کسی نے بہت بے دردی سے میرے دل پہ کسی نوکیلی چیز سے وار کرکے پہلے اسے زخمی کردیا ، پھر اس دل سے خون بہنے لگا اوروہ خون میرے دل کے ٹکڑے ٹکڑے کردگیا ۔
معاشرتی مساںٔل اور انسان کی نفرت و بے حسی کو جس انداز میں اس کتاب میں دکھایا گیا ہے وہ بہت دلسوز ہے ۔ بات یہ نہیں ہے کہ یہ محبت کی کہانی ہے اس لیے میں ایسا کہہ رہی ہوں ۔ زندگی میں محبت سے بڑے مسائل بھی ہوتے ہے ۔ بات یہ ہے کہ کیا انسان اس قدر تلخ ، بےباک اور ظالم ہوسکتا ہے ؟ یہ ایک عمدہ کتاب ہے اور آپ کو اسے ضرور پڑھنا چاہیے ۔
welll.... i found this novelette pretty randomly...(i wasn't able to read any book even i want to...i would say it was a reader's block😶🌫️) this was like 80 pgs long and it hooked me immediately with its settings...(the asthetics were on point and i really wanted to bake a cake ...the winter's sunshine.. nan khtai ,aroma of freshly baked bread....) all on point
BUT THE BAKERY TOOK OUT A PRETTY DARK TURN ...🫠❤️🔥
ادب کا کمال یہ ہے کہ وہ ایک ہی جلد میں زندگی کے کئی موسم قید کر لیتا ہے اور عنیزہ سید کا کتابی مجموعہ "نان بائی کی بیٹی" اس کی بہترین مثال ہے۔ عام تاثر کے برعکس یہ کوئی ایک ناول نہیں بلکہ چار مختلف ناولٹ کا ایک ایسا گلدستہ ہے جس کا ہر پھول اپنا الگ رنگ اور اپنی منفرد خوشبو رکھتا ہے۔ یہ مجموعہ قاری کو انسانی نفسیات، سماجی حقیقتوں اور جذباتی کشمکش کے چار مختلف سفر پر لے جاتا ہے۔ اس مجموعے کی خاصیت یہ ہے کہ یہ محبت کی روایتی داستانوں سے نکال کر زندگی کے وسیع اور تلخ میدان میں لاکھڑا کرتا ہے۔ عنیزہ سید نے یہ باور کرایا ہے کہ زندگی میں محبت کے علاوہ بھی ہزار مسائل ہیں اور بعض اوقات اصل جنگ انسان کی اپنی ذات اور معاشرے کے ظالمانہ رویوں سے ہوتی ہے۔ ان کہانیوں کے کردار اس لیے بھی حقیقت کے قریب لگتے ہیں کہ وہ صرف اچھے یا برے نہیں بلکہ حالات کے جبر تلے دب کر تلخ، بے باک اور بعض اوقات ظالم بھی ہو جاتے ہیں۔ مصنفہ نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرے کی اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کیا ہے جہاں معاشی جدوجہد، سماجی اونچ نیچ اور نفسیاتی الجھنیں انسان سے اس کی معصومیت چھین لیتی ہیں۔ کتاب "نان بائی کی بیٹی" میں صرف کہانیاں نہیں عورت کے دکھ، خواب اور حوصلے کا آئینہ ہے۔ "نان بائی کی بیٹی" میں ظلم اور غربت کی چادر تنی ہے۔ " بہاروں کی صبح افشاں" میں بہاروں کا رنگ بکھرا ہے۔ " وحشت کا استعارہ" میں وحشت کے سائے ہیں۔ اور "ایک اور دریا کا سامنا" میں دریا پر دریا عبور کرنے کی جدوجہد ہے۔ یہ چاروں کہانیاں زندگی کے چار مختلف زاویوں کا عکس ہے۔ یہ کتاب عورت کے دل کی وہ صدا ہے جو ہر قاری کو چھو لیتی ہے۔ یہ کتاب قاری کو جھنجھوڑ دیتی ہے کہ عورت صرف رشتوں اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے پیدا نہیں ہوئی، وہ خواب دیکھنے اور اپنی پہچان بنانے کا بھی حق رکھتی ہے۔ عنیزہ سید نے ایک ہی مجموعے میں سماجی حقیقت نگاری، رومانوی امید، نفسیاتی گہرائی اور مسلسل جدوجہد کے موضوعات کو بڑی خوبصورتی سے پرویا ہے، جو ان کے وسیع تخلیقی صلاحیتوں کی گواہی دیتا ہے۔ اگر آپ ایسی کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں جو دل میں اتر جائیں تو یہ کتاب آپ کے لیے ہے۔
My cousins recommended me this book and she had said, "When you finish the book you'll think does things like these also happen in the world?" And she was right! To think people can be so cruel. I salute the writer for making everything so real and for taking such a strong topic and writing it the way it should be written. And I thank my cousin for recommending me this book. I definately learned something.
Reviewing after months so my memory is mostly hazy but this one had a super unexpected twist. Totally caught me off guard, & was super SAD !!! :((
I remember the plot was so cozy & cute INITIALLY - the details of the bakery & small city hustles, the adjustment of Daud in the new place with new people & then the turn of events later getting darker - 😵💫
So tragic !!!
This entire review has been hidden because of spoilers.