I love poetic titles and this one is probably my most favourite title ever. Its a love story that's intense and deep, but also in Sheesh and Sarah, the writer has created characters that are quite unforgettable. Even the side characters are written in detail, you get a clear picture of almost everyone's personality. It shows how other relations in one's life affect the romantic relationship with the beloved. Its an intense read, emotions running high, anger, frustration, being unable to forgive, all these negative emotions are being experienced by the main characters. But let me assure you its delicious ;) The author has written it in a way that makes it entertaining as well as meaningful and memorable.
میں کبھی اس طرح اپنے گھر سے اتنی دور تنہا نکل کر کسی لڑکی سے ملنے نہیں گیا، میں یہاں تک کیسے آ گیا مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ اور آگے بھی روز کس طرح آ جاٶں گا یہ بھی مجھے پتہ نہیں چلے گا۔
As soon as I started reading this novel I noticed two great factors that make it a unique read: an albino (Sooraj Mukhi) main character, a male being brutally raped and the aftermath of it. There is profound discussion about rape against young boys but in a very subtle way. The writer doesn't shove it in your face. Naila Tariq has balanced a serious discussion with a heartwarming romance and humor among cousins.
At the core of it, its a humorous, romantic, contemparory novel. Yes it has emotional tension between characters but nothing too brutal. Sheesh is such a sweet guy! Even after what happened to him, he still cares about others - enough that he doesn't want to hurt anyone's feelings. He was the one I was rooting for and I didn't want anything bad to happen to him. He is such a soft, lovable character.
اب میں کٸ دنوں سے مستقل ایک ہی کیا جانے والا سوال کہ تم کب تک مجھ سے بات نہیں کرو گی؟ کو بدل کر یہ سوال پوچھوں گا کہ تم اب کب مجھ سے بات کرو گی؟
There is conflict and disagreements among various main characters. At the start we are introduced to Sarah who does not like her brother-in-law, though she only has one older sister Sidra but she does not like the man her sister is married to. They both dislike each other and you cannot say which of them is wrong. Both are right. Sheesh is one of the best heroes I have ever read!
تم کب بات کر کے مجھ پر احسان کرو گی؟
یہ سوال اپنے بھاٸ کے سامنے مجھ سے کرنا۔ اتنا خوبصورت جواب دوں گی کہ منہ ہی چھپاتے پھرو گے اپنے بھاٸ سے۔
مگر تم ایسا بھی کیا کہو گی کہ مجھے منہ چھپانا پڑے گا؟
There were two timelines right from the start, past - when Sheesh and Sarah first crossed paths (they were quite young) and the present, when after her mother passes away she has had to come and live in his house. The animosity between Shams (Sheesh's older brother) and Sarah is written to perfection. Oftentimes Shams failed to understand that by going against Sarah he ended up hurting his brother, the one he loved more than anyone else.
میرے پاس جو کچھ ہے صرف اسی کا ہے اس کے علاوہ میں کسی بھی دوسری عورت کو کچھ نہیں دے سکتا۔
Overall its an extraordinary novel. Highly recommended!
A beautiful love story that discusses an important social issue. It depicts the profound role of the family in supporting the person who faces abuse at some point in his life. Then, finding love and faith makes him even better and stronger to face the world with a positive attitude. Bits of humour are spread in between the story which makes it even more compelling. I just loved it despite realizing after reading few pages that I've read it before but missed logging its entry. The novel is quite long but pushes you to read it in one sitting.
کا پہلا ناول ہے جو میں نے پڑھا. ہر لحاظ سے مجھے یہ ناول بے حد پسند آیا، سب سے بڑھ کہ اس ناول میں جس بات کی جانب توجہ مبذول کروائی گئی ہے وہ نہایت اہم عنوان ہے. خاص کر اس گزرتے رور میں " قومَ لوط" کا فعل نوجوان نسل میں مزید اپنی جڑیں مضبوط کرتا جا رہا ہے. پہلے پہل یہ چند ملکوں تک محدود تھا پر اب اس فعل نے پوری دنیا ہی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے. مجھے اس ناول کا آغاز بھی بے حد پسند آیا تھا، اس کے آغاز ہی میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہوتی ہے جو آپ کی توجہ کو کھینچتی ہے مزید پڑھنے کے لیے. "آئی سی یو کے خشک اور بوجھل سکوت میں گہرے گہرے سانس بھرنے کی مدھم آوازیں اُبھر رہی تھیں".اس کے ساتھ ہی ایک ایسی کہانی جنم لیتی ہے جو اس انسان کے وجود سے سائے کی طرح چپک جاتی ہے.شیشت اس کہانی کا ایک ایسا اہم اور بنیادی کردار ہے جسکی زندگی سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے ایسے واقعے سے جسے میں یہاں بیان نہیں کروں گی میں چاہتی ہوں کہ آپ خود اس کو پڑھ کر اندازہ لگائیں کہ ایسی تکلیف سے دوچار انسان کو کس چیز کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے. سارہ ایک ایسی مضبوط اعصاب کی مالک، بہت دلکش انداز میں اس کردار کو لکھا گیا ہے. جو اسے نہیں پسند ہوتا اسکا اظہار وہ برملا کرتی دکھائی دیتی ہے. سارہ کی اپنے بہنوئی سے کیوں نہیں بن پاتی، ایسی کیا بات ہوئی تھی جواس کا ردعمل نہایت سرد رہتا تھا انکے لئیے، اور پھر کس طرح شیشت کے لیے اس کے جذبات وقت کے ساتھ ساتھ گہرے ہوتے گئے یہی نہیں جو کردار شیشت کا لکھا گیا ہے وہ اپنے اندر ہر رنگ کو سموئے ہوئے ہے، جس طرح وہ اپنی زندگی کو نارمل کرتا ہے اور کس طرح وہ دوسروں کی مدد کرتا ہے اس تکلیف سے بچانے کے لیے جس کا شکار وہ خود رہ چکا ہوتا ہے. میری نطر میں یہ ناول بہت گہرائی رکھتا ہے پڑھنے اور سیکھنے والوں کے لیے.
It is a splended story on an important topic & struggles faced afterwards by such victims. Humorous, beautifully worded and romantic its a complete pack, worthy of reading several times
نائلہ طارق کا یہ پہلا ناول ہے جو میں نے پڑھا۔ ٹھیک ہے کہانی بہت لمبی کھینچی تھی مصنفہ نے اور مجھے تو لگتا ہے کہانی کچھ تھی بھی نہیں اِس ناول میں۔ اِس لیے آج ہم کہانی كے علاوہ بات کریں گے۔ ہم کرداروں پر اور مصنفہ کی writing پر بات کرنے والے ہیں۔
کہانی کے کرداروں پر بات کرتے ہیں پہلے۔ بہت سارے کردار تھے اور سب کی ہی اپنی اپنی الگ کہانی تھی۔ سب سے برا مجھے شمس کا کردار لگا تھا سارہ کے لیے۔ شروع میں مجھے شمس اور سارا کی نوک جھونک بہت اچھی لگی لیکن آہستہ آہستہ وہ ایک ایسی حد پر آ گئی تھی جب ناقابلِ بارداشت ہو گئی۔ شمس باقی سب لوگوں کے لیے بہت پیارا تھا اِس بات میں کوئی شک نہیں۔
سارا اور شیس بہت بہت پیارے تھے۔ لیکن انہوں نے فلرٹ بہت ہی لمبی عرصے تک کیا۔ ناول کے آخری چند صفحات میں شیس بالکل بدل گیا تھا۔ وہ ایسا تو نہیں ہوتا ہوتا تھا۔
شروع میں مجھے لگا تھا مومو ہی شارخ خان کے پیچھے ہے جب کے وہ اس میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ لیکن اک دم وقت بدل گیا جذبات بدل گئے ۔۔ والا کام ہوا میرے ساتھ تو۔ مومو کا سارہ کے بال کاٹنے والا سین بہت اچھا لکھا تھا مصنفہ نے۔ مزاح لکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ مصنفہ نے بہت اچھا لکھا ہوا ہے۔
شاہ رخ اور شیس فلرٹنگ میں دونوں ایک جیسے ہی تھے۔ بس شاہ رخ سرِعام کرتا تھا۔۔زینب ایک دم سے آئی کہانی میں۔سارہ کی دوست تھی لیکن سارہ سے بالکل ہی مختلف۔ شیس کا عاطف سے جیلس ہونا اتنا پیارا تھا۔۔ مطلب شیس بھائی کچھ بھی ۔۔۔
اب بات کرتے ہیں مصنفہ کے writing style کی۔ بہترین لکھا گیا ہے ناول۔نائلہ طارق کی scenes لکھنے کے skills سے میں بہت impress ہوئی ہوں۔ جیسے کے میں نے کہا کے کہانی بہت کھینچی گئی تھی لیکن نائلہ طارق نے جو لکھا ، جیسے لکھا اور جس بہترین انداز میں لکھا تھا مجھے ناول بہت پسند آی۔ایک ایک سین اتنا اچھا لکھا ہوا تھا۔
مصنفہ نے کہانی میں زندگی کے بہت سے تلخ حقائق پر بات کی ہے ۔پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دُنیا بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتی آئی ہے۔ زیادتی کا شکار ہونے والوں میں لڑکوں کی بھی ایک کثیر تعداد ہے۔ اِس کہانی میں بھی ایک ایسے لڑکے کی زندگی کو ہی بیان کیا گیا ہے۔ کس طرح اسے کن کن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ارد گرد رہنے والے لوگوں نے کس طرح اسے ریکور کرنے میں مدد کی۔ والدین دُنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ ان کے جانے کے بعد آپکی زندگی ہی جیسے ایک نکتے پر رک جاتی ہے۔ چاہے آپ شمس کی طرح سب سے بڑی اولاد ہوں یا سارہ کی طرح چھوٹی ، دُنیا سب کے لیے بارابر کی بے رحم ہے۔ کہانی میں ایک چیز جو مجھے بہت اچھی لگی وہ مصنفہ کا یہ دکھانا تھا کے ہر انسان کے اندر کچھ نا کچھ کمی ہوتی ہے۔کوئی شخص بھی بالکل پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ ہمیں خود اپنی خامیوں کو قبول کر کے زندگی میں آگے بڑھنا ہے۔ اپنی کمیوں کو خود پر غالب نہ آنے دینے والا انسان ہی کامیاب ہے۔ زینب، سارہ، عاطف، شیس تقریباً ہر کردار میں ہی کوئی نا کوئی کمی دکھائی گئی ہے اور یہ ایک بالکل عام سی بات ہے۔ مجھے اچھا لگا کے رائٹر نے اِس چیز کو normalise کیا ہے اپنی کہانی میں۔ باقی کہانی پڑھتے ہوئے بہت مزہ آیا۔ سوچ رہی ہواں نائلہ طارق کی کوئی اور کہانی بھی پڑھوں۔
یہ میرا اور نائلہ طارق کا پہلا تعارف تھا۔ اس ناول کے بارے میں میں نے بہت سے بہت سے الگ الگ خیالات سنے اور پڑھے تھے اور آج آخر خود پڑھنے کا موقع مل ہی گیا۔
اس ناول میں مصنفہ نے بہت سے موضوعات کو چھیڑا ہے۔ زندگی کی کچھ تلخ حقیقتیں، دنیا کے کچھ بھیانک رخ، انسانوں کی شخصیات کے کٹھن پہلو اور پھر بہت سا تفریحی ماحول اور ایک ٹھاٹھے مارتی محبت کی کہانی۔
کہانی کا مرکزی اور سب سے سنگین پہلو تھا جنسی زیادتی۔ وہ بیماری جو ہمارے معاشرے میں یوں پھیل رہی ہے جیسے دیمک لکڑی میں پھیلتی ہے۔ جس کے بارے میں اللّٰہ تعالٰی نے قرآنِ مجید میں سورۃ ہِجر آیت نمبر 75 میں فرمایا ہے:
"بیشک اس (قومِ لوط کے واقعے) میں اہلِ فراست کے لئے نشانیاں ہیں"
یقیناً، مصنفہ نے اس حساس موضوع کو نہایت مدھم طریقے سے اور دیکھ بھال کر قلم بند کیا۔
کہانی کے ایک طویل حصے میں انسان کی "آنا" اور "میں" کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے۔ کہ کیسے کبھی کبھی کسی بھی ٹھوس سبب کے بغیر انسان صرف اپنی خود ساختہ سوچ کی وجہ سے مسائل میں گھِر کر رہ جاتا ہے۔ اور آخر میں، خواہ مرد ہو یا عورت، ایک منصفانہ زندگی گزارنے کو انسان کو جھکنا پڑتا ہے، عاجزی اختیار کرنی پڑتی ہے۔
کچھ کرداروں پر نظر ڈالیں تو؛
شیث؛ کہانی کے مرکزی کرداروں میں سے ایک، ایسا شخص جو، دنیا کا ظالم اور بھیانک ترین چہرا دیکھنے کے بعد پھر سے جینا سیکھتا ہے۔
سارا؛ ایک ایسی لڑکی جو بہادر اور پر اعتماد ہے۔ جو نِڈر ہے اور حساس بھی۔ جو اپنے ماں اور باپ دونوں رضائے الٰہی کے سپرد کرنے کے بعد نئے لوگوں کے ساتھ نئے سرے سے زندگی گزارنا شروع کرتی ہے۔
اور شمس؛ ایک نہایت مشکل کردار۔ اپنے تین بھائیوں کا بڑا بھائی اؤر انکی مکمل زندگی۔ اپنی بیوی کا شوہر۔ اپنے بچوں کا باپ۔ اپنے گھر کا سربراہ۔ بہت سے کردار جو اس اکیلے کردار نے نبھائے اور ان میں سے سب سے ضروری سارا کا بہنوئی ہونے کا کردار۔ اور یہیں میرا بلڑ پریشر ہائی ہونے لگتا تھا 🤦♀️
کہانی کا ایک بلکل الٹ رخ بھی ہے جہاں آپ ہس ہس کر دورے ہو جائیں گے 🫣 کیونکہ ادھر اور بھی بہت سے مزے دار، شوخ و چنچل کردار ہیں۔
بیچ میں کہیں کہیں محسوس ہوتا ہے کہ ناول بہت کھینچ دیا گیا ہے مگر ایک چیز انتہائ قابلِ تعریف ہے اور وہ ہے منظر نگاری 🤌✨ کمال! رونگٹے کھڑے کردینے والی، کتاب آٹھا کر دیوار میں مار دینے والی اور ہس ہس کر لوٹ پوٹ ہو جانے والی منظر نگاری۔
اگر آپکو ایک طویل، بہت سارے کرداروں کے ساتھ اور فراخ مقدار میں رومانوی عنصر سے بھری کہانیاں پسند ہیں تو آپکو کتاب پسند آیے گی۔
میں نے کل رات کو یہ ناول ختم کیا اور کیسے کیا ہے یہ میں ہی جانتی ہوں۔ اس قدر عجیب کہانی تھی بلکہ کہانی تو تھی ہی نہیں
600 صفحوں میں بس بمشکل 100 صفحوں کی کہانی تھی جبکہ کہانی کا تھیم بہت اچھا تھا قوم لوط کے فعل پر۔ لیکن اس پر زیادہ فوکس کرنے کے بجائے مصنفہ نے سالی بہنوئی کی لڑائی پر توجہ دی تھی۔ اف اتنا مجھے غصہ آتا تھا نہ ان کے سینز پر ہر تیسرے صفحے پر ان کی لڑائی شروع ہوجاتی تھی۔
بہت ہی زیادہ ڈریگ سٹوری تھی۔ بلکل بھی پسند نہیں آیا
"I have just finished reading the most enjoyable novel ever. Although the story is not very unique, the writer has managed to make it very engaging. The book has a perfect blend of humour, romance, and drama. Some scenes are so funny that it made me laugh out loud. The chemistry between Sara and Shees is outstanding, and every character has a unique charm. The issue of sexual abuse is handled exceptionally well. I highly recommend this book!"