Sibte Hasan was born on 31 July 1912 in Ambari Azamgarh Uttar Pradesh, India.He graduated from Aligarh Muslim University. For higher studies he went to Columbia University, USA. In 1942, Sibte Hasan joined the Communist Party of India. After partition of India, he migrated to Pakistan. He also served as editors of noted journals including; Naya Adab and Lail-o-Nehar. He died of a heart attack on 20 April 1986 in New Delhi while returning from a conference in India. He was buried in Karachi
ہمارے ہاں غالب اکثریت پاکستانی تہذیب کے بارے میں مغالطوں کا شکار ہے . کوئی اس کی ابتدا محمد بن قاسم کے سندھ کے ساحلوں پر قدم رکھنے کے بعد سے بتاتا ہے ور کوئی ١٤ اگست کی صبح طلوع ہونے سے . اور اسے باترتیب اسلامی اور پاکستانی تہذیب کا نام دے دیتے ہیں . یہ مغالطے تہذیب کو تاریخی ارتقاء کے تناظر میں نہ دیکھنے اور مذہبی یا نام نام نہاد قومی لبادے میں لپیٹنے کی کوشش کرتے ہیں .... ان مغالطوں کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں تہذیب کے بنیادی عناصر اور ان عوامل کا مطالعہ کریں جن کے زیر اثر مختلف تہذیبیں ارتقائی عمل سے گزر کرپروان چڑھتی ہیں . سو کسی اچانک روپذیر ہونے والے واقعے کی طرح نہ تو پاکستانی تہذیب برصغیر میں پہلے مسلمان کے آتے ہی وجود میں آئی ور نہ ہی قیام پاکستان کے ساتھ اسکا وجود عمل میں آیا، بلکہ یہاں صدیوں سے موجود مختلف اقوام کےآپس کے تعلقات اور ان کے معروضی حالات سے گزر کر ہمارے سامنے موجودہ شکل میں ہے .
سبط حسن صاحب نے موجودہ کتاب میں برصغیر میں مروجہ تاریخ میں موجود مختلف تہذیبوں (دریا سندھ کی تہذیب ، آریا ، یونانی ، ساکا ، عربی ، ترکی ، ایرانی، افغان ، اور مغلیاں) اور ان کے مختلف عناصر (زبان ،آلات و اوزار ،پیداوار کے طریقے ،فنون لطیفہ ، علم و ادب ،سماجی رشتے ،رہن سہن ،عشق و محبت کے سلوک اور خاندانی تعلقات ) پر تفصیلاً گفتگو کی ہے . ساتھ ہی مختلف ہمعصر تہذیبوں کا تقابلی جائزہ بھی لیا گیا .
مختلف تہذیبوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں شکست کی وجوہات بھی بیان کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ کسی تہذیب میں نئے حالات کے مطابق اپنے مختلف اقدار میں تبدیلیوں کا فقدان ہیں . بقول سبط حسن صاحب "اس معاشرتی جمود کا عکس اس وقت کے افکار و اعتقادات میں بھی ملتا ہے کیونکہ کسی جامد معاشرے سے افکار تازہ کی نمود کی توقع فضول ہے ." اور بظاہر نہایت عالیشان نظر آنی والی تہذیب کی عمارت اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے اور جب اس کا سابقہ کسی تازہ دم تہذیب سے پڑتا ہے تو اس میں اتنی سکت نہیں رہتی کہ اس کا مقابلہ کر سکے اور ہم ان حقائق سے منہ موڑ کر نسیم حجازی صاحب کی طرح اپنی ناکامی کو کسی میر جعفر اور میر صادق جیسے "گھر کے بھیدیوں " کے سر تھوپ کر اپنے فرض سے سبقدوش ہو جاتے ہیں
One of the earlier (1974) and most significant attempts to understand the fabric of Pakistan's culture. Sibte Hasan argues that what we call Tehzeeb (Culture) consists of four ingredients: 1- physical environment, 2-social environment, 3- means of production, and 4- thought system of the era. In this backdrop, what we call Pakistani culture these days is amalgamation and evolution of different cultures (Mohenjo Daro, Harappa, Turk, Sassanian, Achaemenid, Arab, etc.). Moreover, Hasan also argues that although religion does play a significant role in shaping up cultural values, it is just a part of the whole, and not the whole itself.
Hasan's analysis also implies that any attempt to merge different cultures under a single umbrella of "one Pakistani culture" would be futile (like Pakistan's geopolitical experience of One-Unit in 1954). Instead of artificially trying to create a single culture, the best way forward is to make use of the age of industrialization, which has the capability of bringing together different cultures without making them forgo their individualities.
One of the great books about Pakistan!! An enchanting and solid narrative and flow of Pakistani Civilization. "Pakistan Ki Tehzeeb kia hai?" The writer commences from this very note and as a reader turns leaf by leaf, narrative and data satisfies him/her.
تہذیب کیا ہے؟ریاست اور قوم میں کیا فرق ہے ؟ ریاست کی سرحد تو جغرافیہ کی مدد سے مقرر کی جاسکتی ہیں لیکن قوم کی کوئی سرحد ہو سکتی ہے؟مادی اور جغرافیہ عوامل تہذیب و تمدن کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟آیا ہم پہلے پنجابی ہیں یا پاکستانی یا پھر مسلمان ؟پاکستان کی کوئی تہذیبی شناخت وجود رکھتی ہے یا محض قومی وحدت برقرار رکھنے کی ریاستی مجبوری سے زیادہ کچھ نہیں؟ سبط حسن نے ان تمام سوالات پر سیر حاصل بحث سے اس کتاب کا آغاز کیا ہے۔پاکستان کی جغرافیائی حدود میں پنپنے ، پروان چڑھنے اور شکست و ریخت کا شکار ہونے والی ان تمام تہذیبوں کا تجزیہ تاریخی اور مادی عوامل کے تغیر سے کیا گیا ہے۔ وادی سندھ کے زمانے سے لے کر مغلوں کے زوال تک کا تین ہزار سالہ تاریخی سفر نہایت سہولت سے بیان ہوا ہے ۔وادی سندھ کی قدیم تہذیب ، آریائی حملے ، یونانی، ساکا ،پارتھی ، کشن اژرات، پھر سندھ میں اسلام کا آغاز، ایران و ترک تسلطنت ،سلاطین دہلی اور مغلوں کے زوال سے انگریز کی آمد۔ان سب الگ الگ باب میں بات کی گئی ہے۔محمد بن قاسم کی سندھ پر مہم سے پہلے امیر معاویہ کے دور میں بھی دو مہمیں ہند کو فتح کرنے کے لیے بھجیں گئیں مگر وہ ناکام لوٹیں ۔ محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو مقامی بودھ قبائل کی مدد سے سندھ میں شکست دی ۔ ان پودھ قبائلوں کی حکومت راجہ چچ (راجہ داہر کا باپ)نے غصب کی تھی ۔ یہی اس زمانے کا دستور تھا کہ مغضوب گروہ کسی طاقتور حملہ آور سے مل جاتا اور اپنے پرانے بدلے چکاتا ۔ ابراہیم لودھی سے بھی جب اس کے پٹھان امراٗ نا خوش ہوئے توبابر کو بلاوا بھیجا کہ بھئی آ اور اس سالے سے ہماری جان چھڈا مگر وہ ایسا آیا کہ پھر اگلے کئی سو برس تک ہندوستان میں باہر سے کوئی حملہ آور نہ آسکا۔ اسی کے خاندان نے حکومت جمائی۔ٹیکسلا کا زمانہ قدیم میں علم پرور شہر سے زمانہ جدید میں توپوں و ٹینکوں کی فیکٹری والے شہر کا سفر بھی از حد دلچسب ہے۔ تہذیب حملہ آوروں کی مار کٹائی کا نام نہیں بلکہ حملہ آوروں اور مقامی انسان کی باہمی میل ملاپ سے جنم میں آنے والے سماج کا نام ہے ۔اس تہذیب کو سینچنے میں لوگوں کا رہن سہن ، مذاہب کی ادلا بدلی ، فن تعمیر ،نظام فکر و احساس اور فنون لطیفہ سب کا اپنا اپنا حصہ ہے ۔ کیسے مذہب پر قابض راجائوں اور پنڈتوں کے زیر عتاب طبقے نے اسلام کو خوشی خوشی قبول کیا۔ملتان میں کئی ایسے اسماعیلی داعی آئے جنھوں نے اسلامی عقائد کی ترویج مقامی زبانوں میں کی۔صوفیا ریاستی مولویوں کے نشانے پر رہے ۔ مولوی مذہب کا ٹھیکے دار بنا رہا ۔ عوام کو دوزخ سے ڈرایا اور خود بادشاہ سے ڈرا۔مال و متاع کے لیے مذہب فروشی کی ۔آج بھی کرتا ہے ۔ ہندوستان میں کئی تہذیبیں آئیں اور اپنا وقت پورا کر کے فنا ہو گئیں ۔ لیکن اس ارتقائی عمل میں ان کی کئی نشانیاں باقی بچ گئیں جن سے تہذیب کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ شیر شاہ سوری ،مادھو لال حسین ،امیر خسرو، بھگت کبیر ، داراہ شکوہ ، اکبر و اس کے نو رتن ، چند پرشکوہ عمارات اور بہت سے گمنام اس کہانی کے نمایاں کردار ہیں۔ مملکت خدادا کے شناختی بحران کے تار و پود بھی اسی تہذیب کے ارتقائی عمل میں پیوستہ ہیں۔گزرے ہوئے کل کو سمجھنا گویا حال کو سمجھنا ہے۔نظریہ ضرورت کے تحت وضع کردہ شناخت کی ریاستی پروپیگنڈا سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں ۔جن گروہوں کا مفاد وحدت اور اکائی کے ڈھکوسلے سے جڑا ہے وہ اسی کا راگ الاپتے رہتے ہیں اور جو طبقات صوبائیت پرستی اور تکژیریت(pluralism) میں اپنا منافع دیکھتے ہیں وہ اسی کا ڈھول پیٹتے ہیں۔جاگیردار کبھی بھی وحدت نہیں چاہے گا کیونکہ یہ اس کے جبر کو سوٹ ہی نہیں کرتی اسی طرح سرمایہ دار وحدت کا حامی ہو گا ۔ایک ملک ایک قوم کا راگ الاپتا رہے گا کیونکہ منڈی کا بھاگ سرمایہ ہے اور وہ مال بیچنے سے آتا ہے۔ یہ نعرے طبقات کی باہمی کشمکش کا ایندھن ہے اس کے سوا کچھ نہیں ۔آج اس ملک میں بسنے والے باشندہ شناخت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے دشمن بنے بیٹھے ہیں ۔ سبط حسن صاحب کی کتاب ہر اس شخص کو لازماً پڑھنی چاہیے جو خود کو ریاستی شناخت کے مسلط کردہ جبر سے ذہنی طور پر ہے آزاد کرنا چاہتا ہے ۔ضرور پڑھیں ۔ کراچی سے مکتبہ دانیال نے پبلش کی ہے ۔