ہر کسی سے بچھڑ گیا ہوں میں
کون دل میں مرا ملال رکھے
شہرِ ہستی کا اجنبی ہوں میں
کون آخر مرا خیال رکھے
۔
روزوشب اب یونہی گزرتے ہیں
کوئی قصہ ہو جان و جاناں کا
کربِ بے ماجرائی سہتا ہوں
کچھ تو ہو ماجرا دل و جاں کا
۔
وصل کے سلسلے تو کیا اب تو
ہجر کے سلسلے ہیں بے معنی
کوئی رشتہ ہی جب کسی سے نہیں
دل کے سارے گلے ہیں بے معنی
۔
تم کو جہانِ شوق و تمنا میں کیا ملا
ہم بھی ملے تو درہم و برہم ملے تمہیں
۔
آخری بار آہ کر لی ہے
میں نے خود سے نباہ کر لی ہے
اور تو کچھ نہیں کیا میں نے
اپنی حالت تباہ کر لی ہے
۔
دو جہاں سے گزر گیا پھر بھی
میں خود کو رہا عمر بھر در پیش
اُس کی دیدار کی اُمید کہاں
جبکہ ہے دید کو نظر در پیش
۔
تمہارے بعد کوئی خاص فرق تو نہ ہوا
جُزیں قدر کے وہ پہلی سی زندگی نہ رہی
نکال ڈالئیے دل سے ہماری یادوں کو
یقین کیجئیے ہم میں وہ بات ہی نہ رہی
جہاں فروز تھا یادش بخیر اپنا جنوں
پھر اُس کے بعد کسی شے میں دل کشی نہ رہی
۔
اک لمحے کو تیر کرنے میں
میں نے ایک زندگی گنوائی ہے
تُو ہے آخر کہاں کہ آج مُجھے
بے طرح اپنی یاد آئی ہے
جانِ جاں تُجھ سے دُوبدو ہو کر
میں نے آج خود سے شکست کھائی ہے
عشق میرے گُماں میں یارا
دل کی ایک زور آزمائی ہے
اُس میں رہ کر بھی میں نہیں اُس میں
جانیے دل میں کیا سمائی ہے
۔
اب نہیں دل میں وہ سوزِ انتظار
زندگی شاید گزاری جا چکی
اے متاعِ روزگارِ عاشقاں!
عشق کی بازی تو ہاری جا چُکی
۔
دل میں ایک آگ ہے سو ہے لیکن
کوئی معنی نہیں مُحبت کے
نشہ چڑھنے لگا اُداسی کا
پھول مہکے ہیں شامِ فرقت کے
۔
تری صورت کو دیکھ کر مری جان
خودبخود دل میں پیار اُٹھتا ہے
کون ہے جس کو جاں عزیز نہیں؟
لے ترا جانثار اُٹھتا ہے
کربِ تنہائی ہے وہ شے کہ خدا
آدمی کو پُکار اُٹھتا ہے
۔
لمحے لمحے کی نارسائی ہے
زندگی حالتِ جُدائی ہے
اب یہ صورت ہے جانِ جاں کہ تجھے
بھولنے میں مری بُھلائی ہے
۔
کہتے ہیں انتہائی عشق جِسے
ایک فقط کھیل ہے مُروت کا
زندگی کی غزل تمام ہوئی
قافیہ رہ گیا مُحبت کا
۔
مدتوں اُن کے تصور میں گزاریں راتیں
مدتوں اُن کی توجہ سے گریزاں بھی رہے
ایک سایہ مرا مسیحا تھا
کون جانے وہ کون تھا، کیا تھا
ایک ہی اپنا ملنے والا تھا
ایسا بچھڑا کہ پھر ملا ہی نہیں