It began well,with a mini travelogue of Egypt,and visits to the pyramids. Later,also his impressions about Vienna and Baghdad. Plus,recollections about his experiences in World War II. Also,some beautiful lyrical prose,which Shafiq ur Rehman was so good at writing. But,for the most part,the book was needlessly lengthy. Even,the appearance of Shaitan couldn't liven things up. A good part of the book would have been more suitable for the author's personal diary. I had to do a great deal of skimming. Not his best effort. (2.5 stars,rounded up)
کتاب مزاح اور ماضی کے دریچوں کا ایک منفرد امتزاج ہے. کتاب میں چار سفرنامے نما افسانے ہیں جو الگ الگ کردار رکھتے ہیں. میرا یسندیدہ افسانہ 'دھند' ہے اور اوّلین افسانے 'نیل' کا اختتام ایک عجب پرلطف اداسی پیدا کرتا ہے۔ اب دل و دماغ پر ایک عجیب سی بے زاری چھا چکی ہے کہ جو کتب آغاز سے ہی اپنا فسوں قائم نہ رکھ سکیں، ان کو جلد ختم کرنے کی خواہش ساتھ ساتھ چلتی ہے. سوائے دھند کے، کوئی اور افسانہ نہ ہنسا سکا۔
ایسے تمام ادیب جن کو روٹی ٹکر وقت پر مل جاتا اور بہت اچھا مل جاتا ہے وہ مذاح کی چوٹ لگاتے ہیں اور بہت دھیمے مذاج سے یوں کہ قطرہ قطرہ دل میں اتر جائے یہ بات مصنف کے لیے سچ ہے۔ زیر نظر ناول/ سفرنامہ یا آپ بیتی ہے اس کا اندازہ پڑھتے وقت بلکہ نہیں ہوتا کیونکہ یہ شاید تینوں کا ملغوبہ ہے ارے ملغوبہ تو لڑکی کا نام ہے جس پر گھوڑا عاشق ہوا تھا۔۔۔ کتاب میں دوسرے حصے میں پہاڑی درے پر رہتے ہوئے گھوڑے کے معاشقوں کا ذکر ہے یاد رہے کہ گھوڑا انسانی نام ہے ۔اب یہ اندازہ لگانا نہایت مشکل ہے کہ گھوڑا انسانی شکل میں پیدا ہوا تھا یا گھوڑے کو کوئی بدعا لگی کہ وہ انسان بن گیا ۔مشکوک ، فلسفی، ڈاکڑ ، انجینیر ، کیمسٹ بھی اسی کیمپ کے باسی ہیں جو سفر کو رنگین اور بدمزہ کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ کچھ اور لڑکیوں کا ذکر بھی ہے جن میں کوئی خوبصورت نہیں تھی اسلیے سب کو گڈمڈ کر چکا ہوں اور ان کا ذکر بے معانی ہے ۔
کتاب کا آغاز مصر اور احرام مصر کی تاریخ سے کیا جاتا ہے جس کے بعد یورپی دوست کی ادھوری محبت کا کی کہانی ہے ۔ کتاب کا تیسرا حصہ نہایت دلچسپ ہے جس میں دریائے ڈینیوب پر واقعات قاری کو ویانا شہر کی تاریخ میں لے جاتے ہیں خانہ بدوشوں کا ڈانس، پرکشن (percussion ) کی ایجاد سب اسی شہر سے جڑی ہیں اور شاید یہ کہاوت بھی " جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے آپنے آپ کو مار لینا چاہیے" آخری سفر دجلہ اور بغداد کا بہت ہے جو پڑھنے کے لائق ہے تاریخ کو گپوں میں بیان کر جانا شاید رواتیی تاریخ لکھنے سے ذیادہ بہتر ہے اور لکھاری کو اس میں کمال حاصل ہے۔
if some body picks a book with a name Shafiq ur Rehman as an author on it one expects a piece of humor that tickle your rib but if that effect is found wanting then there is a feeling of disappointment same is the case with this book the ratio of humor is less then desired it resembles more with Mad o Jazr which was again a serious affair but a boring one , so if you want to enjoy Shafiq ur Rahman then opt for his other books like Himaqatein ,Mazeed Himaqatein etc