Sharīf Husain (Urdu: شریف حسین), who used the pseudonym Nasīm Hijāzī (Urdu: نسیم حجازی, commonly transliterated as Naseem Hijazi, or Nasim Hijazi) was an Urdu writer famous for writing Islamic Historical fiction. Born in British India he settled in Lahore, Pakistan after independence. His novels based on Islamic history are considered one of a kind in Urdu literature.
Another well written book by Naseem Hijazi. And again a must read.
This book is filled with roller coasters of emotions. There'll be a time where you'll be brimming with tears and a time will come where you are charged with determination and sometimes you'll just be laughing.
A story of a soldier who is not foreign to the feelings of love and devotion. Something made these soldiers different from today. You'll see a total different approach of these people on how they perceived the world. It's truly amazing. No wonder they were successful in their conquests of Sindh, Spain, and Central Asia, and it's because of their sacrifices and strength that we are still Muslims.
You can't finish this book without making dua for these soldiers of Allah (s.w.t), who laid their today for our tomorrow.
نسیم حجازی کا ناول "داستانِ مجاہد" اردو ادب میں تاریخی ناولوں میں شامل ایک معروف کتاب ہے۔ 1944 میں شائع ہونے والا یہ ناول خلافتِ امویہ کے عہد کی فتوحات، خاص طور پر فتحِ اندلس، سندھ، وسط ایشیا اور مغرب کے واقعات کو افسانوی انداز میں پیش کرتا ہے۔ نسیم حجازی نے اسلامی تاریخ کے سنہری دور کو سادہ مگر پرجوش اسلوب میں بیان کیا، جو قارئین کو تاریخی حقائق سے جوڑتے ہوئے ان میں ایمان، جہاد اور قربانی کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔
ناول کی کہانی 635ء سے 715ء کے درمیان کے واقعات پر مبنی ہے، جب مسلم کمانڈرز جیسے محمد بن قاسم، طارق بن زیاد اور قتبیہ بن مسلم نے اپنی بہادری سے مسلم سلطنت کی سرحدیں وسعت دیں۔ نسیم حجازی نے 1938ء میں اسلامی تاریخ کے مطالعے کے دوران اس ناول کا خیال پایا، جب انہیں تاریخ کا ہر صفحہ ایک دلچسپ افسانے کی مانند لگا۔ انہوں نے تاریخی واقعات کو افسانوی رنگ دے کر ایک ایسی داستان بنائی جو قاری کو نہ صرف تاریخی معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ اسے جذباتی اور فکری طور پر بھی متاثر کرتی ہے۔ ناول ہسپانیہ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں مسلم فتوحات کے کارناموں کو اجاگر کرتا ہے، جو اس دور کی عسکری کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
"داستانِ مجاہد" کے کردار جاندار اور متاثر کن ہیں، جو اسلامی اقدار کی عکاسی کرتے ہیں۔ صابرہ ایک مضبوط اور دیندار خاتون ہیں، جو اپنے بیٹوں عبداللہ اور نعیم کو مجاہد بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ عبدالرحمن وفاداری اور جہاد کے جذبے کا مظہر ہے، جبکہ عبداللہ ایک بے لوث کردار ہے جو اپنے بھائی نعیم کی خوشی کے لیے اپنی محبت قربان کرتا ہے۔ نعیم ایک چنچل نوجوان سے ماہر جنگجو اور خطیب بنتا ہے، اور عذرا کی زندگی خاندانی رشتوں اور رومانی کشمکش کے گرد گھومتی ہے۔ تاریخی شخصیات جیسے محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد بھی ناول کا حصہ ہیں۔ نسیم حجازی کی منظر کشی اس ناول کی خاصیت ہے، جو قاری کو میدانِ جنگ اور خلافت کے ایوانوں میں لے جاتی ہے۔ ان کے مکالمے کرداروں کے جذبات اور فکری رجحانات کو واضح کرتے ہیں، جو قاری کو کہانی سے جوڑے رکھتے ہیں۔
ناول ایمان، بہادری، قربانی اور بھائی چارے جیسے موضوعات کو اجاگر کرتا ہے۔ جہاد اور شہادت کو ایک قابلِ قدر عمل کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو اس دور کے مسلم جنگجوؤں کی اسلام سے محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ عبداللہ اور نعیم کے درمیان بھائی چارہ اور عذرا سے متعلق رومانی عناصر کہانی میں جذباتی گہرائی پیدا کرتے ہیں۔ ناول ان اقدار کے زوال کا بھی ذکر کرتا ہے، جو مسلم معاشرے کی کمزوری کا باعث بنا، اور یہ پیغام دیتا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ان اصولوں کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
"داستانِ مجاہد" ایک قابلِ مطالعہ ناول ہے، جو اسلامی تاریخ کے عظیم کارناموں کو سادہ مگر دلکش انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ ناول اردو ادب میں تاریخی فکشن کی صنف کو مضبوط کرنے کے ساتھ قارئین کو اپنی تاریخ سے جوڑتا ہے۔ اگر آپ اسلامی تاریخ اور جہاد کی داستانوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ ناول آپ کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔
اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم جہاد نہیں کرتے الله کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر جویہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں اس بستی سے نکال جس کے. لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئ ہمایتی و مددگار بھیج دے ۔ (سورہ نسا آیت 75) یوں تو اسلامی تاریخ دنیا کی تمام قوموں سے زیادہ روشن ہے دنیا نے اس قوم کا عروج و زوال دونوں دیکھا ہے لیکن اس کتاب کے اندر تاریخ اسلام کے اس رنگین دور کی جھلکیاں پیش کی گئی ہیں جب مغرب و مشرق کی وادیاں اور صحرا و سمندر مجاہدین اسلام کی تلواروں کے ساۓ میں فتح کے نقارے بجاتے ہوئے اٹھ رہی تھیں ۔ ایران و روما اور اندلس و ہندوستان کی سرزمین کے اندر اسلام کے چراغ روشن ہو رہے تھے۔ اس دور میں ایک مسلمان کے لیے اسلام کی سربلندی دنیا کی ہر خواہش سے بڑھ کر تھی ۔ یہ وہ دور تھا جب ایک مجاہد کے لیے تلواروں کی جھنکار کسی رقاصہ کے تھرکتے ہوئے بدن سے زیادہ محبوب تھی ۔جس کے لیے اس کے بیوی بچے اور جان سے زیادہ اسلام کی بلندی اور سرخروئ معنی رکھتی تھی۔ یہ مجاہدین اسی جزبہ کے ساتھ میدان میں اترتے تھے جس جزبے نے 313 کو ایک ہزار کے سامنے لا کھڑا کیا تھا ۔ جب وہ گھوڑوں پر سوار ہو کر نکلتے تھے تب موت بھی ان سے ڈر کر دور بھاگتی تھی کیوںکہ موت انہیں اس طرح عزیز تھی جس طرح ہمیں زندگی۔ سب سے خوبصورت چیز جو مجھے اس کتاب میں لگی وہ دو بھائیوں کے درمیان کی محبت تھی جس نے مجھے بے حد متاثر کیا آج کے دور میں رشتوں کے درمیان ایسی محبت ناپید ہو چکی ہیں ۔ اگر آپ اسلامی تاریخ میں کوئ خاص دلچسپی نہیں رکھتے تب بھی یہ کتاب آپ کو مایوس نہیں کریگی , نسیم حجازی کہانی کو اس خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کرتے ہیں جو واقعی قابل ستائش ہے۔ اور اگر آپ نے اب تک ان کا کوئی ناول نہیں پڑھا ہے تو شروعات اس کتاب سے کریں ۔ اور جیسا کہ مصنف نے خود لکھا ہے اگر ہمارے نوجوان غفلت اور جہالت کے پردے اٹھا کر اس روشن زمانے کی معمولی سی جھلک بھی دیکھ سکییں تو مستقبل کے لیے انہیں ایک ایسی شاہراہ عمل نظر آئ گی جو کہکشاں سے زیادہ درخشاں ہے۔ ___________________________
Best from Naseem Hijazi Dastan-e-Mujahid isn’t just about battles, it's about hearts that beat for faith, brothers who’d bleed for each other, and mothers who let their sons walk into danger with only prayers to shield them. It smells of dust and steel, tastes of loss and honour, and leaves you carrying its courage long after the last page closes.
আমার পড়া প্রথম উপন্যাস। মনে আছে, ক্লাস ফোর এ থাকতে রমজান মাসে পড়েছিলাম। এতটাই ভালো লেগেছিল যে বই একবার পড়ে আবার প্রথম পেজ থেকে দ্বিতীয়বার পড়েছিলাম। আর বই পড়া শেষে কেনো জানি, অঝোর ধারায় কাদঁছিলাম।
This entire review has been hidden because of spoilers.
এই বইয়ের মধ্য দিয়ে খুব সুন্দর ভাবে প্রকাশ পেয়েছে দুই ভাইয়ের মধ্যকার সম্পর্ক যেখানে ভালোবাসা, শ্রদ্ধা ও ত্যাগ সবকিছুই ছিলো । এছাড়া এই বইটি আমায়- বর্তমান এই পৃথিবীতে এখনো ইসলামের ঝান্ডা উদিত থাকার পেছনে এ রকম হাজারো মুজাহিদিন এবং লাখো মা বোনদের ত্যাগ এর কথা স্মরণ করিয়ে দে। তবে বইয়ের একটি অংশে নয়ীমের পুএ সন্তান পাবার আকাঙ্ক্ষা আমার কাছে অযৌক্তিক+হতাশাজনক মনে হয়েছে । তবে over all বই টা ভালোই ছিলো। এই writer এর লেখা বই গুলোর মধ্যে আমার পড়া এটা দ্বিতীয় বই। inshallah বাকি গুলোও পড়া হয়ে যাবে। 😊
This entire review has been hidden because of spoilers.
An amazing read <3 The way the main character is described, his feelings, his bravery makes you fall in love with the book and read each and every line with ever lasting curiosity. Ask me for a novel of Naseem Hijazi to read, I would recommend Dastan e Mujazid <3
A beautiful narration of the life of two brothers, their sacrifices for each other and their dedication towards their faith. A book which teaches a lot of lessons in life.