Sharīf Husain (Urdu: شریف حسین), who used the pseudonym Nasīm Hijāzī (Urdu: نسیم حجازی, commonly transliterated as Naseem Hijazi, or Nasim Hijazi) was an Urdu writer famous for writing Islamic Historical fiction. Born in British India he settled in Lahore, Pakistan after independence. His novels based on Islamic history are considered one of a kind in Urdu literature.
Prejudiced-that's what each word of this book tells about the writer. When you hate a person, you start attacking their physical features...such immaturity!
نسیم حجازی کا ناول "انسان اور دیوتا" اردو ادب میں ایک اہم تخلیق ہے۔ جو تاریخی، سماجی اور فکری سطح پر قدیم ہندوستان کے ذات پات کے نظام کی گہرائیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ 1944 میں شائع ہونے والا یہ ناول نہ صرف برصغیر کے تہذیبی پس منظر میں ہندو معاشرے کی ناانصافیوں اور مذہبی استبداد کو اجاگر کرتا ہے بلکہ انسانیت، مساوات اور محبت کا ایک عالمگیر پیغام بھی پیش کرتا ہے۔ نسیم حجازی نے اپنے پرجوش اور مقصدی اسلوب میں برہمنوادی نظام کی خامیوں اور شودروں پر روا رکھے گئے ظلم و ستم کو اس قدر مؤثر انداز میں بیان کیا ہے کہ یہ ناول محض ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ ایک فکری تحریک بن جاتا ہے۔ اس کی زبان عام فہم مگر اثر انگیز ہے، جو مذہبی، اخلاقی اور سماجی مباحث کو نہایت عمدگی سے سمیٹتی ہے، قاری کی فکر کو جھنجھوڑتی ہے اور اسے سماجی نابرابری کے خلاف سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
ناول کی کہانی سکھ دیو نامی ایک برہمن جرنیل کے گرد گھومتی ہے، جو ابتدا میں اعلیٰ ذات کے تصورات سے متاثر ہو کر شودروں کو کمتر سمجھتا ہے۔ لیکن جب وہ ایک شودر لڑکی کنول سے محبت کر بیٹھتا ہے، اس کے تمام تر تعصبات چیلنج ہوتے ہیں۔ یہ رومانی کہانی نہ صرف ذات پات کی دیواروں کو گرانے کی علامت بنتی ہے بلکہ انسانی وقار اور آزادی کا استعارہ بھی ہے۔ سکھ دیو اور کنول کا ایک چرواہوں کے گاؤں میں پناہ لینا ناول کا ایک اہم موڑ ہے، جہاں سے ایک نئی فکری تحریک جنم لیتی ہے۔ گاؤں کے سردار رامو کا کردار اس بیانیے کو مزید گہرائی دیتا ہے، جو نچلی ذاتوں کے لیے نئے دیوتاؤں کی تخلیق کی تجویز پیش کرتا ہے۔ یہ تجویز مذہب کے سیاسی استعمال اور اس کی ساختگی پر ایک گہرا طنز ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مذہب جب طاقت کے ہاتھوں میں آتا ہے تو ظلم کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ نسیم حجازی کی یہ بصیرت ناول کو ایک تہذیبی انقلاب کی شکل دیتی ہے، جو تاریخی فکشن سے آگے بڑھ کر سماجی اصلاح کا پیغام بن جاتی ہے۔
"انسان اور دیوتا" صرف ہندو سماج پر تنقید نہیں بلکہ اسلامی مساوات کے تصور کی ایک مؤثر تبلیغ بھی ہے۔ ناول اس اصول پر زور دیتا ہے کہ اگر خدا ایک ہے تو اس کی مخلوق بھی یکساں ہے، اور انسانوں کے درمیان اعلیٰ و ادنیٰ کی تفریق فطرت اور عقل کے خلاف ہے۔ نسیم حجازی اس پیغام کو نہایت خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں کہ انسانی مساوات اسلام کا بنیادی ستون ہے، جبکہ ذات پات کا نظام انسانیت کے وقار کو پامال کرتا ہے۔ یہ ناول برصغیر کی اس فضا میں لکھا گیا جب تحریکِ آزادی عروج پر تھی اور مسلمانوں میں ایک الگ قومیت کی سوچ پروان چڑھ رہی تھی۔ مصنف نے ہندو معاشرتی رویوں کو ایک انتباہی انداز میں پیش کرتے ہوئے سیاسی و تہذیبی شعور کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر ان الفاظ کے ذریعے کہ "کہیں تمہیں بھی شودروں کی طرح ذبح نہ کر دیا جائے"۔ یہ پیغام آج بھی اپنی معنویت اور بصیرت برقرار رکھتا ہے۔
یہ ناول نہ صرف ادبی لذت فراہم کرتا ہے بلکہ ایک نظریاتی بیداری کا ذریعہ بھی ہے۔ سکھ دیو اور کنول کی محبت کی کہانی قارئین کے دلوں میں گہرا اثر چھوڑتی ہے، جبکہ رامو جیسے کردار سماجی ڈھانچے کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ نسیم حجازی اپنے قارئین، خصوصاً نوجوانوں کو، علم اور جدیدیت کے حصول کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکیں۔ "انسان اور دیوتا" ایک ایسی کتاب ہے جو ماضی کی تلخیوں کو حال کی آنکھ سے دکھاتی ہے اور مستقبل کے لیے راہ متعین کرتی ہے۔ یہ ہر اس شخص کے لیے لازمی مطالعہ ہے جو برابری، انصاف اور سماجی اصلاح کے لیے فکرمند ہے، کیونکہ یہ ناول نہ صرف تاریخی بصیرت دیتا ہے بلکہ ایک گہرا اخلاقی سبق بھی سکھاتا ہے
It was a good read but not of that high standard like other of naseem hijaz's books. One might get a feeling of story being dragged a bit towards end, but despite all this a good book, would definitely recommend it ☺☺☺☺