Jump to ratings and reviews
Rate this book

Insaan Aur Devta / انسان اور دیوتا

Rate this book

408 pages, Hardcover

Published January 1, 2014

10 people are currently reading
236 people want to read

About the author

Naseem Hijazi

87 books311 followers
Sharīf Husain (Urdu: شریف حسین), who used the pseudonym Nasīm Hijāzī (Urdu: نسیم حجازی, commonly transliterated as Naseem Hijazi, or Nasim Hijazi) was an Urdu writer famous for writing Islamic Historical fiction. Born in British India he settled in Lahore, Pakistan after independence. His novels based on Islamic history are considered one of a kind in Urdu literature.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
48 (32%)
4 stars
37 (24%)
3 stars
46 (30%)
2 stars
12 (8%)
1 star
6 (4%)
Displaying 1 - 10 of 10 reviews
1 review1 follower
Read
January 27, 2016
insan aur dewta
by naseem hajazi
This entire review has been hidden because of spoilers.
Profile Image for AsimaB.
226 reviews5 followers
April 17, 2023
Prejudiced-that's what each word of this book tells about the writer.
When you hate a person, you start attacking their physical features...such immaturity!
1 review1 follower
January 14, 2015
The book was not really bad but it sure did take its sweet time to start getting interesting.
Profile Image for Abdul Ahad.
23 reviews1 follower
April 15, 2025
نسیم حجازی کا ناول "انسان اور دیوتا" اردو ادب میں ایک اہم تخلیق ہے۔ جو تاریخی، سماجی اور فکری سطح پر قدیم ہندوستان کے ذات پات کے نظام کی گہرائیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ 1944 میں شائع ہونے والا یہ ناول نہ صرف برصغیر کے تہذیبی پس منظر میں ہندو معاشرے کی ناانصافیوں اور مذہبی استبداد کو اجاگر کرتا ہے بلکہ انسانیت، مساوات اور محبت کا ایک عالمگیر پیغام بھی پیش کرتا ہے۔ نسیم حجازی نے اپنے پرجوش اور مقصدی اسلوب میں برہمنوادی نظام کی خامیوں اور شودروں پر روا رکھے گئے ظلم و ستم کو اس قدر مؤثر انداز میں بیان کیا ہے کہ یہ ناول محض ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ ایک فکری تحریک بن جاتا ہے۔ اس کی زبان عام فہم مگر اثر انگیز ہے، جو مذہبی، اخلاقی اور سماجی مباحث کو نہایت عمدگی سے سمیٹتی ہے، قاری کی فکر کو جھنجھوڑتی ہے اور اسے سماجی نابرابری کے خلاف سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔

ناول کی کہانی سکھ دیو نامی ایک برہمن جرنیل کے گرد گھومتی ہے، جو ابتدا میں اعلیٰ ذات کے تصورات سے متاثر ہو کر شودروں کو کمتر سمجھتا ہے۔ لیکن جب وہ ایک شودر لڑکی کنول سے محبت کر بیٹھتا ہے، اس کے تمام تر تعصبات چیلنج ہوتے ہیں۔ یہ رومانی کہانی نہ صرف ذات پات کی دیواروں کو گرانے کی علامت بنتی ہے بلکہ انسانی وقار اور آزادی کا استعارہ بھی ہے۔ سکھ دیو اور کنول کا ایک چرواہوں کے گاؤں میں پناہ لینا ناول کا ایک اہم موڑ ہے، جہاں سے ایک نئی فکری تحریک جنم لیتی ہے۔ گاؤں کے سردار رامو کا کردار اس بیانیے کو مزید گہرائی دیتا ہے، جو نچلی ذاتوں کے لیے نئے دیوتاؤں کی تخلیق کی تجویز پیش کرتا ہے۔ یہ تجویز مذہب کے سیاسی استعمال اور اس کی ساختگی پر ایک گہرا طنز ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مذہب جب طاقت کے ہاتھوں میں آتا ہے تو ظلم کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ نسیم حجازی کی یہ بصیرت ناول کو ایک تہذیبی انقلاب کی شکل دیتی ہے، جو تاریخی فکشن سے آگے بڑھ کر سماجی اصلاح کا پیغام بن جاتی ہے۔

"انسان اور دیوتا" صرف ہندو سماج پر تنقید نہیں بلکہ اسلامی مساوات کے تصور کی ایک مؤثر تبلیغ بھی ہے۔ ناول اس اصول پر زور دیتا ہے کہ اگر خدا ایک ہے تو اس کی مخلوق بھی یکساں ہے، اور انسانوں کے درمیان اعلیٰ و ادنیٰ کی تفریق فطرت اور عقل کے خلاف ہے۔ نسیم حجازی اس پیغام کو نہایت خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں کہ انسانی مساوات اسلام کا بنیادی ستون ہے، جبکہ ذات پات کا نظام انسانیت کے وقار کو پامال کرتا ہے۔ یہ ناول برصغیر کی اس فضا میں لکھا گیا جب تحریکِ آزادی عروج پر تھی اور مسلمانوں میں ایک الگ قومیت کی سوچ پروان چڑھ رہی تھی۔ مصنف نے ہندو معاشرتی رویوں کو ایک انتباہی انداز میں پیش کرتے ہوئے سیاسی و تہذیبی شعور کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر ان الفاظ کے ذریعے کہ "کہیں تمہیں بھی شودروں کی طرح ذبح نہ کر دیا جائے"۔ یہ پیغام آج بھی اپنی معنویت اور بصیرت برقرار رکھتا ہے۔

یہ ناول نہ صرف ادبی لذت فراہم کرتا ہے بلکہ ایک نظریاتی بیداری کا ذریعہ بھی ہے۔ سکھ دیو اور کنول کی محبت کی کہانی قارئین کے دلوں میں گہرا اثر چھوڑتی ہے، جبکہ رامو جیسے کردار سماجی ڈھانچے کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ نسیم حجازی اپنے قارئین، خصوصاً نوجوانوں کو، علم اور جدیدیت کے حصول کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکیں۔ "انسان اور دیوتا" ایک ایسی کتاب ہے جو ماضی کی تلخیوں کو حال کی آنکھ سے دکھاتی ہے اور مستقبل کے لیے راہ متعین کرتی ہے۔ یہ ہر اس شخص کے لیے لازمی مطالعہ ہے جو برابری، انصاف اور سماجی اصلاح کے لیے فکرمند ہے، کیونکہ یہ ناول نہ صرف تاریخی بصیرت دیتا ہے بلکہ ایک گہرا اخلاقی سبق بھی سکھاتا ہے
59 reviews
February 21, 2023
It was a good read but not of that high standard like other of naseem hijaz's books. One might get a feeling of story being dragged a bit towards end, but despite all this a good book, would definitely recommend it ☺☺☺☺
Profile Image for Saad.
98 reviews4 followers
July 26, 2020
Best novel of Naseem hijazi, very amazing love story
30 reviews
February 8, 2025
If you like Naseem Hijazi, you should go Infront of mirror and tell yourself, that you are an idiot!
Profile Image for Muneeb Iqbal.
14 reviews
September 30, 2015
It was a good book a little different then what I was expecting but gives you insight of Hindu religion and culture
Displaying 1 - 10 of 10 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.