Jump to ratings and reviews
Rate this book

Charagh Talay / چراغ تلے

Rate this book
مشتاق احمد یوسفی نے اردو مزاح کو ایک نئے مزاج سے آشنا کیا ہے۔ یہ مزاج اس کا اپنا مزاج ہے۔

اس رنگا رنگ مجموعے میں ایسے رچے ہوئے مزاج کی جھلکیاں نظر‌ آتی ہیں، جو چوٹ کھا کر بدمزہ نہیں ہوتا۔ طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا دیکھ کر اس کی پیشانی پر بل نہیں پڑتے بلکہ سوچ کی گہری لکیریں ابھر آتی ہیں، جو دیکھتے دیکھتے تبسم زیرِ لب میں تحلیل ہو جاتی ہیں۔ وہ ہنسی ہنسی میں کام کی بات کہہ جاتا ہے۔ دوسروں پر ہنسنے سے پہلے اس نے اپنے ہی داغوں کی بہار دکھا کر دوسروں کو ہنسایا ہے اور پھر خود بھی اس ہنسی میں شریک ہو گیا ہے۔ یوسفی کا مزاح شگفتہ و شاداب ہے، اور اس کا طنز کڑی کمان کا تیر، ان مضامین میں تفکر و تفنن کا ایک خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ اور تحریر کا تیکھا اور رسیلا اسلوب، مشاہدے کی وسعت اور طبیعت کے نکھار کا پتا دیتا ہے۔ وہ لہجے کے اتار چڑھاؤ کی نزاکتوں سے واقف ہے اور الفاظ کا مزاج پہچانتا ہے۔

یہی چیز ایک ایک لفظ کو تلوار اور ہر ایک مضمون کو خندۂ تیغِ اصیل بنا دیتی ہے۔

182 pages, Hardcover

First published January 1, 1961

118 people are currently reading
2118 people want to read

About the author

Mushtaq Ahmad Yousufi

17 books180 followers
Mushtaq Ahmad Yousufi D.Litt (HC), SI, HI is an Urdu satirical and humor writer from Pakistan. Banker by profession, Yousufi has also served as the head of several national and international financial institutions.
He has received Sitara-e-Imtiaz and Hilal-e-Imtiaz, the highest civil honors by the Government of Pakistan. He was also given the highest literary award by Pakistan Academy of Letters in 1999 the Kamal-e-Fun Award.
His books have received many awards and critical acclaim.

Yousufi was born in British India in a learned family. His father Abdul Karim Khan Yousufi was chairman of the Jaipur Municipality, and later Speaker of the Jaipur Legislative Assembly. Yousufi completed his early education in Rajputana and earned B.A. from Agra University while M.A. Philosophy and LL.B from Aligarh University. After partition of India his family migrated to Karachi, Pakistan.

Ibn-e-Insha, himself an Urdu satirist and humourist, wrote about Yousufi: "...if ever we could give a name to the literary humour of our time, then the only name that comes to mind is that of Yousufi!"
Another scholar Dr Zaheer Fatehpuri wrote, "We are living in the '...Yousufi era' of Urdu literary humour..."
The Yousufi era started in 1961 when Yousufi's first book Chiragh Talay was published.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
286 (53%)
4 stars
166 (31%)
3 stars
41 (7%)
2 stars
24 (4%)
1 star
13 (2%)
Displaying 1 - 30 of 39 reviews
Profile Image for Sana.
59 reviews48 followers
April 7, 2013
April 6, 2013:

Some of my favorite excerpts from this book:

ترقی یافتہ ممالک میں مارچ کا مہینہ بے حد بہار آفریں ہوتا ہے۔یہ وہ مہینہ ہے جس میں سبزہ اوس کھا کھا کر ہرا ہوتا ہے اور ایک طرف دامنِ صحرا موتیوں سے بھر جاتا ہے تو دوسری طرف "موجہ گُل سے چراغاں ہے گزر گاہِ خیال"
اس تمہید دل پذیر سے میرا یہ مطلب نہیں کہ اس کے بر عکس پسماندہ ممالک میں اس مست مہینے میں پت جھڑ ہوتا ہے اور "بجائے گل چمنوں میں کمر کمر ہے کھاد" توجہ صرف اس امر کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ بر صغیر میں یہ فصلِ گل آبادی کے سب سے معصوم اور بے گناہ طبقے کے لئے ایک نئے ذہنی کرب کا پیغام لاتی ہے' جس میں چار سال سے لے کر چوبیس سال کی عمر تک کے سبھی مبتلا نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ سالانہ امتحانوں کا موسم ہوتا ہے۔ خدا جا نے محکمہ تعلیم نے اس زمانے میں امتحانات رکھنے میں کون سی ایسی مصلحت دیکھی ورنہ عاجز کی رائے میں اس ذہنی عذاب کے لئے جنوری اور جون کے مہینے نہایت مناسب رہیں گے۔ یہ اس لئے عرض کر رہا ہوں کہ کلاسیکی ٹریجڈی کے لئے موسم انتہائی ضروری تصور کیا گیا ہے۔

-------------------------
۔۔۔۔۔۔۔وہ نفسیات کے کسی فارمولے کی گمراہ کن روشنی میں اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ مل کر بچھڑنے میں جو دکھ ہوتا ہے ' وہ ذرا دیر مل بیٹھنے کی وقتی خوشی سے سات گنا شدید اور دیر پا ہوتا ہے اور وہ بیٹھے بٹھائے اپنے دکھوں میں اضافہ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ سنا یہ ہے کہ وہ اپنے بعض دوستوں کو محض اس بنا پر محبوب رکھتے ہیں کہ وہ ان سے پہلے مر چکے تھے اور از بہکن ان سے ملاقات کا امکان مستقبل قریب میں نظر نہیں آتا تھا لہذا ان کی یادوں کو حنوط کر کے انہوں نے اپنے دل کے ممی خانے میں بڑے قرینے سے سجا رکھا تھا۔

-------------------------
(اس مضمون میں مشتاق احمد یوسفی نے کافی کے لئے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔)
ایک صاحب نے مجھے لاجواب کرنے کی خاطر یہ دلیل پیش کی کہ امریکہ میں تو کافی اس قدر عام ہے کہ جیل میں بھی پلائی جاتی ہے۔ عرض کیا کہ جب قیدی خود اس پر احتجاج نہیں کرتے تو ہمیں کیا پڑی کہ وکولت کریں۔ پاکستانی جیلوں میں بھی قیدیوں کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جائے تو انسدادِ جرائم میں کافی مدد ملے گی۔ پھر انہوں نے بتلایا کہ وہاں لاعلاج مریضوں کو بشاش رکھنے کی غرض سے کافی پلائی جاتی ہے۔ کافی کے سریع التاثیر ہونے میں کیا کلام ہے۔ میرا خیال ہے کہ دم نزع حلق میں پانی چوانے کے بجائے کافی کے دو چار قطرے ٹپکا دیئے جائںک تو مریض کا دم آسانی سے نکل جائے۔

-------------------------

ایمان کی بات یہ ہے کہ جھو ٹے الزام کو سمجھدار آدمی نہایت اعتماد سے ہنس کر ٹال دیتا ہے مگر سچے الزام سے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔

-------------------------

سنا ہے کہ شا ئستہ آدمی کی یہ پہچان ہے کہ اگر آپ اس سے کہیں کہ مجھے فلاں بیماری ہے تو وہ کوئی آزمودہ دوا نہ بتائے۔ شائستگی کا یہ سخت معیار صحیح تسلیم کر لیا جائے تو ہمارے ملک میں سوائے ڈاکٹروں کے کوئی اللہ کا بندہ شائستہ کہلانے کا مستحق نہ نکلے۔

-------------------------

میرا یہ دعوی نہیں کہ ہنسنے سے سفید بال کالے ہو جاتے ہیں' اتنا ضرور ہے کہ پھر وہ اتنے بُرے معلوم نہیں ہوتے۔

-------------------------
Profile Image for Sara Saif.
574 reviews241 followers
May 29, 2016
I've only read essays such as the ones in Charagh Talay before in my Urdu textbooks in high school and onward. It's been so long since I've read something like this. The experience was invigorating. I am little ashamed to admit that 50% of the Urdu idioms and phrases went straight over my head and very proud to admit that I understood the other 50%. In my defense, this is pre-simplification garhi (dense) Urdu while the one we use today is 75% English. Nevertheless, I was enormously amused and am looking forward to reading more books like these.

There are 13 satirical essays, each focusing on a different thing. I noticed how frequently Mirza Abdul Wadood Baig (no idea who he is besides being the author's friend) was mentioned. His bickering with the writer always lead to some really funny moments. I have a ton of favorite quotes from the book now:


کسی شخص کی شاءستگی اور شرافت کا اندازہ آپ صرف اس سے لگا سکتے ہیں کہ وہ فرصت کے لمحات میں کیا کرتا ہے اور رات کو کس قسم کے خواب دیکھتا ہے۔
نۓ خانساماں نے جو قورمہ پکایا، اسمیں شوربے کا یہ عالم تھا کہ ناک پکڑ کر غوطے لگائیں تو شاید کوئی بوٹی ہاتھ آ جاۓ۔
پییشانی اور سر کی حد فاصل اڑ چکی ہے۔ لھاذا منہ دھوتے وقت سمجھ میں نھیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔
حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا۔
عمر کی اس منزل پر آ پہنچا ہوں کہ اگر کوئی سن ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا لیتا ہوں۔

Profile Image for Ammara Abid.
205 reviews170 followers
March 10, 2016
ایک ہم ہیں کہ هوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں جنہیں چایے کے ارماں ہوں گے

:') ^_^ :'D
Profile Image for Farjad.
106 reviews
April 17, 2021
Many people may disagree (surely they will do) with me, i dont consider him as a comedy author or humorist. He is a philosopher who hid his gems under the veil of comedy. I would suggest to read him with this point of view you will surely agree with me. I found "charpai or culture" and "junnon e latifah" humorous but at the same time "kaghzi hei peirhan" and "sinf e laghar" let us taste the cultural mentality and evaluate our literary palate.
Profile Image for Professor .
44 reviews9 followers
October 11, 2014
One of those one-go-read which can really lighten up your mood! :)
Profile Image for Amir Sheikh.
1 review12 followers
May 3, 2017
چراغ تلے پڑھ کے تاثر پڑتا ہے کہ گویا یوسفی صاحب کو ہر موجودہ شے سے چڑ ہے لیکن اصل لطف ان کے انداز بیان میں ہے۔ مشکل سے مشکل پیراے اور کڑوے سے کڑوے سچ کو جس احسن انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت یوسفی صاحب کو حاصل ہے، فی زمانہ کسی اور مصنف میں نظر نہیں آتی۔ چراغ تلے کے مضامین اس بات کا زندہ ثبوت ہیں۔
Profile Image for W.
1,185 reviews4 followers
September 14, 2019
A much quicker read compared to Zarguzasht,with easier language.Plenty of moments to smile about,but overall the humour in Zarguzasht was more enjoyable.
846 reviews34 followers
September 30, 2022
پڑیے گر بیمار" مضمون اچھا تھا"

-:کچھ اقتباسات


مشرقی افریقہ کے اس انگریز افسر کا نسخہ تو سبھی کو معلوم ہے جس کی مزے دار کافی کے سارےضلع میں دھوم تھی۔ ایک دن اس نے ایک نہایت پر تکلف دعوت کی جس میں اس کے حبشی خانساماں نے بہت خوش ذائقہ کافی بنائی۔ انگریز نے بنظر حوصلہ افزائی اس کو معزز مہمانوں کے سامنے طلب کیا اور کافی بنانے کی ترکیب پوچھی۔
حبشی نے جواب دیا۔ ”بہت ہی سہل طریقہ ہے۔ میں بہت سا کھولتا ہوا پانی اور دودھ لیتا ہوں۔پھر اس میں کافی ملا کر دم
“کرتا ہوں۔
“لیکن اسے حل کیسے کرتے ہیں؟ بہت مہین چھنی ہوتی ہے۔”
“حضور کے موزے میں چھانتا ہوں”
کیا مطلب؟ کیا تم میرے قیمتی ریشمی موزے استعمال کرتے ہو؟”
آقا نے غضب ناک کر پوچھا۔
خانساماں سہم گیا۔ ”نہیں سر کار میں آپ کے صاف موزے کبھی
“استعمال نہیں کرتا۔
(کافی)

کسی شخص کی شائستگی اور شرافت کا اندازہ آپ صرف اس سے لگا سکتے ہیں کہ وہ فرصت کے لمحات میں کیا کرتا ہے اور رات کو کس قسم کے خواب دیکھتا ہے۔
(چارپائی اور کلچر)

غور کیجئے تو مباحثے اور مناظرے کے لیے چارپائی سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ اس کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ فریقین آمنے سامنے نہیں بلکہ عموماً اپنے حریف کی پیٹھ کا سہارا لے کر آرام سے بیٹھتے ہیں۔ اور بحث و تکرار کے لئے اس سے بہتر طرز نشست ممکن نہیں۔ کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ فریقین کو ایک دوسرے کی صورت نظر نہ آۓ تو کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے۔ اس بنا پر میرا عرصے سے یہ خیال ہے کہ اگر بین الاقوامی مذاکرات گول میز نہ ہوئے ہوتے تو لاکھوں جانیں تلف ہونے سے بچ جائیں۔ آپ نے خود دیکھا ہو گا کہ لدی پھندی چارپائیوں پر لوگ پیٹ بھر کے اپنوں کی غیبت کرتے ہیں مگر دل برے نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ سبھی جانتے ہیں کہ غیبت اس کی ہوتی ہے جسے اپنا سمجھتے ہیں۔ اور کچھ یوں بھی ہے کہ ہمارے ہاں غیبت سے مقصود قطع محبت ہے نہ گزارش احوال
“واقعی بلکہ محفل میں ”لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
(چارپائی اور کلچر)

محض کرکٹ ہی پر منحصر نہیں، ترقی یافتہ ممالک میں یہ رجحان عام ہے کہ تعلیم نہایت آسان اور تفریح روز بروز مشکل ہوتی جاتی ہے (مثلا بی اے کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، مگر برج سیکھنے کے لئے عقل درکار ہے) ریڈیو، ٹیلیویژن، سینما اور باتصویر کتابوں نے اب تعلیم کو بالکل آسان اور عام کر دیا ہے، لیکن کھیل دن بدن گراں اور پچیدہ ہوتے جا رہے ہیں لہذا بعض غبی لڑکے کھیل سے جی چرا کر تعلیم کی طرف زیادہ توجہ دینے لگے ہیں۔ اس سے جو سبق آموز نتائج رونما ہوۓ وہ سیاست دانوں کی صورت میں ہم سب کے سامنے ہیں۔
(کرکٹ)




Profile Image for Zaki.
77 reviews62 followers
December 14, 2018
اگر ہنستے ہنستے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں تو یوسفی کو پڑھئیے۔
"انگریزوں کا وتیرہ ہے کہ وہ کسی عمارت کو اس وقت تک خاطر میں نہیں لاتے جب تک وہ کھنڈر نہ ہو جائے۔ اسی طرح ہمارے ہاں بعض محتاط حضرات کسی کے حق میں کلمہ خیر کہنا روا نہیں سمجھتے تاوقتیکہ ممدوح کا چہلم نہ ہو جائے۔"
Profile Image for Sama Tariq.
31 reviews1 follower
April 23, 2019
It is an exceptionally good read. No amount of words can explain how good a writer mustaq ahmad yousufi was. Every topic of the book teaches you a heavy lesson in a very lighter way. I had a lot of 'laughing out loud' moments throughout the book. And at tge same time it successfully makes you aware of all the ugly truths that we know subconsciously. Moreover the sarcastic tone mixed with humor keeps the reader glued to the book. Hats off to this brilliant piece of literature.
Profile Image for Unni.
157 reviews14 followers
May 27, 2025
"انگریزوں کا وتیرہ ہے کہ وہ کسی عمارت کو اس وقت تک خاطر میں نہیں لاتے جب تک وہ کھنڈر نہ ہو جائے۔ "
Tanz at its best (atleast from what I have read)
There was soo much between the lines... I would read it again, after some years...
Profile Image for Saad Din.
125 reviews8 followers
December 29, 2020
its a first book by Yousufi Saheb which established him as a prolific humorist in Urdu literature; I have gone thru his latter books much earlier then this first installment, my observation regarding his works is bit different from most of the people; I consider him to be a bit heavy on reader as far as genre of humor is concerned his selection of language is bit too literary and difficult he should have opted for simpler and easier to read language his difficult narrative style has hidden many humorous situations that could have entertained the readers but were deprived, he has lighten his style in his latter works but the ratio of humor is always on the lower side.
To select the best from it I choose very first chapter "Muqadema" and the last "Qaghazi hai perahan"
the best and real laugh riot.
Profile Image for Syed Ali Hussain Bukhari.
232 reviews4 followers
April 19, 2023
چراغ تلے
از: مشتاق احمد یوسفی

یوسفی صاحب کی تحریروں سے پہلی بار آشنائ میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کی اردو ٹیکسٹ بکس (Textbooks) کے توسط سے ہوئ تھی اور ہم ان کی پہلی تصنیف کے دو منتخب شدہ مضامین؛
"اور آنا گھر میں مرغیوں کا"
اور
"کرکٹ"
کے مطالعہ سے محظوظ ہوئے تھے۔
ازاں بعد حلقہء احباب میں اکثر ان کی تحریروں کے چٹکلوں سے طبیعت شاداں و فرحاں ہوتی رہی۔ اور ظرافت کے اسی اچھوتے انداز نے دل بیقرار کیا اور بالآخر ایک، دو نشستوں میں یہ کتاب ختم شد۔۔۔

یوسفی صاحب کا انداز بیاں دلفریب اور ایسا پرکشش ہے کہ آدمی ان کے مزاح سے دلی سکون حاصل کر کے کھلکھلا کر دل سے ہنستا ہے؛ اور جملوں کو بار بار پڑھے اور ہر بار ان سے لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
اس مجموعے سے جو مضامین مجھے بہت ہی بھائے، ان کے عنوانات درج ذیل ہیں:
"پہلا پتھر"
"یادش بخیریا"
اور آنا گھر میں مرغیوں کا"
"صنف لاغر"
"موسموں کا شہر"

اور سب سے بڑھ کر

"چارپائ اور کلچر"

مؤخر الذکر کا تو جواب نہیں! بہت اعلی! شاندار!

لازمی پڑھیں!
Profile Image for Maryam.
23 reviews32 followers
May 23, 2016
یوسفی صاحب کا انداز بیاں شائستہ ہے. ایک طرف تو یہ کچھ طنز اور کچھ مزاح لئے ہوئے ہے مگر دوسری طرف سنجیدہ موضوعات پر ہلکے پھلکے انداز میں اس طرح گفتگو کی گئی ہے کہ بری بھی نہ لگے اور انسان کو سوچنے پر مجبور کر دے
Profile Image for Muhammad Waqas.
73 reviews11 followers
September 9, 2012
Yousufi sb always treat to read. On of the finest writer currently we have. A true legend.
Profile Image for Rizwan Mehmood.
172 reviews10 followers
April 5, 2023
3.5⭐️
جملے کمال کے لکھے ہیں۔ لیکن کئی جگہ بور بھی کیا۔
52 reviews8 followers
September 23, 2020
Light melody and classic articulation. Graceful comic, enriched with established and meaningful realities.
A fine blend of well researched / experienced and carefully selected words, which not only carries longing smile but also explain common phenomenos.
Profile Image for Emmi.
30 reviews
November 3, 2021
I still can't stop laugh at what the Children did with the rooster..dead lol😂
Profile Image for Ammar.
27 reviews1 follower
January 25, 2020
صناع ہیں سب خوار،ازاں جملہ ہوں میں بھی
ہے عیب بڑا اس میں جسے کچھ ہنر آوے
-میر

اردو ادب میں مزاح نگاری کا عظیم نام، مشتاق احمد یوسفی، معاشرے کو آئینہ تو دکھاتے ہیں لیکن قہقے کے ساتھ۔ ایک انٹرویو میں انور مسعود نے کہا تھا کہ میرے نزدیک قہقہ وہ ہے جسے نچھوڑیں تو اس سے آنسو ٹھپکیں۔ بلکل یہی احساس مشتاق صاحب کی کچھ تحریروں میں ملتا ہے۔
Profile Image for Waqas Nasir.
19 reviews4 followers
March 21, 2019
One of best book i read in this category and someone rightly said to me when you read this one time and your would definitely recommend to read this again and again. ...
Displaying 1 - 30 of 39 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.