شمع کی لو تھی کہ وہ تُو تھا مگر ہجر کی رات
دیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے
آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر
جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
...
جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھی
دیکھا تو وہ تصویر ہر اک دل سے لگی تھی
...
دل نے نہ مانا کہ کسی اور کے رستے پہ چلیں
لاکھ گمراہ ہوئے نقشِ قدم سے اپنے
میرے دامن کے مقدر میں ہے خالی رہنا
آپ شرمندہ نہ ہوں دستِ کرم سے اپنے
...
کیسے پایا تھا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے
مجھ سا منکر بھی تو قائل ہوگیا تقدیر کا
جس کو بھی چاہا اسے شدت سے چاہا ہے فراز
سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا
...
غمِ دنیا میں غمِ یار بھی شامل کرلو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
تُو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پر کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کے نصابوں میں ملیں
...
میں کہ پرشور سمندر تھے میرے پاؤں میں
اب کہ ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں
نامرادی کا یہ عالم ہے کہ اب یاد نہیں
تُو بھی شامل تھا کبھی میری تمناؤں میں
...