Colonel Muhammad Khan (Urdu: کرنل محمد خان) is a Pakistan Army officer and a writer. He also served in British Indian Army and was a veteran of World War II. While serving in Pakistan Army, he wrote his first book Bajung Aamad (Urdu: بجنگ آمد) which is a humorous account of his life in Iraq, Libya and Egypt as a soldier during World War II. This book became extremely popular and earned him critically acclaimed prominence among Urdu humorists. He is considered one of the most influential authors of this genre. He is mostly known as Colonel Muhammad Khan to distinguish him from other bearers of this common name, despite his efforts to be recognised by his birth name. Later editions of his books show his name as just Muhammad Khan. He wrote following books:
ہر لفظ دل چسپ۔ ۔ ۔ ہر سطر قہقہہ بار۔ ۔ ۔ اگر اس مبالغے سے تھوڑا غلو منہا کردیں اور کہا جائے کہ ہر واقعہ دل چسپ اور ہر حصہ قہقہہ بار تو کتاب کی صحیح تعریف ہوگی۔ بسلامت روی ستر کی دہائی میں کئے گئے سفر کا احوال ہے جو کرنل محمد خان کے روایتی مزاحیہ انداز میں لکھا گیا ہے۔ ۔ ۔ اور خوب لکھا گیا ہے!۔ الفاظ کا بے مثال چناؤ، برمحل اشعار کا چھڑکاؤ، تراکیب کا الٹ پھیر، واقعات کی روانی اور کرداروں کی حشر سامانی (جس میں غالب ذکر صنفِ نازک کے حُسن و کمالات کا ہے) کتاب کے انفرادی نشان ہیں۔
ابتدائے احوال، سفر سے قبل پاکستان میں پیش آنے والی سرکاری رکاوٹوں سے ہوتا ہے اور پی آئی اے کی ہوائی میزبانوں کا نہایت جامع اور دل آویز احاطہ کرتا ہوا کراچی پہنچتا ہے۔ وہاں سے پھر لبنان کی دو روزہ سیاحت، جنیوا کا دو روزہ قیام اور بالآخر برطانیہ کی سہ ماہی مصروفیات تک جا کر دم لیتا ہے۔ برطانیہ کے ماہ و دن سفر کا سب سے طویل حصہ ہیں۔ یہاں آکرکتاب کچھ سست روی کا شکار نظر آتی ہے شاید غیر ضروری طوالت کی وجہ سے یا واقعات کی کسی حد تک یکسانیت کی وجہ سے۔ تاہم برطانیہ کے بعد بڑی سرعت کے ساتھ پیرس، فرینکفرٹ، استنبول اور تہران کے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے جس کے بعد کتاب ختم شُد۔ ۔ ۔ یوں جیسے کسی نے جلدی میں اپنا دفتر سمیٹ دیا ہو۔
اردو روایت کے عین مطابق اس سفرنامے میں بھی صنفِ نازک کی بھر مار ہے مگر اس انداز سے کہ مسکراہٹ ہے چہرے پہ کھیلتی رہتی۔ اگر آپ خالصتاً وقت گزاری کے لیے ہلکا پھلکا* مزاح پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کو مایوس نہیں کر گی۔ اگر کتاب کچھ مختصر ہوتی تو یہ پنج ستارہ کی حقدار تھی مگر شاید جو مجھے کمی لگی وہ کسی اور کی نظر میں خوبی ہو۔ ۔ ۔ آزمائیے اور بتائیے۔
نوٹ*ہلکا پھلکا صرف واقعات کے ضمن میں۔ اگر آپ موڈرون انگریزی زدہ برگر ہیں تو کتاب کی زبان آپ کو 'ٹف ٹائم' ضرور دے گی۔ شکریہ۔
If Colonel Muhammad Khan had written just one book,Bajang Amad,that would have been enough to cement his place among the best Urdu humourists.That,however,was a hard act to follow .His second book,Basalamat Ravi,while not bad,inevitably suffers in comparison.
عرصہ ء دراز بعد ایسی کتاب ہاتھ لگی جس کے ہر صفحے پر باقاعدہ قہقہے نکل رہے تھے۔ باقاعدہ طور پر پہلا سفر نامہ ہے جسے میں نے پورا پڑھا اور بصد شوق پڑھا۔ 200 صفحات کے بعد البتہ کچھ یکسانیت سی ہونے لگی تھی ، کتاب کی طوالت کم ہوتی تو اور مزا دیتی ۔ لیکن انداز بیاں ، بر محل جملے ، محاورے اور غالب اور میر کو دی گئی سلامیاں بہت کافی ہیں کسی بھی انسان کو اس کتاب کے مطالعے پر اکسانے کے لئے۔۔۔
مصنف کا انداز بڑا شگتفہ مگر فارسیت میں ڈوبا ہوا ہے۔ بہت اچھا ہوتا کہ اس میں رومانوی عنصر کم رکھتے اور یہ "معشوق نامہ" کی جگہ سفر نامہ ہی رہتا۔ اس بات کا اعتراف خود مصنف نے "بزم آرائیاں" میں بھی کیا ہے۔