کہف ایسے کرداروں کی کہانی ہے جنہیں زندگی میں پیش آنے والے ناخوشگوار تجربات مختلف سانچوں میں ڈھال دیتے ہیں۔
یہ کہانی ہے مہر گریسن کی، جو اپنے ماضی کے پچھتاوؤں کی غار میں قید ہے۔ مہر گریسن جو کہ کبھی ایک انتہائی رحم دل لڑکی ہوا کرتی تھی، جس نے سڑک پر بھوک سے روتے بچے کو دیکھ کر ایک یتیم خانے کی بنیاد رکھی مگر اس کی زندگی میں رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعے نے رحم دل مہر گریسن کو انتقامی لیڈی مہر میں بدل دیا، جس نے اپنی فطرت کے برخلاف ایک ایسا گناہ کر دیا جس کی وجہ سے وہ تمام عمر پچھتاوے کا شکار رہتی ہے اور اس پچھتاوے کی سزا وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی دیتی ہے۔ یہاں مہر گریسن کا کردار دو مختلف انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔
یہ کہانی ہے میری بین سن کی جو اپنی ماضی کے خوف کے غار میں قید ہے۔ جو چند پیسوں کے لالچ میں کسی کے گناہ میں اس کی مدد کرتی ہے مگر احساس ہونے پر اس گناہ کی تلافی کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ مگر قدرت کو اس کی آزمائش منظور ہوتی ہے اور وہ اس آزمائش کو اپنے گناہ کی سزا سمجھتی ہے۔ میری اسلام قبول کر کے ماریہ بن جاتی ہے مگر حالات اس کے لیے کٹھن سے کٹھن تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔
اور یہ کہانی ہے انجلین اور یتیم خانے میں پناہ لینے والے ان چھوٹے بچوں کی جو اپنے مستقبل کے اندیشوں کی غار میں قید ہیں۔ انجلین اپنی اصلی نرم طبیعت کے باعث ہر کسی کا بھلا چاہتی ہو اور ہر کسی کی مدد کرتی ہے مگر انسانی چہروں سے پے در پے اٹھنے والے نقاب اسے مضمحل کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کہانی میں کچھ ضمنی کردار بھی ہیں۔
ناول کی تھیم بظاہر مرڈر مسٹری، ایڈونچر اور تھرل ہے جسے مذہب کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس قسم کی تھیم میں جب کہانی کو ان فولڈ کیا جاتا ہے تو پزل کے سارے ٹکڑے جوڑے جاتے ہیں۔ اس تھیم کا پلاٹ قدرے پیچیدہ ہوتا ہے۔ مصنف نے ناول میں ٹوئسٹ پیدا کرنے کے لیے اور قاری کے تجسس کو ہوا دینے کے لیے کہانی کو پھیلایا تو بہت مگر پھر وہ آخر میں کہانی کے سارے ڈاٹس کنیکٹ نہیں کر پائے جس کی وجہ سے کہانی میں بہت سے لوپ ہولز رہ گئے ۔ اگر کہانی کی طوالت کم رکھی جاتی تو کہانی بہتر ہوتی اور پلاٹ بھی مربوط ہوتا۔
اور اب باری ہے سب سے اہم بات کی۔ مصنف نے کہانی کے کرداروں کو اصحاب کہف سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس ناول کی ٹیگ لائن ہے "غار سے نکلو گے تو سکون آئے گا"، یعنی اس ناول کے سارے مرکزی کردار اپنی دنیاوی زندگی میں کی گئی غلطیوں کی وجہ سے پچھتاوے یا خوف کے غار میں قید ہیں اور اس غار سے نکلنے کی کوشش کرتے دکھائے دیتے ہیں۔ اصحاب کہف اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ انہوں نے اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے اللہ کے حکم سے غار میں پناہ لی تھی۔ اور اللہ نے انہیں غار میں حفاظت کے ساتھ ساتھ پرسکون نیند بھی عطا کی، یعنی وہ غار میں پرسکون اور محفوظ تھے جبکہ اس ناول کے کردار اپنی غلطیوں اور گناہوں کی وجہ سے اپنی ذات کے کمزور پہلوؤں کےغار میں قید ہیں اور بے سکون ہیں۔
تو ان کرداروں کی مماثلت اصحاب کہف سے کیسے ہوئی؟
جو مماثلت مصنف نے بیان کی ہے کہ ہر کردار جب کسی مشکل میں پھنستا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک غار میں بند محسوس کرتا ہے تو جیسے اصحاب کہف نے غار میں جانے کے بعد سب سے پہلے اللہ سے دعا کی تھی، تو وہ کردار بھی چونکہ یا تو اسلام قبول کر چکا ہوتا ہے یا پھر اس راستے پر ہوتا ہے تو وہ بھی مشکل حالات میں سب سے پہلے اس واقعہ کو یاد کر کے، خود کو اصحاب کہف میں شمار کر کے، اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے۔ اس بات کو ہم اللہ پر توکل اور دعا کی اہمیت سے تو منسلک کر سکتے ہیں مگر ان نو مسلم کرداروں کو اصحاب کہف سے نہیں جوڑ سکتے۔ ویسے بھی جب بھی کوئی انسان مشکل میں ہوتا ہے تو وہ اس مشکل کو ایک بند غار کی طرح ہی سمجھتا ہے جس سے نکلنے کے لیے وہ ہمیشہ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہر انسان اصحاب کہف میں شمار ہوگا؟ اور مصنف نے پیش لفظ میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس ناول کا تھیم شروع میں صرف ایڈونچر ہی تھا، مذہب کے بارے میں بات کرنے کا انہوں نے نہیں سوچا تھا۔ مگر پھر ایک دن سورہ کہف کی آیات کی تلاوت کرتے ہوئے اللہ نے ان کے ذہن میں یہ بات ڈالی تو انہوں نے سورہ کہف کی آیات پر تدبر کرنے کے بارے میں سوچا ۔ اس سے پہلے وہ کہانی شروع کر چکے تھے اور ناول کے سارے کردار غیر مسلم تھے۔ وہ یہ موقع گنوانا نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے کہانی میں بدلاؤ کیے اور غیر مسلم کرداروں کو اسلام سے جوڑا۔ میرے خیال میں اگر وہ یہ سب نہ کرتے اور کہانی کو زبردستی سورہ کہف کے واقعہ سے جوڑنے کی کوشش نہ کرتے تو شاید یہ ایک بہتر ناول ہوتا۔
انسان کی زندگی مجموعہ ہے واقعات و حادثات کا، کبھی خوشگوار جو زندگی کو نئی جہت بخشتے ہیں، اور کبھی ناخوشگوار واقعات و حادثات جو زندگی پر بعض دفعہ انتہائی منفی اور گہرے اثرات چھوڑ دیتے ہیں، اور اکثر اوقات انسان اپنی تمام زندگی ہی اس اثر میں گزار دیتا جو انسان کو کسی اندھیری غار میں دھکیل دیتی ہے، جہاں روشنی کا نام و نشان نہیں ہے،
اب ایسے میں انسان نکلنے کی کوشش بھی کرئے تو اسکو ماضی کے پچھتاوے وہاں جامد کر دیتے ہیں، دراصل اگر ناخوشگوار حادثات چھوٹی غار ہے تو ماضی کے پچھتاوے ایک انتہائی تنگ و تاریک اور بڑی غار ثابت ہوتی ہے ، جس سے انسان کا نکلنا مشکل ہوتا ہے مگر ناممکن نہیں،
جی ہاں، دنیا میں ناممکن تو کچھ بھی نہیں ہے، بس انسان ہمت کرئے اللہ پاک سے اسکی رحمت کی دعا کرئے تو اللہ پاک انسان کو ایسے راستے دیتا ہے جہاں سے انسان کا گمان بھی نہیں ہوتا، یوں انسان اس غار سے نکلتا ہے، مگر شرط سے پہلے دل سے اللہ سے رجوع کیا جائے اور دوبارہ سے وہ ہی سب نہیں دہرانا چاہیے جو انسان اپنے ماضی میں کرتا آیا ہے.
کہف یعنی غار ، اندھیرا، مشکلات، رحمت کی طلب ، روشنی اور غار سے چھٹکارا، یہ ہی وہ تمام اسباق ہ واقعات ہیں جو میں نے عبداللہ وسیم کے ناول کہف میں پڑھے، کہف ناول نہیں بلکہ یہ ایک سفر ہے جرم سے سزا کا، اندھیرے سے روشنی کا اور آزمائش سے انعام کا، یہ سفر کبھی اپکو بےتاب کرتا ہے اور کبھی حیران، کہانی کے اندر ہر کردار کی ایک کہانی ہے ماضی سے حال کی، انکی غلطیوں اور پچھتاؤں کی، جو ایک دوسرے connect ہے،
یہ ناول دیگر روایتی ناولوں سے بہت مختلف اور جدا ہے، اس کی کہانی اور کردار ہی اسکو منفرد بناتے ہیں، اور جس بہترین انداز میں عبداللہ وسیم بھائی نے کہانی کو اصحاب کہف سے جوڑا ہے، اور اس کے ذریعے ہمیں توکل اور دعا کی اہمیت کا بتاتا ہے، یہ قارئین کو اپنے سحر میں لے جاتا ہے، اور سوچوں کو نئی جہت سے نوازتا یے، اور کہانی کے آخر میں ایک adventure twist آتا ہے، جو اپنی مثال آپ ہے اور یہ دیگر ناولوں میں کم ہی ملتا اور اس ناول کو دوسروں سے جدا اور منفرد بناتا ہے.
آخر میں اتنا کہوں گا یہ کہانی دلچسپ ہے اور اس انداز میں قلم بند کی گئی ہے یہ کبھی اپنے قاری کو بور نہیں ہونے دے گی، جیسے جیسے صفحات گزرے گے آپ کہانی کے بارے میں متجسس رہے گے اور مزید دلچسپی لیں گے، اور یہ کہانی مجھ سمیت اپنے قارئین کے دلون پر ہمیشہ راج کرتی رہے گی اور قارئین ہمیشہ اسکو دوبارہ پڑھنے کے خواہاں رہے گے.
زندگی پیچیدگیوں اور الجھنوں سے بھری ایک کتاب ہے ۔یہاں اسکے ہر کردار کو دو ہتھیار قدرت کی طرف سے عطا کئے گئے ہیں، دونوں ہی اپنی اپنی جگہ بھت بھاری مقام رکھتے ہیں، کیونکہ یہ ہتھیار ہیں" اچھائی اور برائی کے ہتھیار"۔۔۔ اگر کوئی کردار اچھائی کا ہتھیار تھامتا ہے تو وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ برائی کا ہتھیار تھامتا ہے تو وہ اسکا تیز وار ہمیشہ تھامنے والے کو ہی جھیلنا پڑتا ہے کیونکہ یہ ہتھیار باہر تو اس کردار کو رنگینیوں میں کھوے رکھتا ہے لیکن اندر سے اپنا وار برقرار رکھتا ہے، بس پھر یہ ہمیشہ پچھتاوؤں اور تاریکیوں میں گھرا رہتا ہے۔۔۔ لیکن اس وار سے بچنے یا اس سے پیچھا چھڑانے کے لئے اس کردار ک مالک نے اس کیلیئے ایک عظیم راستہ تجویز کیا ہوتا ہے اور وہ راستہ ہوتا ہے........ " ہدایت کا راستہ" ہاں اور ہدایت اس کردار کو اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک وہ اپنے مالک سے اسکی طلب نہیں کرتا ،اور یہ طلب اتنی گہری ت اور سچی تو ہونی ہی چاہیے کہ وہ اسکی زندگی کا رخ ہی بدل ڑالے، یعنی وہ کردار برائی کے ہتھیار کو چھوڑ کر اچھائی کا ہتھیار تھام لے۔ آزمائشیں اور مشکلات تو ہر موڑ پہ کھڑی رہتی ہیں لیکن ان سے مقابلہ ایک ہی ہتھیار سے کرنا چاہیے جو انکو امر رکھتا ہے ، یہی ایک ہدایت یافتہ کردار کی نشانی ہوتی ہے، اور ہر کردار کو یہ سفر کرنا ہی پڑتا ہے (برائی سے اچھائی کا) کیونکہ وہ انسان کی صفات رکھتا ہے نہ کی فرشتے کی اور بقول کہف ""غار سے نکلو گے تو سکون پاؤگے""..
بس یہی داستان سناتا ہے یہ "کہف براۓ عبداللہ وسیم"۔ اسکے تمام کردار اپنا اپنا سفر طے کرتے ہیں اور غار سے نکلنے کا راستہ ہدایت کے زریعہ ڑھونڈ لیتے ہیں۔ بس انسان کی سچی طلب ہی اسکو غار سے نکالنے کا زریعہ بنتی ہے ۔بے شک کہانی کی ترتیب اور سورہ کہف کے حوالاجات بہت خوبصورت انداز میں سیٹ کیۓ گیۓ ہیں ۔ اور میں ہر اس انسان کو یہ کہانی تجویز کرنا چاہوں گی جو اس وقت اپنے اپنے غار میں مقید ہیں اور بہادری سے اس غار سے نکلنا چاہیے ہیں ۔۔
۔"بے شک وہ سنتا ہے دعا کرنے والوں کو، ہدایت مانگنے والوں کو، غار میں گھرنے والوں کو،" ۔۔۔۔۔۔۔۔
⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️ Just for the eye-opening insights this book gave me.
Ahh, what a book. I feel truly at peace. “Andar ka sukoon hi sab kuch hai.”
Anyone whose life feels like a storm, or whose heart is burdened with guilt, must read this. Whoever picks it up will surely learn to own their mistakes and live with a lighter and peaceful heart.