Jump to ratings and reviews

Asaib Nagri Novel By MA Rahat

479 pages, Paperback

Published January 1, 2010

Loading...
Loading...

About the author

MA Rahat

61 books3 followers

Ratings & Reviews

What do you think?

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
1 (50%)
4 stars
0 (0%)
3 stars
1 (50%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 1 of 1 review
Profile Image for Dil Nawaz.
344 reviews16 followers
September 19, 2026

آسیب کے نام پر تو اس ناول میں اتنے ہی آسیب ہیں جتنے ایک سیب میں بیج ہوتے ہیں۔ میری سمجھ نہیں آ رہا اس کتاب کا نام آسیب نگری کیوں رکھا گیا ہے؟ ہارر سے زیادہ یہ ناول ایک خاندانی چپقلش یا بولو تو دولت کی ہوس یا بولو تو کالے علم پر مبنی ہے۔ آسیب بس اتنا ہی ہے جتنا آٹے میں نمک، لیز چپس میں چپس، اور کوکومو میں کوکومو۔

جس طرح برگر والے اشتہار میں بڑا برگر دکھا کر کرنچی چھوٹی سی زنگر پیٹی چپکا دیتے ہیں اسی طرح اس ناول میں آسیب کے نام پر خاندانی لین دین، شاپنگ، دولت کی ریل پیل، اور آخر میں کچھ بچتا ہے تو وہ آسیب ہوتے ہیں اور ان کے بھی اپنے ہی مسائل چل رہے ہوتے ہیں۔ آسیب کے پھڈے چل رہے ہیں اور نوکرانی بے چاری کھانے پہ کھانا بنا رہی ہے سب کے لیے۔

کہانی کی خاندان سے شروع ہوتی ہے جن کے ابا پاکستان آ کر غائب ہو جاتے ہیں، پھر قتل ہو جاتے ہیں۔ پھر بیٹا ابا کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے پاکستان آتا ہے تو پتہ چلتا ہے ابا کا ڈبہ گل ہو چکا ہے۔ یہ خبر سن کر پورا خاندان منامہ سے اٹھ کر پاکستان آ جاتا ہے بعد میں پتہ چلتا ہے ابا کا تو بزنس کا ایمپائر تھا، زمینیں، فیکٹریاں اور بقول کسی اداکار کے پیسہ ہی پیسہ ہوگا۔

پاکستان آتے ہی خاندانی دشمن جو کہ انسان اور شیطان دونوں ہوتے ہیں ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ دن میں انسان حملہ آور ہوتے ہیں تو رات کو شیطان۔ لیکن جیسے پہلے کہا ہارر کنٹینٹ دس فیصد بھی نہیں ہے میرے خیال سے بہت سے صفحوں کے بعد کوئی ایک ہلکی پھلکی حرکت ہو جاتی ہے۔

اور جی ہمارا ہیرو کیا کہنے ہوائی فائر کرنے والا، اَن دیکھی مخلوق کو للکارنے والا، سیدھا پنگا لے کر پکارنے والا۔ جب رات کو چمگادڑ ہیرو کو گدگدی کرنے آئے تو ہیرو بھی لاٹھی اٹھا کر چمگادڑ کے پیچھے بھاگتا ہے انسان جتنی بڑی چمگادڑ بھی دم دبا کر بھاگ جائے۔

بہرحال میرے حساب سے ناول کا نام یہ بھی رکھ سکتے تھے — تائی کی ہرام پائی۔

رانا دل نواز
کراچی
Displaying 1 - 1 of 1 review