Mustansar Hussain Tarar (Urdu: مستنصر حسين تارڑ) is a Pakistani author, actor, the first Morning Show presenter and a pioneer trekker - in his own words: a vagabond.
Having made a name for himself by taking the mantle in Pakistan's mountaineering community, Mustansar Hussain is widely recognized as one of the most well known personalities in Pakistan. Though the origin of his fame is usually considered to be his established and decorated career as a writer, Tarar can also be recognized as the foremost endorser for tourism projects in Northern Areas of Pakistan, having exorbitantly increased the array of tourist exposure to the areas by becoming both a mountaineer and an adventure author who uses these locations as backdrops for his storylines.
Mustansar Hussain's literary proficiency as an author often overshadows the fact that he has been an active mountaineer for a very extensive period of time. Having embarked upon several painstaking and challenging tasks such as the ascension of K-2 and the surpassing of the treacherous "Chitti Buoi" Glacier among others. More significantly, both of Mustansar Hussain's professions often intertwine and relate, since he uses his experiences on his expeditions as travelogues. Though some of his publications have met lukewarm reactions due to supposed exaggeration, he reflects on this predicament with the notion that "words or even pictures cannot successfully express the beauty and splendour of nature in it's true spirit."
Tarar's first book Nikley Teri Talash Main, a travelogue of Europe, was published in 1971. He has so far over forty titles to his credit which include many genres of literature; travelogues, novels, short stories and collection of his newspaper columns and television dramas. He has been one of the best-seller fiction writer of Pakistan.
Mustansar was born in 'Jokalian' a small town in Punjab, Pakistan in March 1939. He spent his early childhood in the village and moved to culturally rich Lahore, witnessed the independence of Pakistan in 1947 and the events that took place at Lahore. His father Rehmat Khan Tarar opened a small seed store there. Mr Tarar got his schooling from Rang Mehal Mission High School and Muslim Model High School, Lahore. He then got admission in Government College Lahore , a college that owns the credit to polish several intellectuals of Pakistan. In 1950's, he went to London for higher studies. In 1957 he attended the World Youth Festival in Moscow and wrote a book named 'Fakhta' (Dove) on that experience. In 1971 his first travelogue Nikley Teri Talaash Main was published. It led to new trend in Urdu literature. He also became a television actor and from 1988 was for many years a host of PTV's live morning transmission Subuh Bakhair (Good Morning). His unconventional and down to earth style of comparing earned him great popularity. He called himself the 'Cha Cha Jee' of all Pakistani children and soon became known by this title.
Awards: Presidential award of Pride of Performance. Prime Minister's award for the Best Novelist for "Rakh". Life time achievement award of Almi Farogh-e-Urdu Adab, Doha (Qatar). Gold Medal bestowed by Moscow State University for literary achievements.
محبت کا ورود کب ہوتا ہے؟ . خاور جو اپنی دنیا میں مگن ٹیلی ویژن اور تحریر کا ایک جانا مانا نام ,بیوی فوت ہو گئی اور دونوں بیٹیاں اپنے بچوں اور شوہروں کے ساتھ امریکہ سیٹل۔ اسلام آباد کے مضافات میں بہارہ سے سملی ڈیم کو جاتے راستے پر سبز دروازے والا گھر ہی اس کی کل کائنات۔ اچانک ایک فون کال اس کی یک رنگی زندگی میں عجیب سا تلاتم لے آتی ہے۔ ۔ یکے بعد دیگرے تین عورتیں ،پاگل خانہ (بڑی عمر کی ایک گریس فل خاتون جو آخر تک بے نام ہی رہتی ہے) ، عابدہ سومرو یا سلطانہ شاہ ہر ایک اپنے آپ میں انتہائی الگ اور عجیب کردار اور اتنی ہی عجیب کہانیاں ان کی ذات سے وابستہ۔ ۔ محبت کی میٹھی ٹیس جب دل میں اٹھی بھی تو کب؟ قربت مرگ میں کہ جب جسم زوال پذیر اور کسی حد تک اس زوال کا عادی ہو چکا؟ ۔ ڈیرہ غازی خان کے پاس غازی گھاٹ سے ایک کشتی میں سوار ہوتا خاور اب کہیں کا نہ رہا تھا۔ بے گھر ہو چکا اسی لیے جانتا نہیں کہ جائے تو کہاں جائے۔اس سفر میں سرور ماما جعفر اور پکھی جیسے پانی کے پھونک بھی اس کے ساتھ ہیں۔کہ صاحب لوگوں کی سیوا پھر چاہے وہ کھانے پینے کی ہو یا جسمانی اس چھوٹی ذات کے لوگوں کا دھرم اور کسی حد تک کمائی کا ذریعہ بھی تو ہے۔پھر فہیم اور عطا اللہ جیسے کردار بھی اس سفر کا حصہ بنتے جو اپنے اپنے عجیب و غریب رنگ اس کہانی میں بھرتے چلے جاتے۔ ۔ اپ کو کتاب میں سب سے زیادہ متاثر کیا کرتا؟ نثر ،کہانی یا کہانی کے ساتھ چلتے انسانی جذبات و احساسات؟ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں آج تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر پایا کہ ایک کتاب یا ایک کہانی میں مجھے کیا متاثر کرتا ہے۔ عموما مجھے وہی ناول متاثر کرتے جو ایک خاص لائن کے ساتھ شروع ہوتے تو کہانی در کہانی در کہانی پھیلتی چلی جاتی کردار پر کردار کھلتے چلے جاتے اور یہ ناول قربت مرگ میں محبت بھی ایسا ہی ایک ناول ہے۔ ۔ پاگل خانہ اپ عابدہ سومرو یا سلطانہ جیسے عجیب کردار اور ان کی ذات کے ساتھ جڑے واقعات بھی اتنے ہی الگ اور عجیب و غریب۔۔کیا آپ میں سے کوئی ایسا ہے کہ پچیس سال انتظار کرے اولاد کو پال پوس لے اور یہ فیصلہ کر رکھا ہو کہ اس نے ایک نہ ایک دن اپنی یک طرفہ محبت کی طرف لوٹنا ہی لوٹنا ہے؟ یا کوئی ایسا کردار جو کسی سے ٹوٹ کر محبت کرے لیکن اچانک اس سے یوں غافل ہو جائے جیسے وہ شخص وجود ہی نہیں رکھتا؟ یا پھر ایک ایسا کردار جو زندگی کے سورج کے ڈھلتے وقت بھی آپ کا ہاتھ تھامنے کو تیار ہو کہ زندگی میں پہلی بار جب وہ آپ کے ساتھ بیٹھا تو اس نے لمبے عرصے بعد اپنے آپ کو حقیقی معنوں میں خوش محسوس کیا؟ ۔ ایک اچھی کہانی پڑھ کر مجھے ہمیشہ احساس ہوتا ہے کہ ایک عمدہ ناول کی تمام اجزاء اور کردار اپ کے ارد گرد ہی موجود ہوتے ہیں۔ بس آپ کو کہانی کہنے اور لکھنے کا ڈھنگ آنا چاہیے پھر ان کرداروں کو اپنے علاقے اور وطن کی مٹی میں گوند لیں تو وہ پڑھنے والوں کے ایک بڑے طبقے کو ضرور متاثر کرے گی ۔ آپ ادب پڑھتے ہیں اور کچھ ہٹ کے اور الگ سا پڑھنا چاہتے ہیں تو اس ناول کو کم از کم ایک بار تو پڑھا ہی جا سکتا ہے کہ چاچا تارڑ کہانی کو لکھنا اور اس کی کرداروں کو برتنا اچھی طرح جانتے ہیں
ان دنوں میں نے محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً اپنا سر کتابوں میں دے رکھا ہے اور یقین جانئیے کہ دنیا میں اس سے اچھی اور عافیت آمیز پناہ کوئی نہیں ہے. کتب بینی وقت کے صحیح استعمال کے ساتھ ساتھ آپکے ذہن کی آبیاری کا کام بھی دیتی ہے اور آپکی سوچ کو بھی مثبت رکھتی ہے.
تین چار انگریزی کتب پڑھ لینے کے بعد میرے لیے ایک اردو کتاب پڑھنا لازم ہوتا ہے سو اس بار نظر انتخاب ٹھہری تارڑ صاحب کے ناول "قربت مرگ میں محبت" پر.... گو کہ میں نے تارڑ صاحب کے سفرنامے تو بہتیرے پڑھ رکھے ہیں مگر انکا ناول اب تک صرف "پیار کا پہلا شہر" ہی پڑھا ہے، اور بہت بار پڑھا ہے مگر اس بات کو بھی کم از کم ایک دہائی گزر چکی ہے... یہ اب تک میرا اردو ناولوں میں سب سے پسندیدہ ترین ناول ہے...
" قربت مرگ میں محبت" کا اسلوب البتہ جداگانہ ہے... جب میں نے یہ ناول شروع کیا تو میں پہلے 100 صفحات تک اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہ قائم کر پائی.... یوں سمجھئیے کہ تارڑ صاحب کا ایک نیا اسلوب سامنے آیا جسے ہضم کرنے میں مجھے تھوڑا وقت لگا.
یہ کہانی ہے ایک ساٹھ سالہ شخص کی جو گو کہ اپنی زندگی میں کسی محبت نامی جذبے کی نہ کمی محسوس کر رہا ہوتا ہے نہ ہی اسکی تلاش میں سرگرداں ہوتا ہے مگر یہ بہرحال عجیب طرح کے حالات میں اسکے دروازے پر دستک دیتی ہے... لیکن یہ محبت کی داستان گھسی پٹی داستانوں سے جدا ہے... اس میں بے یقینی ہے، عارضی پن اور شبہات ہیں... یہ محبت انجام کے خوف سے عاری اور جذبات کے بے انت بہاؤ میں بہتی معلوم ہوتی ہے.
⚜️کہانی کی بنت⚜️بہت کمال ہے گو کہ اسمیں ماضی اور حال ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور بعض جگہوں پر تو دونوں زمانوں کے لیے ابواب بھی الگ نہیں کیے گئے مگر پھر بھی قاری کے ذہن میں کوئی ابہام باقی نہیں رہتا.... کہانی بنیادی طور پر دریائے سندھ سے بارہ کہو(اسلام آباد) کے درمیان گھومتی ہے. جن حصوں میں دریائے سندھ کا تذکرہ ہے وہاں سندھی ثقافت اور آبی حیات سے ناآشنا قارئین کے لیے بہت دلچسپ تفصیلات ہیں.دریائے سندھ کی قدامت، حسن، اسرار، وہاں موجود آبی حیات سے متعلق تفصیلات دلچسپی سے بھرپور ہیں.
اسی طرح کہانی کے بارے میں جو شبہات رہ جاتے ہیں وہ انجام تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ جاتے ہیں... یہ اور بات ہے کہ کہانی میں ⚜️تجسس کا پہلو⚜️اتنا مضبوط نہیں کہ پہلا منظر ہی آپکو انجام سے متعلق ہلکا سا اشارہ دے دیتا ہے...
جہاں تک ⚜️کرداروں ⚜️کا تعلق ہے تو تمام کردار ایک ڈور میں پروئے ہوئے ہیں.... بلکہ یوں سمجھئیے کہ ایک دوسرے کا عکس معلوم ہوتے ہیں... خود 'خاور' کا کردار، جو کہ مرکزی کردار ہے، بہت جاندار ہے.... اس میں یاسیت بھی ہے، کہیں دانشوری اور کہیں کم فہمی بھی ہے، اور کہیں کہیں بے بسی کا تاثر بھی ہے... لیکن بہرحال یہ کردار حقیقت کے قریب ہے... گو کہ دیگر کرداروں میں سے بیشتر کا نقشہ کھینچھتے ہوئے بہت مبالغے سے کام لیا گیا ہے.
اگر ناول کی ⚜️تھیم یا مرکزی خیال⚜️کا ذکر کیا جائے تو یہیں آ کر یہ ناول دیگر کئی ناولوں سے ممتاز محسوس ہوتا ہے... یہاں کوئی ایک مرکزی خیال نہیں ہے بلکہ معاشرے اور انسانی شخصیت کے بہت سے پہلوؤں سے پردہ اٹھایا گیا ہے.... چونکہ یہ کہانی ایک ادھیڑ عمر شخص کے گرد گھومتی ہے تو اس عمر کے تمام تقاضے، پوشیدہ خواہشات جن کے برملا اظہار سے انسان عموماً خوف کھاتا ہے، جن میں سراہے جانے کی خواہش، تعلق استوار کرنے اور رکھنے کی خواہش، ایک مرد ہونے کی حیثیت میں عورت کے لیے بے نام سے کشش اور اس کشش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عارضی تعلقات، یہ سبھی اس ناول کا حصہ ہیں.
اس کے علاوہ ⚜️موت یا مرگ⚜️بھی اس ناول کی بنیادی تھیم ہے... غور کیا جائے تو موت تارڑ صاحب کے ہاں ایک بار بار دہرایا جانے والا موضوع ہے.... وہ موت کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ اسکی خواہش تو نہیں، البتہ اس میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہوتی ہے.
اس ناول کی ایک تھیم ⚜️عورت⚜️بھی ہے... اور عورت کی ذات کے وہ پہلو جن پر بات کرنے کے لیے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے.. مثلاً، محبت، رقابت، بے وفائی، عارضی تعلق کی استواری اور اسکے ذریعے وقت گزاری، یہ شاید وہ موضوعات ہیں جنہیں عورت کے ساتھ بہت کم جوڑا گیا ہے اور جو اردو ادب میں عورت کے دکھائے گئے conventional روپ سے بہت مختلف ہیں. اب اس سے آپکو اتفاق بھی ہو سکتا ہےاور اختلاف بھی. اسے آپ حقیقت بھی کہہ سکتے ہیں اور مبالغہ بھی
یہ کہانی ⚜️عارضی نوعیت کے تعلقات ⚜️کے بارے میں ایک بہت خوب بیانیہ ہے.... عارضی مگر شدید نوعیت کے جذباتی تعلقات جن سے، خواہ ہم اعتراف کریں یا نہ کریں، ہم میں سے سب کا واسطہ پڑتا ہے... ایسے تعلقات جو کسی وعدے وعید سے نا آشنا، مستقبل کی منصوبہ بندی سے یکسر بے نیاز مگر جذباتیت کی آخری حدوں کو چھوتے محسوس ہوتے ہیں....
اس حساب سے سمجھیں کہ، یہ سطر:
"ہر انسان یہی سمجھتا ہے کہ وہ عارضی پڑاؤ کے طور پر استعمال ہوا جب کہ دوسروں کو اس سے بھی یہی شکایت ہوتی ہے.."
گویا اس ناول کا لب لباب ہے...
اس ناول میں تارڑ کا ⚜️اندازِ بیاں ⚜️بے باکانہ ہے جسے ہضم کرنا میرے جیسے قاری کے لیے تھوڑا مشکل ہے.... اسکے علاوہ⚜️ مبالغہ⚜️ کی بھی کہیں کہیں بے تحاشہ آمیزش ہے.... عورت کو جس طرح سے اس ناول میں پیش کیا گیا ہے، اس سے بھی میں اتفاق نہیں کر پائی... ان میں سے بعض بیان کردہ باتیں گو حقیقت سے قریب ہیں لیکن ان کے اظہار میں بھی بے حد مبالغہ سے کام لیا گیا ہے(آپ سب اختلاف کا حق رکھتے ہیں)..
مثلاً "پکھی" کا کردار اور اسے جس انداز میں پیش کیا گیا،وہ مجھے کسی حد تک بے مقصد محسوس ہوا...گو کہ آپ میں سے کچھ لوگ مجھ سے اختلاف کریں گے، مگر مجھے اردو ادب میں خواتین کے جسمانی خدوخال کے بلاوجہ اور باباکانہ بیان سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے.. کہیں کہیں تو یہ ایک ضرورت ہو سکتا ہے مگر اکثر ایسے ٹکڑے بلاوجہ ہی جوڑے جاتے ہیں، شاید تحریر کی اشتہا بڑھانے کے لیے... "پکھی" کے کردار سے مجھے یہی اختلاف ہے..
جہاں تک ⚜️منظر کشی⚜️کا تعلق ہے تو اس پہلو میں تو تارڑ صاحب کے ہاں کوئی سقم تلاش کرنا ناممکن ہے... تشبیہات اور استعاروں کے استعمال سے ایسا منظر باندھتے ہیں کہ قاری دم بخود پڑھتا چلا جاتا ہے...اب وہ چاہے دریائے سندھ کے مناظر ہوں، گاؤں رسول پور کے احوال کا بیاں ہو، بارہ کہو یا مہرہ مرادو کی خانقاہ ہو، سبھی جگہ منظر کشی کمال ہے.. بلکہ کہیں کہیں تو انکے سفرناموں کا رنگ چھلکنے لگتا ہے...
ناول میں جابجا معاشرے کی تلخ حقیقتوں کا بیان بھی ہے اور ہمارے سیاسی اور کاروباری حلقوں پر چوٹ بھی ہے...
مثلاً بیوروکریسی پر چوٹ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :
ان بیوروکریٹس کی زندگی بھر کی عادت کہ سر اونچا" کر کے ناک کی سیدھ میں دیکھنا اور عوام الناس کو اپنی نگاہ کے قابل بھی نہ سمجھنا اس کے لیے بے حد مفید تھا.. وہ کسی اور کو پہچاننے کی بجائے خود پہچانے جانے کے عادی تھے. "
⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕���⭕⭕
چند مختصر مگر پسندیدہ اقتباسات جو اس ناول کی ہمہ جہتی پر روشنی ڈالتے ہیں :
"ہر تعلق کی.. ایک جاندار کی طرح.. ایک عمر متعین ہوتی ہے"
"عورت آکسفورڈ یونیورسٹی کی ڈیبیٹنگ سوسائٹی کی صدر رہی ہو یا اُپلے تھاپنے والی ہو.. کچی عمر کی ہو یا پک کر گلنے سڑنے کے قریب ہو.. ہر عورت کے اندر قدرت کی جانب سے ایک ریڈار نصب ہوتا ہے جس کی حرکت کرتی ہوئی سوئی تلے جب ایکاور عورت آتی ہے جو ایک مرد کی قربت میں ہو اور وہ مرد اُس کے لئے محض ایک مرد نہ ہو تو ریڈار سکرین پر خدشے کی بیپ بیپ بار بار روشن ہونے لگتی ہے.. "
اب جذبہ رقابت پر اس سے اچھی وضاحت کوئی ہو نہیں سکتی..
" کم پڑھے لکھے لوگ اپنے جذبات پر قابو رکھ کر دوسروں کو بے وقوف بنانے کا گر نہیں جانتے اور جو کچھ وہ محسوس کرتے ہیں اُن کے چہروں پر عیاں ہوتا ہے"
" طبع حرص سے کبھی آزاد نہیں ہوتی اگرچہ بدن حرص کا ساتھ نہیں دے سکتا"
"اسکی کیا توجیہہ ہے کہ ایک عورت گفتگو کے دوران "آپ" سے مخاطب ہوتی ہے پھر یکدم "تم" کہتی ہے اور پھر سے "آپ" کی جانب لوٹ آتی ہے... یہ کچھ لہریں تھیں اس کے اندر جو کنارے کی آخری حدوں تک پہنچ کر اس کی قربت سے چھوتی تھیں تو وہ "تم" ہو جاتا تھا اور وہی لہریں سمٹ کر دور ہونے لگتی تھی تو وہ پھر "آپ" آ جاتا تھا.."
غرضیکہ یہ ناول اپنے مرکزی خیال اور انداز بیاں کے حوالے سے ایک منفرد ناول ہے.... اگر آپ معمول سے ہٹ کر کسی موضوع پر کتاب پڑھنا چاہتے ہیں اور بے باک طرز تحریر کے عادی اور شائق ہیں تو اسے مِس مت کیجئے اور ضرور پڑھئیے ...
ماضی کے دھندلکوں سے جھانکتی ایک ساٹھ سالہ مشہور لکھاری کی عمر رفتہ کی یادوں پر مبنی کہانی جو کہ سندھ کے آبی سفر کے دوران پانیوں کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے ماضی کے اوراق سے نکل کر لمحۂ موجود میں وارد ہوتی ہے اور پڑھنے والے کو دھیرے دھیرے اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیتی ہے۔ یہ منجمد احساسات رکھنے والے ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو کہ عمر کی نو خیزی سے زوال پذیری تک محبت کے ذائقے سے نا آشنا ہوتا ہے اور اپنی صنف کے دیگر لوگوں کے برعکس صنف مخالف میں کوئی خاطر خواہ کشش بھی محسوس نہیں کرتا ہے۔ مگر قربت مرگ میں تین فون کالز کے ذریعے محبت کے مختلف ذائقوں سے آشنا ہوتا ہے مگر محبت کا قرب حاصل پھر بھی نہیں کر پاتا۔
ہر انسان کی محبت مختلف مجبوریوں اور محرومیوں میں لپٹی ہوئی ہوتی ہے۔اور وہ ان کا اظہار بھی ان محرومیوں اور مجبوریوں کے رد عمل کے طور پر کرتا ہے۔ فون کالز کے ذریعے خاور کی زندگی میں آنے والی تینوں عورتوں کی محبت بھی مختلف مجبوریوں اورمحرومیوں میں لپٹی ہوئی تھی۔
قربت مرگ میں مبتلا غلافی آنکھوں والی عورت جس نے ساری زندگی اپنی محبت کو مجبوریوں کے بوجھ تلے دبائے رکھا مگر موت کے بڑھتے قدموں کی آہٹ سے آشنا ہونے اور تمام ذمہ داریاں نپٹانے کے بعد وہ خود کو روک نہ سکی اور محبت کے اظہار کے بعد اپنے محبوب کو کوٹھری میں بند کر کےقفل لگا دیا جس کی کنجی وہ ہمہ وقت اپنے پاس رکھتی تھی اور جب دل چاہتا قفل کھول کر چند ساعتیں محبوب کے سنگ بتا لیتی تھی مگر ان ملاقاتوں کا سارا اختیار وہ اپنے پاس رکھتی تھی۔
جسم پر نیل اور کھرنڈ کے نشانات لیے ہوئے، قربت مرگ کا سوانگ رچانے والی اور اپنی ذات کی مختلف محرومیوں میں مبتلا ایک وڈیرن عابدہ سومرو نے جیسے زندگی کو برتا ویسے ہی محبت اور محبّت کے نام پر خاور کو برتا۔
اور نیلی انکھوں والی ڈاکٹر سلطانہ شاہ جس نے دیس بدلنے کے ساتھ بھیس، سوچ اور عقائد بھی بدل لئے اور بدیسی رنگ میں ڈھل گئی۔ جس کی نیلگوں نگاہوں نے خاور کو عمر کے زوال زدہ حصے میں، قربت مرگ میں محبت سے روشناس کرایا۔ جو خاور کی زندگی میں محض موت کے اسرار سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے آئی تھی، مگر دونوں کو موت نے ہی جدا کر دیا۔
پوری کہانی کو سندھ کے آبی سفر کے دوران ناسٹلجیا کے انداز میں دھیرے دھیرے ماضی کے اوراق کو پلٹتے ہوئے بیان کیا گیا ہے۔ یوں کہانی ماضی اور لمحۂ موجود کے درمیان ہلکورے لیتی رہتی ہے۔ مصنف نے کہانی کے ثانوی کرداروں جعفر، سرور، پکھی اور فہیم کے ذریعے( جنہیں دریائے سندھ کا پونگ کہا گیا ہے) سندھ کی تاریخ و تہذیب، اس کے سینے میں تیرتی بلہنوں، ٹاپوں پر بسیرا کرتے پکھیروں، سندھ کا گھیراؤ کرتے سرکنڈوں اور سروٹوں اور رات کے اندھیرے میں ستاروں سے سجے آسمان کی منظر کشی اس قدر خوبصورت انداز میں اور جزئیات کے ساتھ کی ہے کہ پڑھنے والا ان مناظر کو اپنے سامنے متحرک محسوس کرتا ہے۔ ماماں جعفر سندھ کے گہرے راز سینے میں چھپائے ہوئے ہے جنہیں وہ وقتاً فوقتاً عیاں کرتا رہتا ہے۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی مستنصر حسسین تارڑ صاحب کا ناول " قربت مرگ میں محبت " ختم کیا ہے …
پہلے تو ناول مجھے بہت برا لگا پھر اچانک ہی مجھے بہت اچھا لگنے لگا … مجھے اس ناول میں جو چیز سب سے زیادہ پسند آئی وہ دریاۓ سندھ کی منظر کشی ہے … مصنف نے اسے اتنی خوبصورتی سے لکھا ہے گویا گمان ہونے لگتا ہے کہ قاری بذات خود دریاۓ سندھ پر موجود ہے …
یہ کہانی ایک کردار خاور صاحب کے گرد گھومتی ہے … خاور صاحب ناجانے کیوں اپنا گھر بار چھوڑ کر دریاۓ سندھ پر موجود کمیوں کی کشتی میں رہنے آۓ ہیں . خاور صاحب ایک مصنف اور میڈیا سیلبرٹی ہیں لہذا ان کا یوں کشتی میں آ کہ ٹہر جانا سمجھ میں نہیں آتا..
خاور صاحب کے ساتھ کشتی میں کچھ کردار اور ہیں … ان میں سرور ، ماما جعفر ، پکھی اور فہیم شامل ہیں … ماما جعفر اور سرور کشتی کا نظام سمبھلتے ہیں اور پکھی … خیر پکھی کا کام کشتی پر آنے والے وڈیروں کا بستر گرم کرنا ہے …مجھے ناول میں سب سے زیادہ اچھا خاور ان باقی کرداروں کے مکالمے اچھے لگے… ان مکالموں میں باقی کرداروں کی دانش مندی سامنے آتی ہے … خاور دریا کو ویسے نہیں سمجھتا جیسے وہ سمجھتے ہیں … اس کے پاس دریا سے متعلق وہ معلومات نہیں جو ان کے پاس ہیں …
میں اپنے تصور کی آنکھ میں ابھی بھی وہ ریت کا ٹاپو دیکھ سکتا ہوں جہاں رات گزارنے کے لیے انہوں نے کشتی روکی ہے … فہیم ، سرور اور ماما نے بوٹی پی رکھی ہے اور آگ کے گرد دھمال ڈال رہے ہیں اور سندھی زبان میں گیت گا رہے ہیں … اور خاور … خاور بس اپنی سوچو میں گم بیٹھا ہوا ہے …
اس کہانی میں بہت سی خاتوں کردار بھی ہیں … عابدہ ، غلافی آنکھیں اور سلطانہ … یہ وہ خواتین ہیں جن سے خاور صاحب کا رومان چلتا رہا … اور یہ تقریبا تب ہوا جب خاور صاحب تقریبنا ساٹھ سال کے تھے. پہلے مجھے ناول کا حصہ کافی معیوب لگا لیکن پھر محسوس ہوا کہ یہ محض میری سوشل کنڈیشنگ ہے … کیا بزرگ لوگوں کو محبت کرنے کا حق نہیں ؟ تو پھر یہ معیوب کیوں ؟
کہانی کا مرکزی خیال موت ہے … اور ساری کہانی اسی کے گرد گھومتی ہے … کوئی اناڑی رائیٹر اگر اسے لکھتا تو شاید اس پر تنقید کرتا … لیکن مستنصر صاحب کی تحریر اتنی خوبصورت ہے کہ انسان نہ چاھتے ہوۓ بھی اس کے طلسم میں کھو جاتا ہے …
کہانی میں کچھ چیزیں ہیں جو حقیقت سے کوسوں دور نظر آتی ہیں بہرحال یہ افسانہ ہے اور اس طرز کی تنقید جچتی نہیں … مجھے ناول بہت پسند آیا ہے اور دریاۓ سندھ پر راتیں گزارنے کے لیے دل مچلا جاتا ہے .