Mah e Tamam is a Social Romantic Urdu Novel by Famous Woman Writer and Dramatist Amna Riaz, which serialized in Monthly Khawateen Digest. Maah e Tamaam is a story of Family Bonds and Blood Relations, especially Father and Son Relation. The Novel discusses important issues like Generation Gap, Suspicion and Forgiveness. Novel explains that Generation Gap is a very common problem in many Families, where young ones think elders are unnecessarily forcing their rules and restrictions on them. While elders think young ones are not behaving and violating their cultural values and family traditions. Mostly this Generation Gap comes with Communication Gap, when family members, old and young ones do not talk or express themselves. Novel also explains that Suspicion can destroy any beautiful relation and one must learn to forgive others in good faith and move ahead in life.
I loved taqi and shifa! (Since I've already watched drama twice, this read was super smooth) I was seeing wahaj in taqi, ramsha in shifa, hah! I actually liked the Humour in this (coz it worked, lol) 😂 Will look out for other novels by Amna riaz!
مرد ماں اور بہنوں کی محبت کا کوٹہ بیوی پر نہیں لٹا سکتا۔ نہ بیوی کے حصے کی محبت ماں بہنوں پہ نچھاور کر سکتا ہے۔ یہ قانون قدرت ہے۔
آمنہ ریاض اپنے ناولوں میں جب انتقام کے بارے میں لکھتی ہیں تو واقعی انصاف کرتی دکھاٸ دیتی ہیں۔ میں نے اس سے پہلے ان کا ناول دشت جنون پڑھا وہ بھی انتقام کی کہانی تھی اور اس ناول میں بھی انتقامی کارواٸ ہوتی دکھاٸ دیتی ہے۔ لیکن دونوں ناول بالکل مختلف ہیں۔ کہانی، کردار اور انتقام کی نوعیت سبھی منفرد ہیں۔ مجھے بہت اچھا لگا یہ پڑھ کر کے انہوں نے کس خوبصورتی سے ان جذبات کی عکاسی کی جن سے مغلوب ہو کر انسان بدلہ لینے کا سوچتا ہے۔ ایسے موضوع پہ لکھنا آسان نہیں اور ایسے منفی جذبات اور سوچوں کی عکاسی کرنا بھی مشکل کام ہے۔ بلاشبہ آمنہ ریاض کی مصنفین کی بھیڑ میں اپنی ایک الگ پہچان ہے کیونکہ ان کا انداز منفرد ہے۔ آمنہ ریاض کی تحریریں کافی غیر روایتی ہوتی ہیں یہاں تک کہ وہ رومینس بھی بہت غیر روایتی سا لکھتی ہیں جو کہ حقیقت کے کافی قریب دکھاٸ دیتا ہے۔
میں معافی مانگنا چاہ رہا تھا۔
مانگو۔
آمنہ ریاض ہنساتی بھی ضرور ہیں۔
وہ عجیب لڑکی تھی۔ تقی کو ہمیشہ اس کے بارے میں کوٸ بات محسوس ہوتی تھی جسے وہ کوٸ نام نہیں دے پاتا تھا۔ نہ ہی اس احساس کو سمجھ پاتا تھا۔
نام نہیں لوں گی تا کہ سپواٸل نہ ہو لیکن اتنا ضرور کہوں گی کہ ان دونوں کا رشتہ، ان کے بیچ ہوتا طنز و مزاح، نوک جھونک، اور آہستگی سے ڈیولیپ ہوتا تعلق جو کہ پہلے دوستی اور پھر محبت کا روپ اختیار کرتا گیا، یہ سبھی دل موہ لینے والا ہے۔ آمنہ ریاض نے یہ رومینس بہت خوب لکھا۔ اصل نصیحت اس ناول میں یہ بھی تھی کہ جب کوئی معافی مانگے تو یہ سوچے بنا اللہ کی خاطر معاف کر دینا چاہیے کہ کیا معلوم یہ معافی دل سے مانگی گئی ہے یا نہیں۔ جانے اس انسان کا اصل مقصد کیا ہے۔ جب ہم اللہ سے اپنی خطاؤں کی معافی کی امید رکھتے ہیں تو اس کے لیے اس کے بندوں کو معاف کرنا بے حد ضروری ہے۔ بہت ہی اچھی تحریر۔
I knew the story because I had watched the last few episodes of the drama (which is based on it).
However, I wanted to read about it to enjoy it as a reader.
Basically, it is about forgiving by heart, about helping someone selflessly, about family and friendship, and a lot more things. It's a very lighthearted story. I think everyone will enjoy it,or at the very least, tolerate it.
مصنفہ بہت خوبصورتی سے متعدد موضوعات کو ساتھ لے کر چلی ہیں جن میں ایک طرف بچپنے کی نادانیوں سے جنم لینے والی غلط فہمیاں ہیں تو دوسری طرف جنریشن گیپ کا مسئلہ ۔ انتقام کی سلگتی آگ بھی ہے اور غم روزگار کا رولا بھی ۔ کریکٹر ڈویلپمنٹ بلاشبہ لائق تحسین ہے ـ یه ناول ایک جاندار کہانی , بہت عمدگی سے پیش کئے گئے کرداروں اور مزاح کا حسین امتزاج ہے۔