Jump to ratings and reviews
Rate this book

Baagh / باگھ

Rate this book
Baagh by Abdullah Hussain

341 pages, Hardcover

First published January 1, 1982

12 people are currently reading
300 people want to read

About the author

Abdullah Hussein

14 books157 followers
Abdullah Hussein was an Urdu novelist and short story writer from Pakistan famous for his novel Udaas Naslain.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
32 (33%)
4 stars
27 (28%)
3 stars
23 (23%)
2 stars
10 (10%)
1 star
4 (4%)
Displaying 1 - 11 of 11 reviews
Profile Image for Muhammad Waqas.
73 reviews12 followers
June 8, 2015
عبدہ اللہ حسین کو تحریروں کو یقینا مکمل پاکستانی ادب کہا جا سکتا ہے۔ باگھ میں بھی ایسے موضوع پر لکھی گئی تحریر ہے جس نے آگے چل کر ہمارے معاشرے میں وہ زہر گھولا جس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ ریاست اور اس کے ادارے اپنے ہی لوگوں کو مذہب اور حب الوطنی کی افیون دے کر ایک نہ ختم ہونے والی آگ کا ایندھن بنائے چلے جا رہے ہے۔
یہ تحریر کشمیر میں مجاہدین کی کھیپ کی تیاری اور بھیجنے کے اوائل دور کے تناظر میں لکھی گئی۔
Profile Image for Rural Soul.
550 reviews89 followers
March 15, 2016
The first and last novel of Abdullah Hussain which I read. It's a tale of love and motive being cultivated in mountains of Kashmir. You will have to retrieve central thought behind this novel. I read it page and page. I drank it like last drink for your life while sitting in mountains of my village.
One of the best novels I did read. Master Piece.
Profile Image for Samreen.
25 reviews
February 15, 2016
اداس نسلیں کے بعد عبدلله حسین کا یه دوسرا ناول ھے جو میں نے پڑھا ھے. اسد مرکزی کردار کا نام ھے اور اسی مناسبت سے ناول کا نام باگھ رکھا گیا.
روایتی ناول نگاری سے ھٹ کر یھاں کحانی کی بھول بھلیاں نھیں ھیں نه ھی کرداروں کی بھرمار ھے. منفرد اور دل سوز بُنت هے . ایسا نفسیاتی الجھاو کے سب کچھ اور واضح ھو جاے. عبدلله حسین جیسی کردار نگاری میں نے شاید ھی کسی اور کے ھاں پڑھی ھو. انسانی شخصیت کی دراڑیں اور گھاو میں نے ان سے ذیاده عمقیق نظر سے دیکتھے شاید ھی کسی کو دیکھا ھے.
Profile Image for Tariq Ahmad Khan.
104 reviews9 followers
January 21, 2024
ناول "باگھ"
.
عبداللہ حسین
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یادداشت کی بھی کیا آزاد زندگی ہوتی ہے جہاں یہ جوان ہوتی ہے وہاں ہمیشہ ہی جواں رہتی ہے - جہاں بوڑھی ہو جاتی ہے وہاں سایوں کی طرح ڈھلتی چلی جاتی ہے، ابھی یہاں ، ابھی وہاں ۔۔
.
میرا کتاب پڑھتے سمے اکثر من ہوتا کہ کوئی تو ایسی کتب ہو جس کی پڑھت کے وقت مجھے جگہ اور وقت کا ہوش نہ رہے۔ آسان عام فہم اور ندی کی طرح رواں نثر ہو اور میں کرداروں کے ساتھ ساتھ جنگلوں، بیلوں، پہاڑوں اور دریاؤں کے پار اترتا چلا جاؤں۔ عبداللہ حسین کا ناول "باگھ" جسے وہ اپنے تخلیق سفر کا سب سے اہم پڑاؤ مانتے تھے ایسا ہی ایک ناول ہے۔ آزاد کشمیر کے ایک دور افتادہ گاؤں "گمشد" میں پنپتی یہ کہانی جہاں مرکزی کردار اسد اپنی سانس کی تکلیف کی غرض سے آیا اور وہاں کے حکیم کے ہاں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے. "یاسمین" اسدی کہ "یاس" حکیم کی بیٹی کے ساتھ اسد کے پیار کی خوبصورت داستان پروان چڑھ رہی ہے۔ وہیں کبھی کبھار ایک "باگھ" کے دھاڑنے کی خوفناک آواز سنائی دے جاتی ہے جو بھٹک کر اس علاقے کے جنگل میں آ نکلا ہے۔ جوں جوں کہانی آگے بڑھتی گئی مجھے اسد اور باگھ (ہم معنی نام) کی زندگی اور کہانی میں ایک عجیب سی ہم آہنگی ملی۔ جو انجام تک جاتے اور بھی واضح لگی(شاید یہ صرف میرا خیال ہو)
۔
تین سو ساٹھ صفحات کی شاید ہی کوئی ایسی تحریر ہو جو اس خوبصورت ردھم کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ چند کرداروں کی یہ کہانی جس میں ہر کردار چاہے کتنے ہی مختصر دورانیہ کا کیوں نہ کو واقعات کو آگے بڑھانے کی ایک ناگزیر کڑی ہے۔ اچھے وہ پھر ولی ، حکیم میر احسن ، ذولفقار ،یا سرحد کے اس طرف کے کردار(سرحد کے اس طرف کیوں؟ یہی تو کہانی کی خوبی ہے۔ کبھی یہاں کبھی وہاں) سلطان، ریاض وغیرہ ہوں ۔ زندگی کی فلاسفی کو ہلکے پھلکے انداز میں بتاتی یہ کہانی سادہ مگر پر لطف نثر کا شاھکار ہے۔ سارے کردار اور واقعات کا بیان بہترین ہے پر مجھے اسدی اور یاسمین کے کرداروں کی کیمسٹری اور ان کے درمیان بے حد محبت مجھے اس کہانی کی خاص بات لگی. ایک اور بات جو میں نے نوٹ کی آخری دس صفحات میں مصنف کچھ ایسی باتیں بھی کہہ بتا گئے جو آج کل شاید ہی کوئی کہہ سکے
Profile Image for Asif Nadeem.
25 reviews3 followers
March 9, 2020
عبد اللہ حسین نے اپنا ناول باغ اس طرح لکھا کہ اس نے آس پاس کے علاقوں اور مناظر کی ہر ایک چھوٹی سی تفصیل بیان کی جس سے قاری کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس منظر میں بزاتِ خود شامل ہے۔ کہانی کے مرکزی کردار کے جذبات کی متاثر کن تفصیل
اس کے بچپن سے اور پھر مختلف حالات سے گزرتے ہوئے کہ وہ کیسے نوجوان میں تبدیل ہوا۔زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور اُن سے کیسے نبرانداز ہونا ہے۔ اگرچہ مصنف نے ذکر نہیں کیا لیکن قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کہانی کشمیر کے علاقوں کے آس پاس کی ہے۔
Profile Image for Hasan Raaz.
25 reviews9 followers
November 5, 2017
second Novel of Hussain for me ,again produced a feeling of very pleasant experience of very rich writing, though un matched to Udas naslain,yet it's a master piece in terms of Hussain's detailed and beautifull narration of a simple story
Profile Image for sohail bhatti.
559 reviews3 followers
November 12, 2021
بہت عرصہ سے عبداللہ حسین کو پڑھنا چاہتا تھا۔ لیکن اس ناول نے اتنا متاثر نہیں کیا جتنا میں اس سے امید کر رہا تھا۔
Profile Image for Hassaan Shabbir.
20 reviews
July 17, 2023
میں کئی بار ہی لکھ چکا لیکن سچ یہ ہی ہے کہ عبداللّٰه حسین ایک رائٹر ضرور ہے لیکن کمال کا نہیں کہہ سکتے بس نارمل ہی ہیں لیکن جو گمان تھا وہ تو ایک پرسنٹ بھی پورا نہیں ترا۔
Profile Image for Omair Mahmood.
18 reviews4 followers
June 17, 2016
صاحبو۔ اپنے کو تو اس ناول کی سمجھ آئی اور نہ ہی مزا آیا۔ نہ ہی یہ معلوم ہوا کہ عبداللہ حسین صاحب بیان کیا کرنا چاہتے تھے؟ انجام جاننے کی تجسس میں سارا ناول پڑھا لیکن آخری صفحے پر پہنچ کر شدید احساس زیاں ہوا۔ ناول پڑھنا لاحاصل سی محنت معلوم ہوا
Displaying 1 - 11 of 11 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.