عبدہ اللہ حسین کو تحریروں کو یقینا مکمل پاکستانی ادب کہا جا سکتا ہے۔ باگھ میں بھی ایسے موضوع پر لکھی گئی تحریر ہے جس نے آگے چل کر ہمارے معاشرے میں وہ زہر گھولا جس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ ریاست اور اس کے ادارے اپنے ہی لوگوں کو مذہب اور حب الوطنی کی افیون دے کر ایک نہ ختم ہونے والی آگ کا ایندھن بنائے چلے جا رہے ہے۔ یہ تحریر کشمیر میں مجاہدین کی کھیپ کی تیاری اور بھیجنے کے اوائل دور کے تناظر میں لکھی گئی۔
The first and last novel of Abdullah Hussain which I read. It's a tale of love and motive being cultivated in mountains of Kashmir. You will have to retrieve central thought behind this novel. I read it page and page. I drank it like last drink for your life while sitting in mountains of my village. One of the best novels I did read. Master Piece.
اداس نسلیں کے بعد عبدلله حسین کا یه دوسرا ناول ھے جو میں نے پڑھا ھے. اسد مرکزی کردار کا نام ھے اور اسی مناسبت سے ناول کا نام باگھ رکھا گیا. روایتی ناول نگاری سے ھٹ کر یھاں کحانی کی بھول بھلیاں نھیں ھیں نه ھی کرداروں کی بھرمار ھے. منفرد اور دل سوز بُنت هے . ایسا نفسیاتی الجھاو کے سب کچھ اور واضح ھو جاے. عبدلله حسین جیسی کردار نگاری میں نے شاید ھی کسی اور کے ھاں پڑھی ھو. انسانی شخصیت کی دراڑیں اور گھاو میں نے ان سے ذیاده عمقیق نظر سے دیکتھے شاید ھی کسی کو دیکھا ھے.
ناول "باگھ" . عبداللہ حسین ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یادداشت کی بھی کیا آزاد زندگی ہوتی ہے جہاں یہ جوان ہوتی ہے وہاں ہمیشہ ہی جواں رہتی ہے - جہاں بوڑھی ہو جاتی ہے وہاں سایوں کی طرح ڈھلتی چلی جاتی ہے، ابھی یہاں ، ابھی وہاں ۔۔ . میرا کتاب پڑھتے سمے اکثر من ہوتا کہ کوئی تو ایسی کتب ہو جس کی پڑھت کے وقت مجھے جگہ اور وقت کا ہوش نہ رہے۔ آسان عام فہم اور ندی کی طرح رواں نثر ہو اور میں کرداروں کے ساتھ ساتھ جنگلوں، بیلوں، پہاڑوں اور دریاؤں کے پار اترتا چلا جاؤں۔ عبداللہ حسین کا ناول "باگھ" جسے وہ اپنے تخلیق سفر کا سب سے اہم پڑاؤ مانتے تھے ایسا ہی ایک ناول ہے۔ آزاد کشمیر کے ایک دور افتادہ گاؤں "گمشد" میں پنپتی یہ کہانی جہاں مرکزی کردار اسد اپنی سانس کی تکلیف کی غرض سے آیا اور وہاں کے حکیم کے ہاں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے. "یاسمین" اسدی کہ "یاس" حکیم کی بیٹی کے ساتھ اسد کے پیار کی خوبصورت داستان پروان چڑھ رہی ہے۔ وہیں کبھی کبھار ایک "باگھ" کے دھاڑنے کی خوفناک آواز سنائی دے جاتی ہے جو بھٹک کر اس علاقے کے جنگل میں آ نکلا ہے۔ جوں جوں کہانی آگے بڑھتی گئی مجھے اسد اور باگھ (ہم معنی نام) کی زندگی اور کہانی میں ایک عجیب سی ہم آہنگی ملی۔ جو انجام تک جاتے اور بھی واضح لگی(شاید یہ صرف میرا خیال ہو) ۔ تین سو ساٹھ صفحات کی شاید ہی کوئی ایسی تحریر ہو جو اس خوبصورت ردھم کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ چند کرداروں کی یہ کہانی جس میں ہر کردار چاہے کتنے ہی مختصر دورانیہ کا کیوں نہ کو واقعات کو آگے بڑھانے کی ایک ناگزیر کڑی ہے۔ اچھے وہ پھر ولی ، حکیم میر احسن ، ذولفقار ،یا سرحد کے اس طرف کے کردار(سرحد کے اس طرف کیوں؟ یہی تو کہانی کی خوبی ہے۔ کبھی یہاں کبھی وہاں) سلطان، ریاض وغیرہ ہوں ۔ زندگی کی فلاسفی کو ہلکے پھلکے انداز میں بتاتی یہ کہانی سادہ مگر پر لطف نثر کا شاھکار ہے۔ سارے کردار اور واقعات کا بیان بہترین ہے پر مجھے اسدی اور یاسمین کے کرداروں کی کیمسٹری اور ان کے درمیان بے حد محبت مجھے اس کہانی کی خاص بات لگی. ایک اور بات جو میں نے نوٹ کی آخری دس صفحات میں مصنف کچھ ایسی باتیں بھی کہہ بتا گئے جو آج کل شاید ہی کوئی کہہ سکے
عبد اللہ حسین نے اپنا ناول باغ اس طرح لکھا کہ اس نے آس پاس کے علاقوں اور مناظر کی ہر ایک چھوٹی سی تفصیل بیان کی جس سے قاری کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس منظر میں بزاتِ خود شامل ہے۔ کہانی کے مرکزی کردار کے جذبات کی متاثر کن تفصیل اس کے بچپن سے اور پھر مختلف حالات سے گزرتے ہوئے کہ وہ کیسے نوجوان میں تبدیل ہوا۔زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور اُن سے کیسے نبرانداز ہونا ہے۔ اگرچہ مصنف نے ذکر نہیں کیا لیکن قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کہانی کشمیر کے علاقوں کے آس پاس کی ہے۔
second Novel of Hussain for me ,again produced a feeling of very pleasant experience of very rich writing, though un matched to Udas naslain,yet it's a master piece in terms of Hussain's detailed and beautifull narration of a simple story
میں کئی بار ہی لکھ چکا لیکن سچ یہ ہی ہے کہ عبداللّٰه حسین ایک رائٹر ضرور ہے لیکن کمال کا نہیں کہہ سکتے بس نارمل ہی ہیں لیکن جو گمان تھا وہ تو ایک پرسنٹ بھی پورا نہیں ترا۔
صاحبو۔ اپنے کو تو اس ناول کی سمجھ آئی اور نہ ہی مزا آیا۔ نہ ہی یہ معلوم ہوا کہ عبداللہ حسین صاحب بیان کیا کرنا چاہتے تھے؟ انجام جاننے کی تجسس میں سارا ناول پڑھا لیکن آخری صفحے پر پہنچ کر شدید احساس زیاں ہوا۔ ناول پڑھنا لاحاصل سی محنت معلوم ہوا