سمے کا بندھن ممتاز مفتی کا ساتواں افسانوی مجموعہ ہے جو انیس افسانوں پر مشتمل ہے۔ ان افسانوں میں ممتاز مفتی کے ذہنی افق کے سبھی منظر دکھائی دیتے ہیں۔ ان افسانوں میں نظر آتا ہے کہ ممتاز مفتی حیات کو بڑے اعتماد اور فنکارانہ چابک دستی سے کئی رنگوں اور لہجوں میں پیش کرنے پر قادر ہیں۔
Mumtaz Mufti (Sitara-e-Imtiaz) is a Pakistani short story writer. He started writing Urdu short stories while working as a school teacher before partition. In the beginning he was considered among his contemporaries, a non-conformist writer having liberal views, who appeared influenced by Freud. His transformation from Liberalism to Sufism was due to his inspiration from Qudrat Ullah Shahab (Another well known Pakistani Author). At the same time, he did manage to retain his individual accent and wrote on subjects which were frowned upon by the conservative elements in society.
The two phases of his life are witnessed by his autobiographies, Ali Pur Ka Aeeli and Alakh Nagri. According to forewords mentioned in his later autobiography, Ali Pur Ka Aeeli is an account of a lover who challenged the social taboos of his times, and Alakh Nagri is an account of an acolyte who greatly influenced by the mysticism of Qudrat Ullah Shahab.
Talaash ("Quest") was the last book written by Mumtaz Mufti.
عکسی مفتی نے کہیں لکھا تھا کہ ممتاز مفتی کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ ان کی کہی بات قاری تک پہنچتی ہے۔
مفتی جی کے ذہنی ارتقاء کے دورِ آخر میں لکھی گئی کتابیں پڑھ کر اس رائے کے ماننے کو دل چاہتا ہے۔ ۔ ۔ مشکل سے مشکل بات قابلِ فہم انداز میں 'ڈیل' کرنے کا جو سلیقہ ممتاز مفتی کو ملا وہ اب تک بہت کم دیکھنے میں آیا ہے۔ بات کہہ دینے کا یہی سلیقہ طریقہ سمے کا بندھن میں بھی نظر آتا ہے۔ روحانیت، یک طرفہ محبت اور اُس میں استقامت، ناکامیء محبت کی نفسیات، دو رُخا پن، کٹرہ رنگین اور طوائف مفتی جی کے روایتی پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر لکھے گئے افسانے دیگر افسانوی مجموعوں میں بھی نظر آتے ہیں۔ مفتی جی سے واقف قارئین کے لئے شاید موضوع کی تکرار باعثِ دلچسپی نہ ہو تاہم میرے جیسے عقیدت مندوں کے لئے ان کے قلم سے لکھا گیا ہر جملہ نعمت غیر مترقبہ ہے۔
چند جملے آپ سب کی نذر
محبت تو کوئی بڑی مشکل نہیں۔ مغرب میں تو محبت کا مفہوم جنسی ملاپ ہوتا ہے یا توجہ طلبی کا جنون، اور بس۔
محبت تو ایک ہاتھ کی تالی ہے۔ اس میں نہ شکوے کی گنجائش ہے، نہ شکایت کی۔ نہ وفا کی شرط، نہ بے وفائی کا گلہ۔
محبت کیا ہے؟ اپنی وِل سرینڈر کردینا۔ اپنی مَیں دوسرے کے تابع کر دینا۔
مہاراج! پریم، چکر سمان چلے ہے، جھولن سمان نہیں۔ جو چکر سمان چلے وہ کشٹ بن جاوے ہے۔