فروری 1954ء میں ممتاز مفتی کے مضامین کا پہلا مجموعہ غبارے کے نام سے مکتبہ اردو لاہور سے شائع ہوا۔ یہ مضامین بلاشبہ ان کے فکر و خیال کے اہم زاویوں کو سمجھنے اور جانچنے کے لئے بے حد مفید اور معاون ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ان مضامین میں ممتاز مفتی اپنا نقطہ نظر براہ راست اور بغیر افسانوی حیلے بہانے کے پیش کیا ہے۔ وہ جو کچھ کہنا چاہتے تھے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں کہتے چلے گئے۔
Mumtaz Mufti (Sitara-e-Imtiaz) is a Pakistani short story writer. He started writing Urdu short stories while working as a school teacher before partition. In the beginning he was considered among his contemporaries, a non-conformist writer having liberal views, who appeared influenced by Freud. His transformation from Liberalism to Sufism was due to his inspiration from Qudrat Ullah Shahab (Another well known Pakistani Author). At the same time, he did manage to retain his individual accent and wrote on subjects which were frowned upon by the conservative elements in society.
The two phases of his life are witnessed by his autobiographies, Ali Pur Ka Aeeli and Alakh Nagri. According to forewords mentioned in his later autobiography, Ali Pur Ka Aeeli is an account of a lover who challenged the social taboos of his times, and Alakh Nagri is an account of an acolyte who greatly influenced by the mysticism of Qudrat Ullah Shahab.
Talaash ("Quest") was the last book written by Mumtaz Mufti.
عام سی کتاب، اُس میں عام سے مضامین اور مضامین میں عام سی باتیں۔ ۔ ۔ مگر یہ مفتی جی ہی کا خاصہ ہے کہ بظاہر عام سی نظر آنے والی بات کو بھی چکر دے کر اس انداز سے پیش کریں گے کہ پڑھنے والا سوچتا ہی رہ جائے کہ ایسا بھی ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔
ہو سکتا ہے مفتی جی کے بہت سے خیالات سے آپ اتفاق نہ کریں۔ مگر کتاب پڑھنے کے بعد اس بات سے اتفاق ضرور کریں گے کہ خشک موضوعات کے بیان کا جو سلیقہ مفتی جی کو حاصل ہے، وہ بہت کم رائٹرز کو نصیب ہے اور یہ کہ ان کے لکھے کا تعلق آنکھوں سے نہیں براہ راست پڑھنے والے کے دل سے ہے اور یہی چیز انہیں ایک بڑا لکھنے والا اور اس 'عام' کتاب کو خاص بناتی ہے۔
دلچسپ پہلو یہ کہ باتوں کی گھمن گھیریاں ڈال کر مضامین کے آخر میں مفتی جی رائج شدہ و تسلیم کردہ انہی اصولوں پر پہنچتے ہیں جو بڑے سیدھے سادے اور عام سے ہیں۔ مثلاً ایک نمونہ ملاحظہ ہو ۔ ۔ ۔دوسروں کو بے وقوف سمجھنے کے ان گنت فوائد ہیں۔ اگر آپ سچے دل سے دنیا والوں کو بے وقوف جان لیں تو معاََ تمام جھگڑے، فساد، گلے، شکایات صابن کے جھاگ کی طرح اُڑ جائیں اور ہر طرف مہاتما بدھ کا نروان چھا جائے۔ فرض کیجئے آپ مجھے خالص بے وقوف سمجھتے ہیں تو اس صورت میں میری بات پر غصہ محسوس کرنا بے معنی ہو جائے گا۔ بے وقوف کی بات پر غصہ کیسا، غصہ تو چالاک پر آتا ہے۔ غصہ نہ رہا تو گلہ اور شکوہ بے معنی ہوگیا۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر آپ مجھے سچے دل سے بے وقوف سمجھ لیں تو آپ کے لئے ناممکن ہو جائے گا کہ مجھے کچھ اور سمجھیں۔ یعنی آپ مجھے چالاک، کینہ پرور، غبی وغیرہ نہ سمجھ سکیں گے یعنی نہ بد اعتمادی رہے گی، نہ چڑ اور نہ کینہ پروری۔ زیادہ سے زیادہ آپ میری حماقتوں پر ہنسیں گے۔ تمسخر سے ہی سہی۔ یعنی بے وقوف آپ کو ہنسا سکتا ہے، احساس برتری دے سکتا ہے اور بس۔ اور یہ دونوں باتیں نعمتیں ہیں جو بڑی مشکل سے نصیب ہوتی ہیں۔ ۔ ۔
شاید ہی کوئی ہو جو اس بات میں چھپے برداشت، رواداری کے اصول کو نہ سمجھ سکے۔
کتاب کا سب سے اعلیٰ مضمون اُس موضوع پر ہے جو بقول مفتی جی ان کی آدھی زندگی کا مشاہدہ رہا یعنی 'عورت اور جنسیات'۔ ۔ ۔ جس خوبصورتی اور گہرائی سے عورت کی نفسیات کو کھنگالا گیا ہے وہ کم از کم میرے توصیفی الفاظ کے احاطے سے باہر ہے۔ ۔ ۔ اگر مشورہ مانیں اور باقی کتاب نہ بھی پڑھنا چاہیں تو کہیں سے پی ڈی ایف لے کر یہ ایک مضمون ہی پڑھ ڈالیں۔ پھر بھی فائدے میں رہیں گے۔