‘One of the greatest prose writers in Urdu' - India Today
The Bride's Mirror (mirat ul-‘arus) was the first bestseller in Urdu. First published in 1869, within twenty years it had gone into several editions and sold over 100, 000 copies. An English translation was published in England in 1903 by G. E. Ward and the book has been almost continuously in print ever since. The novel tells the story of two sisters, asghari and akbari, who are married to two brothers in Delhi. Akbari, the spoilt, mean-tempered and impetuous sister, fritters away all the advantages she is offered and makes a mess of her life. Asghari, who has to contend with all sorts of disappointments and setbacks, prevails in the end and makes a success of everything she turns her hand to. All through its existence, the bride’s mirror had been hailed as one of the most important works of Urdu literature ever published. The portrait it provides of the lives of those who lived in Delhi over a hundred years ago is an indelible one.
Nazir Ahmad Dehlvi, populary known as "Diptee" (Deputy) Nazir Ahmad (1831–1912), was an Urdu writer and social reformer from British India. He is considered one of the first novel writers of Urdu language.
When it doesn't turn into a sermon about obeying your husband and being his inferior slave and provider of all his desires, it's okay ish. Product of it's time and should stay in 1869 but even today the Asghari vs Akbari female stereotype is held on to in TV dramas in Pakistan. Thus this novel is timeless as unfortunately asghari is still the girl most Pakistan men and their mothers want, and if a girl is not an Asghari she is automatically an Akbari.
A well written book for its time, the ending of the text is a little bizarre. There is no coherent conclusion written for the family or any of the characters. Barring this lack of resolution, this book is an excellent way to inform oneself of the life and times of "good women" in 19th Century India
Its claim to fame is that it is the first novel in the Urdu language.Read in school,but found it a bit dull given the setting in 19th century India and language which is very different from the Urdu of today.
Assalam o Alaikum I hope you would be in excellent health that it is the only wealth that matters. Recently one of my best friend was given a assignment of book review on one of the novels of esteemed Urdu writer and the first novelist of Urdu language Deputy Nazeer Ahmad. He asked me to write it for him. So I wrote a review. It is my first urdu language book review. I hope you will enjoy it....
کتاب تبصرہ مراۃ العروس 1869 ڈپٹی نذیر احمد مراۃ العروس اردو کا پہلا ناول ہو یا نہ ہو لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ اردو کا پہلا بیسٹ سیلر ناول تھا۔ 1869 میں پہلی بار شائع ہوا اور اگلے صرف بیس سالوں میں تقریباً اک لاکھ بار چھپ چکا تھا۔ اسے تقریباً ہر اردو نصاب میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کا انگریزی زبان میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے جبکہ برصغیر کی تقریباً تمام بڑی زبانوں جیسا کہ ہندی، بنگالی، گجراتی، پنجابی وغیرہ میں بھی ترجمہ کیا چکا ہے۔ جبکہ اس ناول کے ذریعے ڈپٹی نذیر احمد نے نہ صرف اردو بلکہ برصغیر کی دیگر زبانوں کے ناول نگاری میں اک نئی صنف کو جنم دیا۔
اس ناول کے مصنف فاضل ادیب ڈپٹی نذیر احمد اتر پردیش کے ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد محترم، مولوی سادات علی، جو کہ اک استاد تھے انہوں نے نذیر احمد کو عربی و فارسی کی تعلیم گھر میں ہی دی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ان کا مسجد و مدرسہ اورنگ آباد دلّی(دہلی) میں داخلہ کرا دیا گیا جہاں ان کے استاد مولوی عبد الخالق تھے۔ 1846 میں دلّی کالج میں داخلہ لیا اور اردو ادب کا انتخاب کیا۔ اس کے ساتھ عربی، فلسفہ اور ریا ضی کی تعلیم بھی دلّی کالج سے ہی مکمل کی۔ دہلی پر لکھی گئی اک تاریخی کتاب "دہلی دو سلطنتوں کے درمیان" کے مطابق ان کے والد کو نذیر احمد کی موت قبول تھی لیکن انگریزی کی تعلیم نہیں۔ اسی دوران انکی شادی والدین کی رضا مندی سے مولوی عبد الخالق کی پوتی سے ہوگئی۔ جن سے ان کی دو بیٹیاں اور اک بیٹا تھا۔
ڈپٹی نذیر احمد نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بیحیثیت استاد کان پور سے کیا اور جلد ہی الہ آباد کے اسکولوں کے ڈپٹی انسپیکٹر بنے۔ اسی دوران آپ نے انڈین پینل کوڈ کا اردو میں ترجمہ کیا جو کہ آپ کی وجہ شہرت بنا اور جس نے آپ کے کیریئر میں اہم کردار ادا کیا۔ 1863 میں آپ کو وصولیات کے محکمے کے ڈپٹی کلیکٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی اور کئی شہروں میں آپ کو تعینات کیا گیا۔ اسی عہدے کی بناء پر آپ کے نام کے ساتھ ڈپٹی لازم و ملزوم ہوگیا۔ 1866 میں آپ نے اردو کی نصابی کتب لکھنے کا آغاز کیا۔
1868 میں سرحد کی حکومت نے ایسی کتب پر انعام کا اعلان کیا جو کہ کسی ہدایات، تفریح طبع یا ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ اعلیٰ و مفید مقصد کا بھی ذریعہ ہو۔ جبکہ ترجیح اس کتاب کو دی جائے گی جو برصغیر کی عورتوں کے لئے مناسب و موزوں بھی ہو. 1870 میں مراۃ العروس کو اس انعام سے نوازا گیا۔ اس کتاب کی پسندیدگی کی وجہ سے نہ صرف مبلغ 1000 روپیہ انعام دیا گیا بلکہ صوبہ سرحد کے لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے ذاتی طور پر اعزازی گھڑی بھی تحفے میں دی گئی۔ ساتھ ہی حکومت نے اسے نصاب کا حصہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے 2000 نسخے بھی خرید لئے۔ 1872 میں مراۃ العروس کے دوسرے حصے کے نام سے بنات النعش نامی ناول لکھا۔ جس نے 500 روپے کا انعام جیتا۔ 1874 میں ڈپٹی نذیر احمد نے توبتہ النصوح کے نام سے ایک اور ناول لکھا جس نے اک بار پھر 1000 روپے کا انعام جیتا۔ یہ ناول کو آپ کے تمام ناولز سے زیادہ شہرت ملی اور جس کا پلاٹ، کردار نگاری، مکالموں کو خصوصی مقبولیت حاصل ہے۔
1890 کی دہائی میں آپ کی تحاریر سیاسی سرگرمیوں کی نظر ہوگئی اور لکھنا تقریباً مفقود ہو گیا۔ آپ ایک خطیب اور عوامی مقرر کے طور پر علی گڑھ تحریک سے وابستہ تھے اور سر سید احمد خان اکثر آپ کو عوامی مجالس میں لے جایا کرتے تھے۔ آپ نے سر سید احمد خان کی مدح کرتے ہوئے کچھ نظمیں بھی لکھیں۔ آپ تحریک تہذیب الاخلاق سے بے حد متاثر تھے اور اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ یہی تحریک برصغیر کے مسلمانوں کی اصلاح کا باعث بنے گی۔ آپ ہندو مسلم یکجہتی کے سرگرم علم بردار تھے اور سر سید کی شخصیت سے بہت متاثر تھے۔۔ آپ کو شمس العلما کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔
ڈپٹی نذیر احمد کی مشہور تصانیف کے نام یہ ہیں۔ مراۃ العروس بنات النعش توبتہ النصوح فسانۂ مبتلا ابن الوقت رویائے صادقہ ایامیٰ
ڈپٹی نذیر احمد اپنے تین اولین ناولز کو خواتین کے لئے بطور نصاب بیان کیا ہے۔ مراۃ العروس امور خانہ داری، بنات العش میں لڑکیوں کی تربیت جبکہ توبتہ النصوح میں اولاد کی اصلاح پر زور دیا گیا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد نے اپنے بچوں خصوصی طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے لئے یہ ناول بطور نصاب اور اصلاحی کہانی کے طور پر لکھے جو کہ اپنے پلاٹ، کردار نگاری، مکالمے اور زبان و بیان کے لحاظ سے مقبول عام ہوگئے۔ جبکہ مراۃ العروس اپنے عروج کے وقت صرف اکبری اور اصغری کی کہانی کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔
یہ دو بہنوں کی کہانی ہے، بڑی والی اکبری، احمق، پھوہڑ اور ناخواندہ جبکہ چھوٹی والی، اصغری، پڑھی لکھی، سگھڑ، تربیت یافتہ اور نیک فطرت۔ اصغری نے گھریلو معاملات میں اور گھر کے افراد کی زندگی میں بہتری کی عملی کوششیں کی اور اپنے حکیم و دانا والد سے رابطے بھی قائم کرلیا جن کی دور علاقے میں پوسٹنگ تھی۔ صابر اور سنجیدہ اپنے آپ پر اور اپنے ارد گرد کے ماحول پر مکمل گرفت رکھتی تھی۔ مراۃ العروس اردو ناولز میں اک تصوراتی مگر با معنیٰ صنف کی حیثیت سے اک سنگ میل ثابت ہوا۔ جس نے اچھائی اور برائی کو واضح کرتے ہوئے اخلاقی اقدار کی کئی راہیں متعین کیں۔ مولوی نذیر احمد کا دولہا ان میں اپنے کردار کی اچھائیاں دیکھے گا نہ کہ برائیاں اسی طرح لڑکی اپنے آپ کو اصغری کے روپ میں دیکھے۔ اس بات کو ممکن بنانے کے لئے کہ بچیاں اس بات کی اساس کو سمجھیں مصنف نے کہانی کا آغاز اک مفید لیکن بیزارکن طویل دیباچہ کے ساتھ کیا۔ انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ عورتوں کو دنیا کے کام کاج سے فرصت دے کر خانہ داری کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ فاضل ادیب نذیر احمد خود لکھتے ہیں کہ "مرد اپنی کمائی عورتوں کے آگے لا کر رکھ دیتے ہیں اور عورتیں اپنی عقل سے اس کو بندوبست اور سلیقے سے اٹھاتی ہیں۔ پس اگر غور سے دیکھو تو دنیا کی گاڑی میں جب تک ایک پہیہ مرد کا اور دوسرا عورت کا نہ ہو چل نہیں سکتی۔ عورتوں کو بھی اتنے ہی مواقع اور نعمتیں دی گئیں ہیں جتنی مردوں کو۔ بی شک مردوں کے مقابلے عورتوں کو کمزور تخلیق کیا گیا ہے لیکن ہاتھ پاؤں، آنکھ، یاداشت، سوچ سمجھ سب چیزیں دونوں اصناف کو برابر دی ہیں جن کو بروئے کار لاتے ہوئے لڑکے ہر فن میں طاق اور ہر ہنر میں مشتاق ہوجاتے ہیں۔ لڑکیوں کو لازمی ہے کہ وہ لکھنا سیکھیں کیوں کہ انہیں رابطے رکھنے کے لئے خطوط لکھنے ہوں گے اور حساب کتاب کو لکھ کر رکھنا ہوگا"۔ یعنی ان میں امور خانہ داری کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہوں۔ پورے ملک کی روایت کو دیکھا جائے کہ ہم نے عورتوں پر کوئی ذمہ داری نہیں لگائی۔ 'پس اے عورتوں! کیا تم کو ایسے برے حالوں میں جینا نا خوش نہیں آتا؟ اپنی بے اعتباری اور بے وقری پر افسوس نہیں ہوتا؟ کیا تمھارا جی نہیں چاہتا کہ مردوں کی نظر میں تمھاری عزت ہو، تمھاری عقل پر ان کو اعتماد اور بھروسا ہو؟ تم نے اپنا وقار اپنے ہاتھوں رکھا ہے۔ اپنے کارن نظروں سے گری ہو'۔ 'پس سوائے پڑھنے لکھنے کے اور کیا تدبیر ہے کہ تمھاری عقلوں کو ترقی ہو؟ بلکہ مردوں کی نسبت عورتوں کو پڑھنے لکھنے کی زیادہ ضرورت ہے'۔ ' تم گھر میں بیٹھی بیٹھی کیا کروگی؟ پڑھنا لکھنا سیکھو کہ پردے میں بیٹھے بیٹھے ساری دنیا کی سیر کر لیا کرو'۔ پڑھی لکھی خواندہ خاتون خانہ اپنی لیاقت سے بچوں کو گھر میں ہی ابتدائی تعلیم دے سکتی ہیں، ان کی حفاظت و آرام کا خیال اچھے نمونے کے ساتھ رکھتی ہیں اور بڑے اور اہم امور خانہ داری نہایت احسن انداز سے سلجھا لیتی ہیں۔ ہر چیز اسی بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ لڑکیوں کے واسطے تعلیم نہایت ضروری ہے۔ ان کے لئے لازم ہے کہ پڑھنا سیکھیں، لکھنا سیکھیں! مولوی نذیر احمد اپنے طویل لیکن نصیحت آموز ابتدائیہ کا اختتام اس ترغیب سے کرتے ہیں کہ ' اب تم کو ایک مزے کا قصہ سناتے ہیں، جس سے معلوم ہوجا��ے گا کہ جہالت اور بے ہنری سے کیا کیا تکلیفیں پہنچتی ہیں'۔
اس جملے سے ہمیں یہ گمان ہوتا ہے کہ کہانی کا زیادہ حصہ اکبری کے احوال کا ہوگا۔ مولوی نذیر احمد نے اپنی کہانی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ابتدائی یا پہلا حصہ، اکبری کی کہانی، روایتی رومانوی کہانی کی ابتدا سا معلوم ہوتا ہے جیسا کہ آغاز قصہ اور مصنف نے ابتدائیہ میں اسی بات کی طرف توجہ مرکوز کرائی تھی کہ پہلے اکبری کی کہانی تحریر کی گئی ہے۔ لیکن اگر کتاب کی ضخامت دیکھی جائے تو اکبری کی کہانی پورے قصے کے پانچویں حصے سے بھی کم پر مشتمل ہے۔ دوسرا حصہ، جو کہ چار حصوں سے زیادہ پر مشتمل ہے، اصغری خانم کا بیان کہلاتا ہے؛ یہ وہ حصہ ہے جس کے متعلق مصنف دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ حصہ اپنی بیٹیوں کے اصرار پر کہانی میں شامل کیا۔
اکبری، نئی نویلی دلہن ہے، ہر ممکنہ طریقے سے بداخلاق و بد مزاج، اپنے شوہر اور سسرالیوں سے جھگڑنا اس کا معمول، بار بار روٹھ کر اپنے میکے چلے جانا اس کی عادت اور گھر کے کام کاج سے انکار کرنا اس کا وطیرہ تھا۔سینے پرونے میں اس حد تک پھوہڑ کہ نہ صرف اس کی خالہ اسے چوٹکی کاٹتی بلکہ بطور سزا سوئی بھی ہاتھ میں چبھو دیتی۔ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر کے باہر نکل جانا، اپنے میکہ میں ماں کو برے سلوک کے جھوٹے قصے سنانا اور بے حسی سے، مشترکہ خاندانی گھر اور سسرال جہاں دونوں میاں بیوی سب کے ساتھ رہتے تھے، الگ گھر کا مطالبہ کرنا اسکی فطرت ثانیہ بن چکا تھا جب اکبری نے اپنے مطالبے کے مطابق علیحدہ مکان لے لیا تو امور خانہ داری میں ناکام رہی۔ وہ کھانا پکانا نہیں جانتی تھی جس بناء پر اپنی سہیلیوں کی بازار کے مہنگے کھانوں سے تواضع کرتی۔ اس کی کئی سہیلیاں اس کے گھر سے سامان چراتی جس سے وہ بے خبر رہتی۔ ایک دھوکے باز لڑکی اپنے گروہ کے ساتھ اکبری سے دوستی کا ڈھونگ رچا کر اسے لوٹ لیتی ہے اور اس کے زیورات کے ساتھ فرار ہوجاتی ہے۔ اس کے بند الماری میں پڑے کپڑوں کو چیونٹیاں اور چوہے کتر جاتے ہیں اور اسی طرح وہ اپنے پھوہڑ پن سے ہمیشہ نقصان ہی اٹھاتی رہتی ہے۔
اکبری اتنی مصیبتوں میں کیوں پڑتی ہے اس بات میں ہمیں کوئی شک نہیں رہ جاتا۔ اکبری نری احمق ہے جس کا اقرار اکبری کی ماں ان الفاظ کے ساتھ کرتی ہے کہ " اپنی نانی کی لاڈلی"۔ بچپن کی بچکانہ نافرمانی اور بد مزاجی پر اگر اسی وقت لگام نہ ڈالی جائے، اور مسلسل نظر انداز کرتے ہوئے اِسے نادانی گردانا جائے، جبکہ اس دوران کوئی سلیقہ و تربیت نا سکھائی جائے تو پھر زندگی بھر اسی طرح کے روگ کا سامنا رہتا ہے۔ جیسا کہ اکبری کی کہانی میں بتایا گیا۔ ( کہانی کو ایک کردار کے ہی ضمیرمتکلم کے انداز میں تحریر کیا گیا ہے لیکن اسے مصنف کی اپنی روایت سے الگ کرنا مشکل ہوجاتا ہے)
فاضل مصنف دونوں بہنوں کی کہانیوں کے موازنہ کراتے ہوئے دونوں کے حالات کو بڑے واضح طور پر نمایاں کرتے ہیں۔ اکبری سولہ سال کی عمر میں بیاہی گئی جبکہ اصغری تیرہ سال کی عمر میں اکبری کے دیور سے بیاہی گئی۔ مزید برآں شادی کے دوسرے سال ہی اصغری کے ہاں اولاد کا جنم ہوتا ہے۔ (حالانکہ ہمیں کہانی کے اگلے حصوں میں بچے کی پیدائش کے کچھ عرصے کے بعد ہی وفات کا تذکرہ ملتا ہے)؛ اور اصغری کے میاں کے کام کی نوعیت کے حساب سے اسے گھر سے بھی اکثر و بیشتر دور رہنا پڑتا ہے۔ مختصراً، مصنف اس طرف توجہ دلاتے ہیں، اصغری کے حالات ہر لحاظ سے اکبری سے برے تھے سوائے اک معاملہ کے: اسے بچپن میں اچھی تربیت ملی تھی۔
اگرچہ اصغری کی ماں غصے والی خاتون تھیں، مگر اصغری خود ایک ذہین، سمجھدار اور با اخلاق تھی۔ وہ اپنی مثال آپ تھی: ہر کوئی اسے چاہتا تھا اور اس کے والد نے پورے گھر کی معاشی دیکھ بھال اس کے ذمہ کی ہوئی تھی۔ وہ اپنے پورے گھر کا خرچہ محض آٹھ کی عمر سے سنبھال رہی تھی۔ اس کے والد، دور اندیش، نے شادی کے تحفے کے طور پر اسے ایک طویل اور پدرانہ نصیحتوں سے مزین ایک خط ارسال کیا جس میں شادی کے بعد سسرال میں رہنے اور دل جیتنے کے گُھر سکھائے۔ 'عورت کی تخلیق مرد کے سکون کے واسطے ہے اور یہ عورت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مرد کو آرام پہنچانے کا سبب بنے'۔ اصغری نے اسے اپنی عادت بنالیا اور روزانہ کی بنیادوں پر وہ ان نصیحتوں کی جزئیات پر غور کرتی اور اسے اپنی روز مرہ کی زندگی کا حصہ بناتی۔ حقیقتاً اصغری کی تعلیم و تربیت میں اس کے والد کا زیادہ کردار تھا۔
باوجود اس کے کہ اصغری کی سسرال میں نئی زندگی کافی مشکل تھی لیکن اس نے ہمیشہ اپنے سسرالیوں کی اطاعت ہی کی۔ اصغری نے اپنی چھوٹی نند سے اچھے سلوک اور اس کی تربیت کے ذریعے جلد ہی سسرال میں اپنی جگہ بنالی۔ اگرچہ پھر بھی اسے مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔ اس کی نہ جھگڑنے کی عادت سے اکثر بدگمانی رہتی تھی۔ وہ شروع میں ہی ماما عظمت کی چالاکیوں کا شکار ہوئی، جو کہ کئی عشروں سے، ملازمہ ہونے کے باوجود گھر کے فرد کی حیثیت رکھتی تھی، گھر کے نا صرف سودا سلف اور خریداری کی ذمہ دار تھی بلکہ زیورات کی خریداری و مرمت کا ذمہ بھی اسی کے پاس تھا، اور اتنے اعتماد کے باوجود وہ دھوکے اور فریب کے ساتھ پیسوں کی ھیر پھیر میں ملوث تھی۔ جب اصغری نے اسے پکڑ کر باز پرس کی تو ماما عظمت نے عیاری کے ساتھ اس کے سسرالیوں کو اس کے خلاف کرنے کی سازش رچی۔ اس دوران اصغری نے خط لکھ کر اپنے بھائی کے ذریعے اپنے سسر کو گھر میں مختصر قیام کی درخواست کی جو اس وقت لاہور میں روزگار کے سلسلے میں مقیم تھے۔ اسی دوران اصغری نے گھر کے خرچے راز داری اور عقل مندی سے کم کئے اور جب اس کے سسر مولوی صاحب لوٹے تو ماما عظمت کی سازش سامنے آگئی۔ جب قرض وغیرہ ادا ہوگئے تو سسرال میں اصغری کی اہمیت اور بڑھ گئی اور مولوی صاحب نے امور خانہ داری کا حساب کتاب اصغری کے حوالے کیا۔ کہانی کا مکمل دوسرا حصہ اس بات کا احاطہ کرتا ہے کہ کس طرح اصغری نے حکمت اور دانائی کے ساتھ گھر کا ناصرف خرچہ چلایا بلکہ اس گھر کی بچت میں اضافہ کر کے اسکی دولت کو بڑھاوا دیا جبکہ اسی دوران اپنے خاندان کے سماجی تعلقات کو بھی بہتر بنایا۔ اس نے سارے گھر کا انتظام اس انداز کے ساتھ چلایا کہ گویا گھر نہ ہوا کوئی مشین ہو گئی جو کہ مکمل طور پر کار آمد ہو۔ اس نے اپنے شوہر کی اصلاح کرتے ہوئے اس کی جوئے کی لت کو ختم کرایا اور اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ عربی زبان اور کھاتہ داری و میزان یعنی حساب کا علم سیکھے۔ اصغری نے اپنی ساکھ اس حد تک بنالی تھی کہ محلے کے اچھے اور عزت دار خاندان کی ایک بد مزاج اور پھوہڑ لڑکی، حسن آراء، کو اس کے پاس بطور شاگرد تربیت کے لئے بھیجا گیا اور جلد ہی اس نے اپنے گھر میں اک چھوٹا سا اسکول کھول لیا جہاں وہ محلے کی بچیوں کو لکھنا، پڑھنا اور اس کے علاوہ سینا پرونا خصوصی طور پر آرائشی کڑھائی اور کھانا پکانا بھی سکھاتی تھی۔ ہمیں اس دوران اصغری کے کئی طریقہ تدریس سیکھنے کو ملتے ہیں ( جیسا کہ زردہ بنانے کا طریقہ اور ساتھ ہی دوسرے تعلیمی اداروں یا اسکولوں کے بیزار کن معمول، نا انصافی اور بچے کی ضروریات سے عاری ہونا بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا معاشرے میں کتنا بے اثر کردار ہے۔) اصغری کی طالبات گڑیوں کو کپڑے پہناتی تھیں (پس کپڑے، اس کی بناوٹ و بُنائی اور تقریبات کے پہناوے کی پہچان ہوتی تھی) ساتھ ہی وہ گڑیوں کے لئے کھانے کا انتظام بھی کرتی تھیں جو کہ وہ خود پکاتی اور کھاتی تھیں جس کے خرچے کا مختصر سا بجٹ طے کر کے اس کا سارا حساب کتاب کھاتے کی صورت درج ہوتا تھا۔ ملکہ وکٹوریہ اور ریاست بھوپال کی بیگمات ان بچیوں کے لئے مثال کا درجہ رکھتی تھیں اسی طرح وہ انگریزی مائیں بھی جو اپنے بچوں کو خود سے دور کر کے اسکول بھیجا کرتی تھیں کہ ان کا پیار ہی انہیں اپنے بچوں کا اچھے مستقبل کی خاطر انہیں دور کرنے پر مجبور کرتا تھا نہ کہ ہماری مائیں جو بچوں کو لاڈ کر کے بگاڑنے کا سبب بنتی ہیں۔ اصغری کی عقلمندانہ نصیحت اور حکمت سے کی گئی محنت کے ذریعے اور پر جوش اصرار کے باعث اس کا شوہر سیالکوٹ میں انگریزوں کے ہاں ملازم ہوگیا۔ شروع میں ہر چیز ترتیب کے ساتھ جاری و ساری تھی لیکن جلد ہی اس کا شوہر بری صحبت میں مبتلا ہوگیا اور اصغری نے بغیر اطلاع کے ریل گاڑی کے ذریعے سیالکوٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ جانے سے پہلے اکبری اور اس کے شوہر کو مشترکہ خاندانی گھر میں بلوالیا اور ایک ڈیڑھ سال کی انتھک محنت کے بعد اپنے شوہر کی بری عادتوں کی اصلاح کرنے میں کامیاب ہوئی اور دونوں دہلی اپنے گھر واپس آگئے۔ آتے ہی اصغری نے پہلے کام کے طور پر مولوی صاحب (سسر) کے کام اور اپنی تقرری سے سبکدوشی کا انتظام کیا اور ساتھ ہی ان جگہ اپنے جیٹھ اکبری کے شوہر کی اسی جگہ برتی کا انتظام کردیا۔
اصغری کا آخری معرکہ اپنی محبت اور چاہت، جو کہ حسن آراء اور دوسری طالبات اس پر نچھاور کرتی تھیں، کا فائدہ اٹھانا تھا تاکہ وہ اپنی چھوٹی نند محمودہ کی شادی حسن آراء کے چھوٹے بھائی سے کرا سکے۔ اصغری کے مطابق تین خوبیاں جو کسی لڑکی کی شادی کے لئے ہمارے معاشرے میں پیش نظر رکھی جاتی ہیں وہ ' دولت، حسن اخلاق اور خوبصورتی' ہیں اور محمودہ ان میں سے صرف دولت سے محروم تھی۔ لیکن لیاقت و قابلیت کے لحاظ سے محمودہ ہونے والے دولہے سے زیادہ لائق و فائق تھی۔ کئی دنوں کی محنت، سیاست اور حکمت عملی اور تھوڑی بہت جذباتی دھمکیوں کے بعد وہ یہ کارنامہ سر انجام دینے میں کامیاب ہو گئی۔ اصغری سادگی سے شادی کے حق میں تھی اور اسی کا چرچا کرتی تھی لیکن پھر بھی کئی دانائی بھری لیکن شاطرانہ تدبیروں کے ذریعے اتنا جہیز جمع کرلیا جس کا کسی کو گمان نہ تھا اور محمودہ کی شادی سادگی لیکن پر وقار انداز سے طے پائی گئی۔ چونکہ محمودہ اصغری کی تربیت یافتہ تھی اور مسلسل اصغری کی رہنمائی کی طالب تھی جس وجہ سے اب اصغری کے پاس ایک نادر موقع تھا کہ وہ بڑے پیمانے پر مسائل کا حل نکالے جس میں وہ کمال رکھتی تھی۔ مختصر اختتامیہ میں ہم اس بات سے آگاہ ہوتے ہیں کہ اصغری نے اپنی زندگی میں کئی یادگاریں چھوڑیں۔ ' جو کارنامے اس نے ناموافق حالات میں ایک عورت ہونے کے باوجود سر انجام دئیے وہ تادم مرگ اس کی یادگار کے طور پر پہچانے جائیں گے'۔ آگے ہمیں ان یادگاروں سے متعارف کرایا جاتا ہے جس میں ایک حویلی، ایک مسجد، ایک سرائے اور مختلف صدقہ جاریہ کے چھوٹے چھوٹے ادارے اور کام دہلی میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اس کی زندگی میں صرف خوشیاں اور کامیابیاں ہی نہیں تھیں بلکہ وہ ہر انسان اور عورت کی طرح مختلف پریشانیوں اور آزمائش میں مبتلا رہی: اگر چہ اس کی کئی اولاد ہوئیں لیکن اکثر کم عمری میں ہی انتقال کر گئی خصوصی طور پر ایک چھوٹی بیٹی کی وفات کے دکھ نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا لیکن اِس کا اُس نے وقار کے ساتھ اور اللہ کی مشیت پر راضی رہتے ہوئے سامنا کیا۔ ایک بار پھر اصغری کے والد نے ایک طویل ناصحانہ اور معلمانہ خط، جو کہ پورے آخری باب پر مشتمل ہے، کے ذریعے اپنی بیٹی کی دلجوئی کی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ اصغری کا ایک بیٹا بلوغت کی عمر کو بھی پہنچا اور اس کی شادی اصغری کی نند اور شاگرد محمودہ کی اکلوتی بیٹی سے ہوئی۔
This entire review has been hidden because of spoilers.
"دستور ہے کہ میاں بیبیوں میں بگاڑ اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں پیدا ہوا کرتا ہے، از بسکہ اکثر چھوٹی سی عمروں میں بیاہ ہو جاتا ہے۔ خدا کے فضل سے عقل مصلحت اندیش نہ میاں میں ہوتی ہے نہ بی بی میں۔ اگر ذرا سی بات بھی خلاف مزاج دیکھی تو میاں الگ اکڑے بیٹھے ہیں اور بی بی الگ منہ اوندھائے لیٹی ہیں اور جب ایک جگہ کا رہنا سہنا ہوا تو مخالفت کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا بیش تر واقع ہوتا کیا تعجب ہے یہ ��خالفت کثرت سے ہوتے ہوئے آپس کے اتحاد اور باہم کی موافقت میں بڑا فتور پیدا کرتی ہے اور دونوں طرف سے لحاظ اور پاس اٹھ جاتا ہے اور تمام عمر جوتیوں میں دال بجتی رہتی ہے۔ سب سے بہتر تدبیر یہ ہے کہ میاں بی بی شروع سے اپنا معاملہ ایک دوسرے کے ساتھ صاف ر کھیں اور ادنیٰ رنجش کو بھی پیدا نہ ہونے دیں ورنہ یہی چھوٹی چھوٹی رنجشیں جمع ہو کر آخر کو فساد عظیم اور بگاڑ ہو جائیں گی اور رنجش کو پیدا نہ ہونے دینے کی یہ حکمت ہے کہ جب کوئی ذرا سی بات بھی خلاف مزاج واقع ہو اس کو دل میں نہ رکھا منہ در منہ کہہ کر صاف کر لیا۔"
ڈپٹی نذیر احمد کے ناول "مراۃ العروس" کو اردو کا پہلا ناول کہا جاتا ہے۔ اس کی کہانی بچپن سے ہی سنتے آئے ہیں۔ کہانی ہے دو بہنوں، اکبری اور اصغری کی۔ اکبری جو بڑی بہن ہے لیکن وہ پھوہڑ، غیر ذمہ دار اور بدسلیقہ عورت ہے جو اپنی لاپرواہی کی وجہ سے نقصان اٹھاتی ہے۔ اس کے برعکس اصغری، اس کی چھوٹی بہن سلجھی ہوئی ،تعلیم یافتہ، ذمہ دار اور خودمختار ہے۔ اس نے عقلمندی اور سمجھداری سے اپنے گھر کو سنبھالا اور اپنے شوہر کے خاندان میں بھی عزت کمائی۔ دونوں بہنوں کی شادی ایک ہی گھر میں ہوئی لیکن دونوں کے ازدواجی تعلقات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں۔ اس پورے ناول کا نچوڑ اصغری کے باپ کے لکھے گئے خط تھے، جو بہت سبق آموز ہیں۔ خصوصاً اولاد کے حوالے سے لکھا گیا خط، جس پر ناول کا اختتام ہوتا ہے۔
ہر بات کو اس تناظر میں دیکھنا کہ یہ عورتوں کو دابنے کے لیے ہے، کچھ درست نہیں۔ میں نے چند تبصرے دیکھے تھے جو مراۃ العروس کو "آؤٹ ڈیٹڈ" کہتے ہیں اور یہ کہ اس میں عورت کو صرف گھر تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ عورتوں کو تعلیم یافتہ ، ذمہ دار، خودمختار اور سلیقہ شعار ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ مراۃ العروس ایک 'ٹائم لیس' ناول ہے۔ اس میں ایسا کچھ بھی نہیں جو آج کے حوالے سے قابلِ اعتراض ہو، ہاں مختلف ضرور ہو سکتا ہے۔
"دنیا کے تمام تعلقات صرف اتنے واسطے ہیں کہ آدمی ایک دوسرے کو فائدہ پہنچائے۔ ہم چند روز کے واسطے کسی مصلحت سے اس دنیا میں بھیجے گئے ہیں اور یہاں ہم کو کسی کا باپ، کسی کا بیٹا کسی کا بھائی بنا دیا ہے اس واسطے کہ لوگ ہماری اور ہم لوگوں کی مدد کریں اور صلح کاری اور ناسازگاری میں اپنی زندگی جو مقرر کر دی گئی ہے پوری کر جائیں۔ دنیا ہمارا گھر نہیں ہے۔ ہم کو دوسری جگہ جا کر رہنا ہو گا، نہ کوئی ہمارا ہے، نہ ہم کسی کے ہیں ہم اگر کسی کے باپ ہیں تو صرف چند روز کے واسطے اور اگر کسی کے بیٹے ہیں تو بھی چند روز کے واسطے۔"
ڈپٹی نذیر احمد کو اسکول کے وقتوں میں پڑھا تھالیکن ان وقتوں میں اردو سے خاصی دلچسپی نہیں تھی یا تو استاد ٹھیک سے نہیں پڑھاتے تھے یا مضمون دلچسپ نہیں ہوتے تھے-
اب پندرہ سال بعد انکی کتاب میرات العروس پڑھی جو کہ انتہائی دلچسپ سبق آموز کتاب ہے- یہ کتاب سکھڑ اور پھوڑ، نکمی اور کمیری، بیوقوف اور سمجھدار لڑکیوں کی ہے-
یہ کہانی ہے اکبری اور اصغری کی، انکی تربیت کی، الگ الگ ماحول کی، انکی شادی خانہ آبادی کی، سسرال اور میکے کی، عیاشی اور کفایت شعاری کی نیز اس کتاب میں اتنے سبق ہیں کے بندہ کیا کیا لکھے-
اردو کے پہلے ناول نگار کا پہلا ناول جو انہوں نے دراصل اپنی صاحبزادی کی تربیت کیلئے تحریر کیا تھا، مگر قدرت نے اسے آئندہ ادوار کی صاحبزادیوں کیلئے بھی تحفے کے طور پر امر کر دیا ہے۔ کہانی کیا ہے کہ کہانی کے نام پر پند و نصائح کا مجموعہ ہے، جو ہر لڑکی کو آئندہ زندگی کیلئے ایسا تیار کر سکتا ہے، جتنا کہ عام استانیاں اور ماں باپ کی نصیحتیں بھی نہ کر سکیں۔ یہ کتاب قاری کیلئے بلا واسطہ تربیت کا سامان کرتی ہے اور اس کے اختتام پر ہر پڑھنے والے کی عمدہ تربیت پایہء تکمیل کو پہنچتی ہے۔ یہ کہانی دو بہنوں اکبری اور اصغری کی ہے، جن کی تربیت، زندگی اور مستقبل ایک دوسرے سے ایسا متضاد ہے جیسے زمین اور آسمان۔ اکبری خانم بد مزاج، پھوہڑ، بے وقوف، امور خانہ داری اور دنیاداری سے بے بہرہ کردار ہے جبکہ اس کے برعکس اس کی چھوٹی بہن اصغری نہایت با تمیز، خوش خلق، سلیقہ مند، ذہین اور جملہ گھر داری کے امور کی ماہر خاتون ہے۔ مزید یہ کہ کہانی ان کے بچپن، شادی، سسرال اور آئندہ زندگی کے احوال پر مشتمل ہے۔ کتاب میں ڈپٹی صاحب کے لکھے دیباچہ کے علاوہ اصغری کے والد دوراندیش خان کے بیٹی کو شادی کے موقع اور اصغری کی سات سالہ بیٹی کی فوتیدگی کے موقع پر لکھے گئے خطوط اس ساری تربیت کی جان ہیں۔ اگر ان تمام باتوں کو کوئ بھی پلے باندھ لے تو کتنے ہی کٹھن حالات ہوں، زندگی کو جنت بنا سکتا/سکتی ہے۔ یہ ایک اعلی پائے کی کتاب ہے، جسے آج کے دور میں نصاب تعلیم میں شامل کرنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ ہر ذمہ دار ماں باپ کو چاہیئے کہ اولاد کو کسی نا کسی بہانے اس کا مطالعہ کروائیں۔ انشاءاللہ مفید ثمرات ظاہر ہوں گے!
As you read the English translation (by G. E. Ward) of the original Urdu book Mirat- ul- Uroos by Nazir Ahmad, it is difficult to believe that it was originally published more than a 150 years ago. Even the translation is about 125 years old!
It is a mostly engrossing story (I needed to skip large tracts on ethical conduct as per Islamic beliefs) of 2 sisters with opposing characters. Set in post- Mughal Delhi, it portrays life in middle class Muslim society in intimate detail.
The book was a bestseller of its time and sold more than 100000 copies! It emphasises the role of education of girls for the upliftment of society. It does advocate values that today we would find abhorrent (although still advocated by maulvis promoting fundamentalism), but any progress can only be led gradually and therefore the author needs to be appreciated for his progressive thoughts on women empowerment in 19th century India.
This is an old book written by a man to teach women the right way to live. So of course some of the ideas are outdated. However, I was pleasantly surprised by the encouragement of reading and learning for girls (even though the reason for that encouragement is just so so) and I also enjoyed the headstrong younger sister who got things done and led the family, even if she was still only seen as good because she did it in a demure way and made sure she talked to the elders and men of the family "in the right way". I also liked the brief conversation in the story about whether weddings need to be extravagant and about whether a woman should earn money too.
1. As the book is written in pure Urdu so it s so hard to read, I didn't understand the meanings of half of the words. 2. the story is stretched way too long. 3. The abilities of the 13-year-old girl seem so unrealistic to me I guess it is because of the environment and society we are living in.
SOME POSITIVE POINTS OF THE BOOK :
1. the moral is very good for young girls. 2. the book tells us how a young girl should portray herself 3. age does not matter in learning skills and household chores.
Worth reading. A little disclaimer though, the book is written in old Urdu which is quite hard to read and understand sometimes. I struggled with some of its vocab but thankfully got the essence. I guess everyone's gonna learn a thing or two after read this.
Giving an interesting picture of colonial India under Queen Victoria. A bit exaggerating at point, showing norms and vanities of Delhi's Muslim families with a corrective didactic approach..