A promising young Marathi poet and editor, he runs a little magazine and publishing house known as Abhidhanantar.He is president of an advertising firm in Mumbai.
I have not only read Hemant Divate's poems but also translating them into Urdu. Hemant is a promising young Marathi poet and editor, he runs a little magazine and publishing house known as Abhidhanantar.He is president of an advertising firm in Mumbai. Here is one of his poem's Urdu version.
: آج، ابھی ابھی
آج، ابھی ابھی دماغ میں سُن رہا ہوں ’تاکی پاتھر‘ سے آتی ’آرتی‘ گائے جانے کی آواز باہر گونج رہا ہے دلیر مہدی کا گانا
ابھی ابھی، آج میں نے یاد کیا ہے بالک مندر نرسری اسکول کے قریب بنائے جانے والے چبوترے کو جہاں جمع ہونے والی تاریکی میں اکیلا نکالوں گا دل کی بھڑاس کھینچوں گا فلش کی زنجیر تاکہ بہہ جائے دماغ جو جمع کر رہا ہے سارے جذبات یہاں تو اتنے سارے لیمپوں میں دم گھٹتا ہے میرا
آج ابھی ابھی مجھے یاد آیا ہے تم تھیں دس کی اور میں بارہ کا – پانی کے ڈرم کے پیچھے فراک اٹھا کر تم دکھا رہی تھیں اپنے دُھنی تب یہ کوئی سیکس نہیں تھا بس کوئی خواہش تھی ایک دوسرے کے ساتھ اور رو برو ہونے کی سب کچھ دکھانے کی
اب میں بھی برہنہ ہوں اور وہ بھی
کھلے پڑے ہیں ہمارے جسم اور اپنے دماغوں میں ہم ہیں پورے کپڑوں میں