کہانی کا مرکزی خیال یہ ہے کہ وقت سے پہلے کچھ نہیں مِلتا جو آزمائش اور مصيبت لکھی ہوئی ہوتی ہے وہ سہنی پڑتی ہیں اور کبھی کبھی وقت کی برا وقت بھی آتا ہے تو ہاتھ پر ہاتھ در ہر نہیں بیٹھ جانے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ ہم کوشِش کرنی ہوگی اور پہلا قدم رکھنا ہوگا اور بزدلی انسان درگور کرکے رکھ دیتی ہے قاتل خاندان میں سے نہیں ہے
This entire review has been hidden because of spoilers.
سیاستدانوں اور جاگیرداروں کے گھر والی زارا عمیر رائے اور سفید پوش طبقے والی انعم اور عظمی یونیورسٹی فیلوز اور سہیلیاں ہیں۔ تینوں کی بات چیت اور نوک جھوک کافی دلچسپ ہوتی ہے ـ زین العابدین بھی اسی یونیورسٹی کا طالبعلم ہے جسکے ذریعے زارا کو اپنی فیملی کے کچھ ماضی کے چھپے ہوئے معاملات کا پتہ چلتا ہے۔
نین تاره ایک انتہائی مظلوم سینڈریلا ـ
افتخار کھوکھر پنجابی ادب سے لگاؤ رکھنے والا طالبعلم جو ماحول کو مزاحیه رکھنا جانتا ہے ـ اور عظمی اس سے خار کھاتی ہے۔