Jump to ratings and reviews

But Shikan

Paperback

Published January 1, 2020

Loading...
Loading...

About the author

Amaya Khan

3 books2 followers

Ratings & Reviews

What do you think?

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
15 (53%)
4 stars
8 (28%)
3 stars
4 (14%)
2 stars
1 (3%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 11 of 11 reviews
Profile Image for Palwasha Here.
261 reviews29 followers
January 12, 2025
وہ شاید یہی چاہتی تھی کہ اسے 'ناپسند' کیا جائے۔

ہاہ ۔۔۔
بہت ہی منفرد تحریر! یہاں تک کے لکھنے کا انداز بھی کافی انوکھا تھا۔ منفرد اس میں تھی مہریز اور رامین کی کہانی، کس طرح وہ دونوں پہلی بار ملے اور کیسے ان کی دوستی ہوئی، آگے بڑھی۔ سبھی اتار چڑھاؤ۔ اس ناول کی دو نمایاں خوبیاں جو مجھے پسند آئیں وہ تھیں انداز تحریر اور کردار نگاری۔ ہر کردار کو تفصیل سے لکھا گیا ہے۔ رامین اور مہریز، رامین کے والدین، ان کی شخصیات، ان پہ اثر انداز ہوتا ان کے والدین (رامین کے نانا نانی، دادا دادی) کا رویہ اور برتاؤ، اور سب سے اہم بات یہ کہ کسی کی بھی شخصیت بنانے، سنوارنے اور بگاڑنے میں والدین کے برتاؤ کا کتنا ہاتھ ہوتا ہے یہاں تک کے وہ کیسے دوسروں سے رشتے اور تعلق جوڑتا، نبھاتا یا توڑتا ہے یہ سب اسے اس کی فیملی سکھاتی ہے۔
لیکن یہ ناول شروع کرنے سے پہلے ذہن میں یہ رکھنا ہو گا کہ یہ صرف ایک رومینس ناول نہیں ہے اس میں پیرنٹنگ کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ رائٹر آپ کو مختلف ادوار میں لے جا کر کرداروں سے متعارف کروائے گی اور ان کی کہانی بھی سنائے گی لیکن یہ سبھی کہانیاں نہ ہوتیں تو رامین اور مہریز بھی نہ ہوتے۔ بہت دلچسپ (میں اچھا نہیں دلچسپ کہہ رہی ہوں) رشتہ تھا رامین اور اس کی ماں کا۔ نازنین کا کردار بھی رائٹر نے خوب لکھا۔
پڑھنے والا مہریز کی محبت میں گرفتار ہوئے بغیر نہیں رہ پائے گا وہ سبھی کچھ محسوس کرے گا جن سے مہریز گزر رہا ہوگا

You're gonna feel for this guy and... his girl too!

رامین نے سیاہ جارجٹ کا بہت عام سا لباس پہن رکھا تھا۔ لیکن وہ بہت خاص لگ رہی تھی۔


کچھ تھا اس میں جو بہت خاص تھا۔ میں اسے ریٹنگ دینے سے پہلے ایک بار پھر سے پڑھنا چاہوں گی کیونکہ میں اس فکر کے ساتھ پڑھتی رہی کہ پتہ نہیں ہیپی اینڈنگ ہو گی یا نہیں یہ دو ایسے کردار تھے جنہیں میں ہر صورت خوش دیکھنا چاہتی تھی اور اب جبکہ مجھے پتہ ہے کہ ہیپی اینڈنگ ہوئی میں بہتر طور پہ اسے جذب کر پاؤں گی۔


پذیرائی ہر کسی کو اچھی لگتی ہے لیکن رامین کے لیے یہ نیا تجربہ تھا۔

یہ نیا منظر ہر تھوڑی دیر بعد مہریز کی توجہ کھینچ رہا تھا۔ خوش، مطمئن ،اور مسکراتی ہوئی رامین۔

محبت مجبور تو ہو سکتی ہے ظالم نہیں۔ وہ رامین سے محبت کرتا تھا اس لیے بےبس تھا۔ مجبور تھا۔


مہریز کی شخصیت اس کے جذبات اور رامین سے جڑی یہ حقیقت کہ ہم صرف اپنی ذات کو لے کر نہیں چلتے خود سے جڑے رشتوں اور ان سے ملی مایوسیوں کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ یہ انسانی نفسیات کا بہت اچھا تجزیہ تھا۔


وہ فقط سوئے ہوئے محل کی سوئی ہوئی اس شہزادی کی مانند تھی جس کی محبت حاصل کرنے کے لیے شہزادے کو سو سال انتظار کرنا تھا۔ ۔۔۔
سو سال بعد ہی وہ خاردار جھاڑیوں سے
گھرے اس محل کی حدود پار کر سکتا تھا

مہریز: رامین کے نظر آتے ہی اس کا ذہن جیسے مفلوج ہو جایا کرتا تھا۔


رامین: تمہارے ساتھ ہوتے ہوئے مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں خود اپنے ساتھ ہوں۔

جو سچ پوچھو تو ہم تم زندگی بھر ہارتے آئے
بے یقینی کے خطرے سے کانپتے آئے
ہمیشہ خوف کے پیراہنوں سے اپنے پیکر ڈھانپتے آئے
ہمیشہ دوسروں کے سائے میں اک دوسرے کو چاہتے آئے


Most of the times you read a soulmate-love-story yet sometimes you comes across a twin soul love story. This one is a twin soul love story.
1,259 reviews36 followers
December 2, 2025
3.3 star

عجب قحط پڑا اب کہ سال اشکوں کا
کہ آنکھ تر نا ہوئی خوں میں نہا کر بھی

The plot was kind of unique, but I feel like the execution could have been better.
Despite this, the story taught me a lot. Also, what a green flag Mehrez was.
15 reviews1 follower
February 28, 2025
But Shikan by Amaya Khan is a beautifully written novelette that explores how parental behavior deeply impacts a child's emotional well-being.The novel masterfully explores how the behavior of parents—whether intentional or not—can leave lasting scars on a child’s mind, shaping their perceptions, self-worth, and future relationships.The story is both heart-wrenching and inspiring, making it a must-read for those who appreciate emotionally deep narratives. Highly recommended!
Profile Image for Laiba Ahmad.
19 reviews2 followers
March 30, 2025
ناول: بت شکن
مصنفہ: امایہ خان

"بت شکن" ایک آئینہ جو ہماری پرستشوں کو پاش پاش کر دیتا ہے۔
امایہ خان کا ناول "بت شکن" اردو فکشن میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے، جو محض محبت کے لطیف جذبوں میں گم نہیں رہتا، بلکہ انسانی نفسیات، رشتوں کی الجھنوں، اور معاشرتی رویوں کی تلخ حقیقتوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ کہانی صرف ایک داستان نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے، جو ہمیں وہ چہرہ دکھاتا ہے جسے ہم دیکھنے سے کتراتے ہیں۔

نازنین اور عبید – ہمدردی، نفرت، اور ترس کے سنگم پر کھڑے کردار، یہ دونوں کردار کسی سیدھی لکیر کی مانند نہیں، بلکہ جذبات کے پیچ و خم میں الجھے ایسے سائے ہیں، جو محبت کی راہوں میں بھٹکتے خود کو منزل کی طرف گامزن سمجھتے ہیں، مگر انجامِ سفر انہیں ایک ایسے چوراہے پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہر سمت پچھتاوے کی دھند چھائی ہوتی ہے۔

یہ کہانی بتاتی ہے کہ زندگی کا ہر فیصلہ وقتی جذبات کے طوفان میں بہہ کر نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر شادی جیسے بندھن میں قدم رکھنے سے قبل۔ جذبات کی آنچ پر پکنے والے فیصلے اکثر وہ زنجیریں بن جاتے ہیں جو عمر بھر پاؤں جکڑے رکھتی ہیں۔

کسی بھی رشتے میں توازن کا برقرار رہنا ضروری ہے، کیونکہ اگر ایک جھک جائے تو دوسرا سراخودبخود بلند ہو جاتا ہے، اور یہی عدم توازن ایک خاموش بغاوت کو جنم دیتا ہے۔

یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی میں کسی نہ کسی بت کا پجاری ہوتا ہے۔کوئی محبت کا، کوئی انا کا، کوئی خواہشوں کا، اور کوئی خوابوں کا۔ مگر جب ان کی پرستش انسان کو اندھا کر دے، تو پھر یہی بت ایک روز پاش پاش ہو جاتے ہیں، اور پیچھے رہ جاتی ہیں صرف ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں۔

زندگی کبھی مکمل نہیں ہوتی، کوئی نہ کوئی کسک، کوئی نہ کوئی ادھوری خواہش ہمیشہ باقی رہ جاتی ہے۔ کبھی کچھ نہ کہہ پانے کا پچھتاوا، کبھی کچھ زیادہ کہہ دینے کا بوجھ۔ مگر سب سے تکلیف دہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنے ہی فیصلوں کے نتائج سے نظریں نہیں ملا سکتا۔

تشدد، چاہے ذہنی ہو یا جسمانی، کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ظلم کرنے والا ہی قصور وار ہوتا ہے یا وہ حالات اور رویے بھی، جو کسی شخص کو سنگدل بنا دیتے ہیں؟

یہ ناول صرف انسانی نفسیات، رشتوں اور معاشرتی رویوں کا تجزیہ نہیں کرتا، بلکہ اس میں مصوری، مجسمہ سازی اور مال پر زکوٰۃ نہ دینے جیسے موضوعات کو بھی نہایت خوبصورتی سے زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ یہ عناصر ناول کو محض ایک روایتی کہانی سے نکال کر ایک فکری مکالمے میں تبدیل کر دیتے ہیں، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔گویا اس ناول میں گہرے اور وسیع موضوعات کو مختصر مگر مؤثر انداز میں سمو دیا گیا ہے، جیسے سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہو۔

اندازِ بیاں سادہ مگر اثر انگیز ہے، اور کم الفاظ میں گہری بات کہنے کا ہنر نمایاں ہے۔ ان کی تحریر جذبات سے بھرپور ہے، جو قاری کو کہانی کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔

کہانی کے اختتام پر ایک ایسا سوال کھڑا ہوتا ہے جو دیر تک دل و دماغ میں گونجتا رہتا ہے: وہ ماں کیسی ہوگی، جس کے مرنے پر اس کی اولاد کو ماتم کے بجائے سکون ملے؟ ماں، جو سراپا محبت ہے اگر وہی اتنی سنگدل ہو جائے کہ اس کی اولاد اس کی موت کو قید سے رہائی سمجھے، تو کیا قصور وار وہ ماں ہے، یا وہ حالات جنہوں نے اس کے دل میں ممتا کی جگہ پتھر بھر دیے؟
لائبہ احمد
Profile Image for E..
129 reviews
January 16, 2025
"تمہیں نہیں معلوم جب سر سے خون بہتا ہے تو کتنا درد ہوتا ہے... اور... زخم دینے والے ہاتھ اپنے ہوں تو آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں"

مصنفہ کو پہلی بار پڑھا ہے اور اندازِ تحریر اچھا لگا۔
اس کہانی میں ولن کون ہے؟ شاکر علی، جو اپنی شادی سے خوش نہیں تھے اور گھر سے باہر رہتے ہوئے بیوی اور اولاد سے غافل رہے، اپنی ایک بیٹی کے علاوہ باقی اولاد کو نظر انداز کرتے رہے۔ نازنین، جس کے باپ کو اپنی اولاد میں صرف اسی سے محبت تھی، جس کے حصے میں باپ کی شفقت، اس کا غرور آیا، جسے اس نے متکبر اور مادہ پرست بنا دیا۔ عبید، جو نازنین کی ظاہری صورت پر مر مٹا، وعدے وعید کیے لیکن شادی کے بعد نازنین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا یا اس کے گھر والے جو کسی باہر والی کو قبول نہ کر سکے؟ غلطی کسی کی بھی ہو، اس کا خمیازہ ان لوگوں کو بھگتنا پڑا جو بے قصور تھے۔۔۔ محسنہ، مہ جبیں، طارق اور تابندہ جن سے شاکر علی اپنی پوری زندگی بے نیاز رہے۔ اور رامین اور شاہزیب جن کا بچپن ماں باپ کے جھگڑوں کو دیکھتے اور ماں کی کڑوی باتیں سنتے گزرا۔ جب ان کی عمر اپنی زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھرنے کی، گھر کی تاریکی نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہر کسی نے اپنے حصے کے دکھ اٹھائے۔ حیرانی ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ ماں باپ کے جھگڑے، ان کا غیر منصفانہ رویہ، منفی ماحول اور بےجا تنقید بچوں کی شخصیت میں ایک گہرا خلا چھوڑ جاتا ہے جو کبھی بھی نہیں بھر سکتا۔ بچپن کی وہ محرومیاں ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔

"وہ بوجھ دو نا اہل انسانوں نے اس کے نازک کندھوں پر زبردستی دھر دیا جسے خود اٹھانے کی سکت ان میں نہیں تھی۔ اس بوجھ نے کمسن انسان کو کیسے توڑا پھوڑا یہ جاننے کا تردد کبھی نہیں کیا۔ بس ہر گزرتے دن کے ساتھ اس بوجھ میں اضافہ کرتے گئے۔ انتہائی بے رحمی کے ساتھ۔۔"

نازنین کو زندگی میں کیا نہیں ملا لیکن اس کی آنکھیں ہمیشہ منفی رخ دیکھتی رہیں۔ طاقت اور خودپرستی کے نشے میں چور، اپنے مقصد کے حصول اور اپنی تسکین کے لیے اس نے اپنی اولاد کو جینے نہ دیا۔ ایک عورت، ایک ماں، اپنی اولاد کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہے جو نازنین نے اپنے بچوں خصوصاً رامین کے ساتھ کیا۔
اس ناول میں میرے پسندیدہ رامین، مہریز اور حرا ہیں۔ حرا جو بڑے ہی غیر محسوس طریقے سے رامین کو ماضی سے نکلنے کا حوصلہ دیتی رہی۔
ناول میں مصنفہ نے "خودترسی" اور "خود پرستی" کی دو انتہاؤں کو بڑے گہرے اور پر اثر طریقے سے بیان کیا ہے کہ 'من مندر کے بتوں' کو توڑ کر ہی انسان زندگی میں آگے بڑھتا ہے۔
اختتام بھی بہت اچھا تھا۔ ( ویسے اگر اضافی سینز مل جاتے تو اور بھی اچھا ہوتا)

"دونوں ماں بیٹی میں زیادہ فرق نہیں تھا۔ ایک خود پرستی میں مبتلا ۔ ایک خود ترسی میں ۔ دونوں کیفیات انسان کو صرف "میں" تک محدود رکھتی ہیں۔ وہ صرف اپنے بارے میں ہی سوچتے ہیں بس۔ اور ان کے اس "میں" کا بھگتان ان کے پیاروں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ایک ظالم تو دوسرا مظلوم بن کر تمام عمر اسی رنج میں گرفتار رہتا ہے کہ اسے اس کا حق نہیں ملا۔
یہ دونوں انسان کبھی خوش نہیں رہ پاتے، بے یقین، بے اعتبار رہتے ہیں۔ کسی نعمت کا شکر بھی ادا نہیں کر پاتے۔"
Profile Image for پاکیزہ.
9 reviews1 follower
July 19, 2026
A straight 4.5 star from me.The writing style and storyline was very captivating although it didn’t had any mystery line still pulled me in and I didn’t get bored of it once .I loved how it highlighted many psychological issues,one of main among them being “parenting “and how it destroys generations and still was covered very beautifully,another one being the title of the book”but shikan” which roughly translates to idol breaker ,this perspective which seems to be portrayed through the character of nazneen,but nope it can very well be vice versa too which we get to see later on through the character of “rameen”
The main characters being “rameen” and “ mehraiz”,absolute sweet heartss ,i formed such a soft spot for rameen,and mahraiz,total cutie and green flag
The romance was the one which subtlety fluffs your heart,i throughly enjoyed it,the kind of trope i don’t see much in urdu books or if i see it seems kind of forced but not here at all.
I will highly recommend it to you all
Enjoyyyyyyyyy
Profile Image for Mah.
4 reviews
February 9, 2025
شروع کے ایک دو صفحات میں مجھے یہ عام کہانی لگی مگر اگلے ہی صفحات نے مجھے غلط ثابت کیا۔ لکھاری کا لکھنے کا انداز، ہر چیز کو عمدگی سے بیان کرنا،کرداروں کے احساسات کے ایسی خوبصورت ترجمانی اور کہانی سب بہترین تھا۔
رامین کے کردار نے مجھے بہت جگہ رولایا اور حوصلہ بھی دیا۔ رامین کے دکھ اور اس سے نکلنے کے سفر، خود کو دوبارہ جاننے کے سفر کو لکھاری نے بہت خوبصورت لکھا ہے۔ مہریز کا کردار ایک بہت ہی شائشتہ اور نرم دل انسان کا سا ہے۔
کہانی کا اختتام میرا پسندیدہ ہے جہاں لکھاری نے دکھایا کے کیسے ایک مشکل اور کٹھن دور سر گزر کر رامین نے اپنا آپ واپس پایا اور اپنے غم اور دکھ سے اگے بڑھ کر زندگی کی نئی شروعات کی
Profile Image for Alif.
1,422 reviews
January 4, 2026
this sure was a captivating read but didn’t live up to the hype for me! people who like traumatic stories might like this book lekin mujhe bohot repetitive aur dragged lagi! i mean first 4 qist are full of same scenes in different wording! 🫠

things only picked up in the last 2 qist jab male aur female lead finally mile! lekin tab tak mera kahani me interest hi khatam ho chuka tha! i liked the ending though - the writer gave a very important sabaq!
Profile Image for Roha Mumtaz.
96 reviews1 follower
June 11, 2025
Tarbiyat or khaslat naslein snwar bh skti hain or ujar bh skti hain… ak khandan… alag ifrad… ak makan … alag kahaniyan. Zabardast kitab🫶🏻😩
Displaying 1 - 11 of 11 reviews