کلیات حبیب جالب آپ کے سامنے ہے۔ یہ چھے شعری کتابوں اور تازہ کلام کا مجموعہ ہے جسے پہلی مرتبہ ایک جلد میں یکجا کیا گیا ہے۔ بے شک، یہ حبیب جالب کے کروڑوں چاہنے والوں کے لیے نیا تحفہ ہے۔ ایک شاعر اپنی زندگی میں زمانی ترتیب سے کلام کو شائع کرواتا ہے۔ نئی کتاب میں اپنے مدّاحین یا کبھی اپنے پبلشر کے اصرار پر معروف اور مقبول کلام کی مکرر اشاعت بھی بعض اوقات لازم ٹھہرتی ہے۔ حبیب جالب کا کلام اب تک پاکستان و ہندوستان کے مختلف پبلشرز سے شائع ہوتا رہا ہے۔ کچھ منتخب کلام پر مبنی مجموعے بھی شائع ہوئے، جن میں ’’حرفِ حق‘‘ اور ’’حرفِ سرِدار‘‘ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ ’’حرفِ سرِدار‘‘، اس مجموعے کا تو نام بھی مشتاق احمد یوسفی کا تجویز کردہ تھا۔ اب جبکہ حبیب جالب کے تمام تر کلام کے حقوق بک کارنر جہلم کو تفویض ہو چکے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ حبیب جالب کی صاحبزادی ’’طاہرہ حبیب جالب‘‘ نے ادارے کے اشاعتی معیار کو سراہتے ہوئے حبیب جالب کے تمام تر مجموعۂ کلام کو یکجا کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ ادارہ اپنے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے اس مجموعے کی اشاعت کو بھی بہت ذمہ داری سے شائع کرنے کا خواہاں ہے۔ لہٰذا اب تک حبیب جالب کے جتنے بھی شعری مجموعے شائع ہوئے انھیں جمع کرنا شروع کیا گیا۔ اس معاملے میں ہم حبیب جالب کے پہلے پبلشر ’’مکتبۂ دانیال‘‘ کی منیجنگ ڈائریکٹر حُوری نورانی صاحبہ کے بھی شکرگزار ہیں، جنھوں نے اپنے ادارے سے شائع ہونے والی کتابوں کے ذاتی اور آخری نسخے فراہم کیے۔ چند گوہرِنایاب کی دستیابی میں لاہور سے محترم باقر علی شاہ نے اہم کردار ادا کیا۔ خاص کر کتاب ’’ذکر بہتے خون کا‘‘ وہ فراہم نہ کرتے تو یہ کلیات منہ بسورتی رہ جاتی۔ خدا انھیں سلامت رکھے۔ کلیات کی ترتیب شروع ہوئی۔ فیصلہ کیا کہ حبیب جالب کی کتابوں کو زمانی ترتیب کے ساتھ مجموعہ میں شامل کیا جائے۔ اس کا پہلا فائدہ تو یہ ہوا کہ ہر کتاب جو اپنی شہرت میں مثال تھی اور جس کا نام آج تک لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہے، زندہ رہے گا۔ دوسرا یہ کہ، ابتدا میں ہر کتاب پر لکھا گیا دیباچہ، مقدمہ یا پیش لفظ بھی کتاب کا حصہ ہو گیا جن میں احمد ندیم قاسمی، سبطِ حسن، زاہدہ حنا، مخدوم علی خان اور ڈاکٹر عندلیب شادانی جیسے نامور ادیبوں کی تحریریں شامل ہیں۔ دورانِ ترتیب کوشش کی گئی ہے، جہاں ایک غزل، نظم یا قطعہ دو جگہ شائع ہوا ہے اسے پہلی کتاب میں رکھ کر باق