کچھ مہینے پہلے سپرنگ فیسٹیول کے دوران میں نے بُک سٹال نمبر 54 سے درجنوں کتابیں، جن میں علامہ اقبال، البرٹ کامیو، فرانز کافکا، اور خصوصاً فیودور دوستوفسکی جیسے بڑے بڑے ادیب شامل تھے، یہ سوچ کر خریدیں کہ جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد تسلی سے اپنی مرضی کی کتابیں پڑھوں گا۔ اردو ادب کی صرف دو کتابیں خریدیں، ایک "پطرس کے مضامین" اور دوسری "جنت کی تلاش"، جس میں اول الذکر احمد شاہ پطرس بخاری جب کہ آخر الذکر رحیم گل کی تصنیف ہے۔
عید الاضحی کے فوراً بعد میں نے انگریزی میں سے "The Reconstruction of Religious Thought in Islam" شروع کی، جس کا ابھی کچھ ہی حصہ پڑھا ہوا ہے۔ ساتھ ساتھ پطرس کے مضامین بھی شروع کی۔ اور آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں نے یہ کتاب اپنے قریبی دوست جنید حسن کی تجویز پر خریدی تھی۔ طنز و مزاح سے یہ میرا دوسرا واسطہ تھا، اس سے پہلے میں "شٹ اپ" پڑھ چکا ہوں، جو کہ عارفہ صبح خان کی لکھی ہوئی ہے، لیکن وہ میں نے بچپن میں پڑھی تھی، سو پطرس بخاری کو ہی طنز و مزاح سے میرا پہلا واسطہ مان لیجیئے۔
چوں کہ میں نے اس کتاب (پطرس کے مضامین) کی بہت تعریف سنی تھی، اس لیے میں نے بہت محبت سے پڑھنا شروع کیا۔ Cover Page پر مصنف کا مختصر سا تعارف تحریر تھا اور ساتھ ان کی اس تصنیف کی دلکشی کے قصائد بھی درج تھے، مثلاً "پطرس کے مضامین پاکستان اور ہندوستان میں اسکولوں سے لے کر جامعات تک اردو نصاب کا حصہ ہے"۔ سو ایک کریلا اوپر سے نیم چڑھا کے مصداق میں اور بھی زیادہ خوش ہوا اور پڑھنا شروع کیا۔ پہلے کچھ صفحات پڑھ کر مجھے شبہ ہوا کہ شاید "وارم اپ" چل رہا ہے اس کے بعد موصوف لائن پہ آئیں گے، کچھ ایسا لکھیں گے جس سے میری اس کتاب سے وابستہ امیدیں پوری ہوں، میں کچھ نیا سیکھوں، کچھ نیا پڑھوں، لیکن بدقسمتی سے شبہات کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ مشکل ہی سے درست نکل آتے ہیں، لہٰذا یہ "وارم اپ" کتاب کے آخری مضمون کے آخری صفحے کی آخری سطر کے آخری لفظ کے آخری حرف تک جاری ہی رہا۔
سچ کہوں تو اس کتاب میں زندگی سے متعلق کچھ بھی نہیں ہے، اس میں کوئی فلسفہ ہے، نہ ہی تاریخ۔ تنقید ہے ، نہ ہی کوئی انسانی نفسیات۔ اب آپ کہیں گے کہ میرا شائد دماغی توازن درست نہیں جو طنز و مزاح میں فلسفہ اور تاریخ وغیرہ ڈھونڈ رہا ہوں۔ اس حوالے سے اپنے دماغی توازن کو نارمل ثابت کرنے کے لئے ثبوت کے طور پر یہ بھی واضح کردوں کہ اس کتاب میں مزاح تک نہیں ہے۔ المختصر اس کتاب میں پڑھنے لائق کچھ بھی نہیں ہے۔ البتہ ایک مضمون "مرید پور کا پیر" کچھ حد تک مزے کا لگا تھا، جس کے ایک صفحے کی تصویر بھی میں نے ساتھ اپلوڈ کی ہے۔
ہاں، تصنیف کے شہرت کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے میرے خیال میں، وہ یہ کہ یہ جس وقت لکھی گئی تھی تب سوشل میڈیا خصوصاً reels کا زمانہ نہیں تھا، شائد اس لئے اس وقت کے قارئین اس کتاب کو پڑھتے ہوئے محظوظ ہوتے ہوں گے۔ موجودہ زمانے کے قارئین کو میں یہ مشورہ دوں گا کہ اگر آپ کے پاس پڑھنے کے لئے کوئی دوسری اچھی کتاب ہے تو "پطرس کے مضامین" پر بالکل وقت ضائع نہ کریں۔ کچھ اچھا پڑھیں، جس سے آپ کا ذہن کھلے، آپ کی سوچ میں وسعت پیدا ہو، اور آپ میں اچھا پڑھنے، لکھنے، بولنے اور سوچنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ اگر بالکل فارغ ہیں، کوئی اچھی کتاب نہیں ہے پڑھنے کے لئے، اور پڑھنے کا من ہو، یا کسی طرح وقت گزارنا ہو تو پھر بے شک پڑھ لیجیے اور پڑھنے کے بعد مجھے اپنی قیمتی رائے سے بالکل آگاہ کرنے کی کوشش نہ کیجیے۔
آخر میں میری جنید بھائی سے گزارش ہے کہ اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو خدارا آئندہ دوستوں کو کوئی ڈھنگ کی کتاب تجویز کریں۔ (اور ہوسکے تو اس کتاب کی قیمت مجھے واپس کر دیں، یا کم از کم آدھی قیمت)