رفعت ناہید سجاد،افسانہ نگار، ناول نگار اور ماہر تعلیم ہیں۔ اُن کا زیرنظر ناول ”چراغ ِآخر ِشب“ پاکستان کی تاریخ کے مد و جزر سے متعلق ہے۔یہ پاکستان کی کہانی ہے ، جس کے ماضی کی رُوداد لکھی جا چکی ، جس کے حال کے پاس اب کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا اور جس کے مستقبل کے لیے نئے چراغ روشن کرنے ہوں گے۔ اس کے کردار بھی عام پاکستانی ہیں، جدوجہد کرتے، انقلاب کے تبدیلی کے خواب دیکھتے پاکستانی، سماج کو بدلنے کے لیے اپنے اپنے حصے کی اینٹ لگانے کی کوشش کرتے، ہرصبح ایک نئی امید، ہر شام ایک پرانی تھکن کے ساتھ۔ ادب کا ایک کام سماجی تاریخ کو رقم کرنا بھی ہوتا ہے، جس سے ہمارے یہاں صرفِ نظر کیا گیا، ہمارے یہاں کے ادب میں سیاسی منظرنامہ کم کم ہی ملتا ہے۔ رفعت ناہید سجاد نے اس ناول میں سماج میں تبدیلی کے لیے متحرک، استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے، عوامی تحریکوں میں زندگیاں تج دینے والوں کو اپنے کرداروں میں ڈھالا اور سماجی تاریخ میں زندہ کردیا ہے۔یہ کہانی کسی ایک نظریے کا پرچار نہیں۔ تاریخ کے بیان میں ،لکھنے والے کے انداز اور نکتہ نظر میں تو فرق ہو سکتا ہے، لیکن واقعات کی جمع تفریق میں نہیں۔ ” چراغ آخر شب“ کی کہانی ، روشنی کی وہ لکیر فراہم کر رہی ہے، جس کا سرا پکڑ کرموجودہ نسل ، جن کے دل اپنی زمین سے اکھڑنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں ،اپنے گھروں کو واپس لوٹے گی۔
یہ ناول تین نسلوں پر محیط رادود پاکستان ہے، جس میں ہر نسل پاکستان کے مختلف ادوار کی سیاسی تاریخ کی شاہد ہے۔ جن کے مشاہدات، تجربات اور احساسات کے ذریعے مصنفہ نے ایک پوری قوم کے فکری، سیاسی اور اخلاقی سفر کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ محض چند کرداروں کی ذاتی داستان نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی یاس و امید پر مبنی تاریخ، خواب دیکھنے اور ان کے ٹوٹنے کی روداد ہے۔
ناول کی پہلی نسل وہ ہے جس نے پاکستان کے قیام کا نہ صرف خواب دیکھا بلکہ اس خواب کو شرمندۂ تعبیر بھی ہوتے دیکھا۔ خواب سے تعبیر کے اس سفر میں بہنے والا لہو دیکھا۔ وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی تکالیف برداشت کیں، مگر دلوں میں امید کی شمع جلائے رکھی کہ یہ نیا ملک انصاف، آزادی اور انسانی وقار کا گہوارہ بنے گا۔ ان کے خواب بلند تھے، مگر وہ خواب حقیقت کے کٹھن مراحل میں بکھرنے لگے۔ پھر بھی وہ حوصلوں کی شمع بلند کیے، اس کی روشنی میں، اپنے بچے کھچے خاندان سمیت اپنی منزل کی جانب رواں رہے۔
دوسری نسل نے مارشل لاء اور سیاسی انتشار کے دور کو دیکھا۔ یہ وہ دور تھا جب قوم کے خوابوں پر جبر، مایوسی اور مصلحت کے پردے پڑنے لگے۔ اس نسل کے کردار تعلیم یافتہ، باشعور اور ملکی ترقی کے خواہاں ہیں، مگر حالات کی سختی اور نظام کی کرختگی ان کے حوصلوں کو بار بار مجروح کر دیتی ہے۔ عباس رشید اس نسل کے نمائندہ کردار ہیں جو ایک ایسے تعلیم یافتہ، باشعور اور باحوصلہ فرد کی علامت ہیں جو ملک میں فکری بیداری چاہتا ہے، لیکن اقتدار کے اندھیروں اور سماجی جمود کے باعث خود تنہائی کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں ہے مگر آخری دم تک اپنے حصے کی شمع جلائے رکھتے ہیں اور اس کی روشنی نئی نسل تک پہنچانے کی بھی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہ کردار ہے جس نے جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہا، قید و بند کی صعوبتیں بلند حوصلگی سے برداشت کیں، پشت پر کوڑوں کے وار سہے مگر پھر بھی ان کا سینہ عزم سے بھرپور اور سر فخر سے بلند رہا۔
تیسری نسل ایک فکری طور پر بیدار مگر الجھی ہوئی نسل ہے۔ یہ نسل اپنے بزرگوں کے خوابوں اور اپنے والدین کی مایوسی کے درمیان کھڑی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ ملک کے مسائل کہاں کہاں ہیں، مگر اسے واضح راستہ نہیں دکھائی دیتا۔ اس نسل کے اندر سوال ہیں، اصل صورتحال کا تجزیہ کرنے کی اہلیت ہے، اور تبدیلی کی خواہش بھی، مگر اسے ایک ایسے سماج میں سانس لینا ہے جہاں ہر سطح پر بے حسی اور مفاد پرستی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
رفعت ناہید سجاد نے ان تینوں نسلوں کی کیفیات کو ایک تسلسل میں جوڑ کر دکھایا ہے کہ پاکستان کا سفر محض سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور فکری زوال و احیاء کی کہانی بھی ہے۔ پہلی نسل روشنی کا خواب دیکھتی ہے، دوسری اندھیروں سے لڑتی ہے، اور تیسری اس چراغ کی لو کو بچانے کی کوشش کرتی ہے جو بجھتے بجھتے بھی قائم ہے۔ مصنفہ نے ان کرداروں کے ذریعے یہ دکھایا کہ قوموں کی تعمیر صرف نعرے یا نظریے سے نہیں ہوتی، بلکہ فکری صداقت، اجتماعی شعور اور قربانی کے تسلسل سے ہوتی ہے۔ عورتوں کے کردار یہاں محض گھریلو زندگی کی نمائندہ نہیں بلکہ ضمیر اور استقامت کی علامت ہیں، جو اندھیروں میں بھی اپنے حصے کی روشنی جلانے پر یقین رکھتی ہیں۔
"چراغ آخر شب" دراصل ایک عہد نامہ ہے، ماضی کی قربانیوں، حال کی مایوسیوں، اور مستقبل کی امیدوں کا۔ یہ ناول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قوموں کے سفر میں اصل سرمایہ وہ لوگ ہیں جو خواب دیکھتے ہیں، ان پر یقین رکھتے ہیں، اور اندھیروں کے باوجود امید کی شمع جلائے رکھتے ہیں۔
اس ناول میں میرے لیے سب سے دلچسپ اور پسندیدہ تیسری نسل کا گروپ اور ان کی فکری و دوستانہ نشستیں رہی ہیں۔ یہ کردار دراصل تیسری نسل کے باشعور، پڑھے لکھے مگر فکری طور پر متذبذب نوجوانوں کی علامت ہیں۔ ان سب کے درمیان قائم دوستی ایک گہری معنویت رکھتی ہے، یہ دوستی صرف میل جول کا نام نہیں بلکہ سوچ اور سوال کی اشتراکیت ہے۔ یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ اپنی رائے، خواب، شک اور مایوسیاں بانٹتے ہیں۔ ان کے مکالمے ملک کے سماجی اور سیاسی حالات پر تبصرہ معلوم ہوتے ہیں، مگر درحقیقت یہ نئی نسل کی فکری بے چینی کا اظہار ہیں۔
یہ گروپ آزادیِ اظہار، سماجی انصاف اور انسانی اقدار پر بحث کرتا ہے۔ ان میں سے کچھ حقیقت پسند ہیں، کچھ خواب دیکھنے والے، اور کچھ مصلحت کا شکار۔ ان سب کے درمیان ایک ذہنی قربت ہے۔ ان کی دوستی ایک ایسے عہد کی نمائندہ ہے جہاں نوجوان اپنے ماضی کے خوابوں سے جڑے ہوئے بھی ہیں اور حال کی مایوسیوں سے ٹوٹے ہوئے بھی ہیں۔ ان کرداروں کے ذریعے مصنفہ نے یہ دکھایا ہے کہ پاکستان کی نئی نسل میں سوچنے اور سوال کرنے کی جرأت تو موجود ہے، مگر عمل کی سمت دھندلی ہے۔ ان کی فکری نشستیں اس حقیقت کی علامت ہیں کہ قوم کا مستقبل انہی نوجوانوں کے شعور سے وابستہ ہے۔ وہ نوجوان جو ملکی نظام سے اختلاف کے باوجود ہر اندھیرے میں اپنے حصے کا “چراغ” جلانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں چاہے اپنے حصے میں روشنی کی بجائے دھواں ہی آئے جیسا کہ جمال کے ساتھ ہوا۔
قیام پاکستان سے لے کر آج تک اگر اس ملک کی سالمیت کے لیے بہت سے لوگوں نے بے لوث قربانیاں دی ہیں تو ان کالی بھیڑوں کی تعداد بھی کم نہیں جو اس ملک کی رگوں سے خون چوس کر اسے کھوکھلا کر ری ہیں۔ "نعیم ملک" اور "سارہ حق" جیسے کردار اسی طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں جو ملک و قوم کے نام پر مفادات حاصل کرتے ہیں، مگر درحقیقت ان کے اندر نہ قومی درد ہوتا ہے نہ اخلاقی احساس۔
نعیم ملک ایک خود غرض، موقع پرست اور لالچی شخص ہے جو ذاتی مفاد کے لیے ملکی مفادات کا سودا کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ وہ ان لوگوں کی علامت ہے جو پاکستان کے سیاسی نظام میں ہر دور میں موجود رہے، جو وقت کے ساتھ اپنا چہرہ اور بیانیہ بدلتے ہیں، مگر مقصد ہمیشہ ذاتی فائدہ رہتا ہے۔ وہ قومی خدمت کے دعوے تو کرتا ہے مگر دراصل وہی مارشل لاء، بدعنوانی اور سماجی منافقت کو مضبوط کرتا ہے جن کے خلاف مخلص اور محب وطن لوگ لڑتے ہیں۔ یہ کردار اس طبقے کی نمائندگی کرتا ہے جو اقتدار، دولت اور غیر ملکی مفادات کے لیے اپنے وطن سے غداری کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا اور خفیہ طور پر ایسے عناصر سے وابستہ ہوتا ہے جو ملک میں انتشار، بدعنوانی اور فکری زوال کو ہوا دیتے ہیں۔ وہ طاقت کے ایوانوں کے قریب رہ کر فیصلوں کو اپنے مفاد کے مطابق موڑتا ہے، اور اپنی چالاکی، خوش گفتاری اور تعلقات کے ذریعے قومی وسائل کا ناجائز استعمال کرتا ہے۔ وہ صرف ایک شخص نہیں بلکہ ایک علامت ہے، اس ذہنیت کی جو ذاتی عیش و آرام کے لیے قومی مفادات تک کو بیچ دیتی ہے۔
یہ کردار بتاتا ہے کہ ملک صرف بیرونی دشمنوں سے نہیں بلکہ اندرونی منافقین، سازشی اور خود غرض لوگوں سے تباہ ہوتے ہیں۔ وہ بظاہر روشنی کے دعوے دار ہوتے ہیں مگر دراصل اندھیرے پھیلانے والوں کے مددگار ہوتے ہیں۔ نعیم ملک بھی ایسا ہی اندھیرا ہے جس کے مقابل روشنی کی تلاش ناول کا اصل مقصد بن جاتی ہے۔
اس ناول کا دوسرا منفی ترین کردار سارہ حق ہے جس کی شخصیت منافقت، خود پسندی اور مفاد پرستی کا امتزاج ہے۔ وہ عورتوں کے حقوق کی بات تو کرتی ہے مگر اس کا مقصد سماجی تبدیلی نہیں بلکہ ذاتی فائدہ اور شہرت حاصل کرنا ہے۔ اس کے عمل اور گفتار میں تضاد نمایاں ہے، بظاہر وہ ایک عورتوں کے حقوق کی علمبردار، باشعور اور ترقی پسند خاتون دکھائی دیتی ہے، جو خود کو مظلوم عورتوں کی آواز قرار دیتی ہے، مگر درحقیقت وہ اسی نظام کا حصہ ہے جو عورت کے استحصال کو مضبوط بناتا ہے۔ زبان پر آزادی اور انصاف کے نعرے ہیں مگر دل میں مفاد، چالاکی اور خودنمائی کی خواہش ہے۔ مصنفہ نے اس کردار کے ذریعے اس طبقے پر تنقید کی ہے جو خود کو مظلوم طبقے کا ہمدرد ظاہر کر کے دراصل اصلی جدوجہد کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سارہ حق جیسے لوگ عورت کے حقیقی مسائل کو سیاسی یا ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس سے سچائی اور خلوص پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یوں سارہ حق اس معاشرتی رویے کی علامت ہے جو اخلاص کے لبادے میں خود غرضی چھپاتا ہے۔ وہ عورت کے نام پر تحریک تو چلاتی ہے مگر عورت کے عزت و وقار کی پرواہ نہیں کرتی۔ اس کردار کے ذریعے مصنفہ نے یہ دکھایا ہے کہ سماج میں اصل خطرہ صرف ظالم مرد نہیں، بلکہ وہ منافق عورتیں بھی ہیں جو نام نہاد حق اور انصاف کی بات کر کے دراصل اپنے مفاد کی سیاست کرتی ہیں۔
رفعت ناہید سجاد نے ان دونوں کرداروں کو "کالی بھیڑوں" کے طور پر پیش کر کے ایک گہرا سماجی احتجاج درج کیا ہے کہ قوم کے زوال میں صرف بیرونی طاقتیں نہیں، بلکہ ایسے اندرونی عناصر بھی برابر کے ذمہ دار ہیں جو نظریات کا لبادہ اوڑھ کر قوم کے اعتماد کا استحصال کرتے ہیں۔
ان کرداروں کی موجودگی ناول کے مرکزی موضوع کو توازن بخشتی ہے۔ جہاں ایک طرف نائلہ مہدی، عباس رشید اور نوجوان نسل جیسے کردار امید، روشنی اور اخلاقی قوت کی علامت ہیں، وہیں نعیم ملک اور سارہ حق جیسے کردار ملکی زوال، منافقت اور مفاد پرستی کی اندھیری دنیا کے نمائندے ہیں۔ یہی تضاد ناول کو حقیقی بناتا ہے اور فکری طور پر گہرائی بخشتا ہے۔
"پراسرار ہونے کے باوجود وہ تنہا نہیں تھی۔اس جیسے بہت سوں سے پاکستان بھرا ہوا تھا۔ وہ نہ ہوتی تو حقوق انسانی کی ساری تنظیموں کی دال روٹی کہاں سے چلتی۔سفید فام کس پر گلا پھاڑ کر چلاتے ۔ بریکینگ نیوز سنسنان ہو جاتی۔ پاکستان کو برا بھلا کہنے کا موقع بھی ہاتھ سے جاتا رہتا۔"
چند دن پہلے رفعت ناہید سجاد کا ناول "اک موسم دل کی بستی کا" پڑھا، اندازِ تحریر دلچسپ لگا۔ اس کے بعد ان کے افسانوں/ناولٹ کا مجموعہ "ریت پر تیرتے جزیرے" پڑھا۔ "چراغِ آخرِ شب" پڑھنا شروع تو پی ڈی ایف سے ہی کیا تھا لیکن کچھ جملے پڑھ کر ہی احساس ہو گیا کہ کتاب ہونا ضروری ہے۔ فوراً ہی منگوا لی۔
کچھ کہانیاں، کچھ کتابیں اپنے آپ میں اتنی گہری اور بھرپور ہوتی ہیں کہ وہ قاری کو گنگ کر دیتی ہیں اور ایسے آئینہ دکھاتی ہیں کہ انسان خود سے جھجکتا ہے۔ یہ کتاب پڑھتے ہوئے میں اسی کیفیت کا شکار تھی۔ مجھے لگتا ہے اس کتاب کے ورق ورق کے ساتھ میں نے ایک زمانہ جیا ہے۔کافی عرصہ بعد مجھے کسی کتاب نے یوں متاثر کیا کہ وقت اور جگہ کی تمیز بھول گئی۔ کئی مناظر پرھتے ہوئے حلق میں ایک گولہ سا محسوس ہوتا تھا۔ ان کرداروں کی اداسی میرے اپنے دل میں اترتی تھی۔ بہرحال مجھے نہیں لگتا کہ میرے الفاظ اس کہانی کے ساتھ انصاف کر سکیں گے۔
تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے۔ حکمران ہوں یا طاقتور طبقہ، یہ ہر دور میں اپنے مفادات کی خاطر یکساں طرز عمل اپناتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہی ہمارے ملک نے اندرونی خلفشار، سیاسی سازشوں اور معاشی استحصال جیسے مسائل کا سامنا کیا۔ قیام کے کچھ سال بعد ہی سقوطِ ڈھاکہ کا دردناک واقعہ جس نے پوری قوم کے دل چیر دیے۔ مارشل لاء کے طویل ادوار میں جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا، عوام کے حقوق پامال ہوئے، ان حکمرانوں کے خلاف سوچنے اور بولنے پر پابندی لگی۔ کبھی آمریت نے ملک کو روند ڈالا، کبھی جمہوریت نے، یہ تاریخ خون، آنسوؤں اور قربانیوں سے لکھی گئی ہے۔ جب کبھی کوئی امید کی کرن ابھری، اسے بھی بےدردی سے بجھا دیا گیا۔
لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن کا "اسَی ایف" جہاں سر رشید عباس اور ان کا خاندان آباد ہے۔ ایک ایسا خاندان جو ماضی کے زخموں سے آزاد نہیں ہو سکا، لیکن تعلیم یافتہ، روشن خیال، پاکستان سے محبت کرنے والا ہے اور مستقبل کے لیے اب بھی پر امید ہے۔ سر عباس ہی وہ مرکز ہیں جن کے گرد اس کہانی کے سب کردار جمع ہوتے ہیں۔ اس خاندان کی نئی نسل کی انقلاب اور تبدیلی کے کیے کوششیں جاری ہیں۔ مگر ماضی کا سایہ بھی کبھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔ یہ پاکستان کی کہانی ہے، اس ملک کی 65 سالہ تاریخ، پاکستان کی تین نسلوں کی کہانی ہے، اس کے ماضی کی داستان، حال کا قصہ اور مستقبل کی ایک آس۔ یہ ان خوابوں کی کہانی ہے جو اس ملک کی بنیاد میں رکھے گئے تھے، اور ان دکھوں کی کہانی ہے جو ہر نسل نے اپنے اپنے انداز میں جھیلے ہیں۔
"انفرادی فرد تاریخ نہیں بناتا۔ لیکن اجتماعی افراد کا ہر واقعہ تاریخ بن جاتا ہے۔ جس میں ہر ایک کی ذات کا اپنا اپنا حصہ شامل ہوتا ہے۔ سو یہ بہت بڑے ذمے داری ہے۔"
کہانی ہر کردار اپنے آپ میں مکمل ہے۔ وہ سر عباس رشید ہوں جو پاکستان کی محبت اور اس کے دیے گئے زخموں کا استعارہ ہیں، جن پر اپنے ملک اور ماضی کا دکھ ٹھہر گیا ہے اور اب ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ نائلہ بیگم، آپائی اور کریم بی ایسی وضعدار، مضبوط،باوقار اور سچی فطرت کی نمائندہ خواتین۔ (عطن،جون آف آرک، حمید، قاسم، رشید) ماضی کے وہ کردار جو اپنے حصے کا کام کر کے اب "اسیَ ایف" کی گیلری میں لگی تصویروں میں سٹل ہو گئے�� عبیر، تنویر، عثمان، شہریار، رضا، حمیرا، جمال اعجاز، قیصر اور فاروق جیسے نئی نسل کے نوجوان کردار، جو تبدیلی کے خواب دیکھتے ہیں، شعور بیدار کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ سارہ حق اور نعیم ملک ایسے منافق کردار بھی ہیں جو جس تھالی کا کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں ۔ پھر ثریا ہے جو اپنے اصل سے بھاگنے کی خواہش کرتی ہے لیکن بار بار اسی کی طرف لوٹتی ہے۔ اکبر اعظم، پروین اور نسیمہ بی بی پست طبقے کے نمائندہ ہیں جو امیروں کے قدموں تلے روندے جاتے ہیں۔ یہ سب لوگ/کردار ہر زمانے میں مختلف ناموں کے ساتھ موجود ہوتے ہیں اور اپنے طبقے کے نمائندگی کرتے ہیں۔ سب سے بہترین کردار مجھے فاروق احمد اور سلمان احمد کا لگا۔ سلمان احمد جو آج بھی ملک کے لیے کچھ نہ کر سکنے کہ احساسِ جرم میں مبتلا ہیں۔
"اب لوگ آنے والی نسل کی طرف امید سے دیکھتے ہیں ۔ کیوں کہ آس کبھی ختم نہیں ہوتی ۔"
یہاں ہیرو کون ہے؟ کیا وہ جو انقلاب کے خواب دیکھتا ہے؟ یا وہ جو خاموشی سے ظلم سہتا ہے؟ یا پھر وہ جو ہارنے کے بعد بھی امید کا دیا بجھنے نہیں دیتا اور اپنے حصے کا کام اور کوشش کرتا رہتا ہے؟ یہ سوال تو اس کہانی کے کرداروں نے بھی کیا۔
"زندگی کہانی ہے یا کہانیاں زندگی سے نکلتی ہیں؟ ہیرو کون ہوتا ہے؟ کردار ہیرو ہوتے ہیں یا واقعات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں؟ کبھی کہانی بیان کرنے والا خود کوئی کہانی ہوتا ہے۔" میری باتیں یقیناَ بے ربط سی ہیں، یہ کتاب کا ہی قصور ہے۔ میں نے بہت کم الفاظ استعمال کیا ہے حقیقت میں یہ کتاب اپنے آپ میں ایک عہد ہے۔ مصنفہ اس کتاب کے لیے یقیناً داد کی حقدار ہیں۔