Jump to ratings and reviews
Rate this book

URDU: JAB DUNIYA REZA REZA HO JAY GI

Rate this book
Jab Dunia Reza Reza Ho Jae Ge by Dr. Muhammad Abd Al-Rahman Al-Areefi

654 pages, Hardcover

2 people want to read

About the author

Muhammad Al-'Areefi

83 books26 followers
Muhammad bin Abdul-Rahman Al-Arifi (Arabic: محمد بن عبدالرحمن العريفي) is a Saudi Arabian author and Da'i. He is a graduate of King Saud University and member of the Muslim World League and the Association of Muslim Scholars.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
0 (0%)
4 stars
1 (100%)
3 stars
0 (0%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 of 1 review
Profile Image for Ifrah Tahir.
17 reviews9 followers
October 29, 2024
-🍁کتاب: جب دنیا ریزہ ریزہ ہو جائے گی
مصنف: ڈاکٹر محمد بن عبدالرحمن العریفی
صفحات: ۶۵۴
ناشر: دار السلام
🍂خلاصہ
قرآن و حدیث کی روشنی میں قرب قیامت کی نشانیوں کے مفصل ذکر پر مبنی یہ کتاب دو حصوں میں تقسیم ہے جس میں ابتدائی طور پہ علامات صغریٰ کے باب میں قیامت کی ۱۳۱ چھوٹی نشانیوں کا ذکر ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے محسوس ہوگا کہ ہم عین ان نشانیوں کے وارد ہونے کے دور میں جی رہے ہیں۔ کتاب کا دوسرا حصہ علامات کبری کے نام سے ہے جس میں قیامت کی ۸ بڑی نشانیوں کا ذکر ہے۔ ی انکے وارد ہونے سے متعلق کتنی آگاہی اور تیاری ضروری ہے اس حوالے سے مستند معلومات کا مفید ذخیرہ ہے۔
🍂تبصرہ
کتاب کے مواد سے قبل اس وصف کا ذکر ضروری ہے جو پہلی نظر میں اس کتاب کو قارئین کے لیے پرکشش بناتی ہے۔ وہ وصف اس کتاب کی بہترین اشاعت ہے۔ کتاب کے لیے جس معیاری کاغذ کا استعمال ہوا ہے اس کو چھونا ہی ایک لطیف تجربہ ہے۔ اس کے بعد صفحات پہ صرف تحریری مواد موجود نہیں ہے بلکہ تحریر سے مطابقت رکھتی تصاویر ہر دوسرے صفحے پہ قاری کی توجہ کھینچے رکھتی ہیں۔
علامات قیامت کا ذکر ایک انتہائی سنجیدہ موضوع ہے اور مصنف نے اسے اسی سنجیدگی کے ساتھ برتا ہے۔ نا کسی جگہ سراسیمگی اور خوف پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے اور نا ہی ذکر یوں کیا کہ ان علامات کا واقع ہونا انسان کو کوئی انہونی نا لگے۔ قرآن و حدیث کو ماخذ بنا کے کھری معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیسا کہ اسکا حق ہے۔ بنا کسی تاویل اور حجت کے۔ اب یہ پڑھنے والے پہ منحصر ہے وہ اس معلومات کو کس طرز سے لیتا ہے، کیسے اسے موجودہ حالات اور سائنس وغیرہ سے relate کرتا ہے۔ اور امید، خوف، اور تعمیر کے کون سے نقاط شامل عمل کرتا ہے۔
جیسا کہ مذکور ہے کہ کتاب کے صفحات اور رنگ قارئین کی دلچسپی قائم رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن ممکن ہے کہ کتاب کا مطالعہ بعض افراد کو خشک لگے کیونکہ مصنف نے ہر علامت کا ذکر محض احادیث اور آیات ذکر کر کے ہی کیا ہے، کسی ذاتی رائے کو جگہ دے کے موضوع کو دلچسپ یا سنسنی خیز بنانے کی کوشش نہیں کی گئی جو کہ میری نظر میں اس کتاب کی انفرادیت ہے کہ یہ ایک معلوماتی کتاب ہے نا کہ ذہنی تفریح کا سامان۔ اصلاح کے پہلو تلاشنا قاری کے اوپر ہے۔
🥀تاثرات
اس کتاب کو پہلی مرتبہ جماعت نہم میں دیکھا تھا۔ تب سے اسے اپنی ذاتی کتب کی کلکشن میں شامل کرنے کا شوق تھا اور یہ شوق خاصہ مہنگا تھا سو اس وقت پورا نا ہوسکا پھر یونیورسٹی کے دنوں میں اسے ایک خوبصورت دوست کی جانب سے تحفے میں پایا اور اب جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد کچھ فرصت میسر ہوئی تو شامل مطالعہ کیا اور یوں آج اسے مکمل ہاتھ میں لے کے پڑھنے کا خواب اور پھر سفر مکمل ہوا۔
Displaying 1 of 1 review