Raza Ali Abidi (Urdu: رضا علی عابدی) is a Pakistani journalist and broadcaster who is best known for his radio documentaries on the Grand Trunk Road and the Indus River. His published works include several collections of cultural essays and short stories. He has worked with the BBC Urdu Service and retired in 1996.
شاید رضا علی عابدی کے نام کے حوالے سے میں نے کچھ زیادہ امیدیں لگا رکھیں تھیں اس لیے پہلی بار پڑھنے پر اس کتاب نے مایوس کیا۔ تبصرہ لکھنے کے لئے دوسری مرتبہ سرسری نظر دوڑائی تو کچھ دلچسپی جاگی اور پوری کتاب ایک ہی نشست میں دوبارہ پڑھ لی۔
پہلی مرتبہ پڑھنے پر جو کتاب بے ربط محسوس ہوئی، اُس میں ربط نظر آیا۔ ۔ ۔ زبان جو سپاٹ لگی تھی، اُس میں سادگی کا مزہ آیا۔ ۔ ۔ اور حقائق کی تکرار جو پہلی بار میں اُلجھن کا باعث بنی تھی، وہ موضوع کی مناسبت سے ضروری محسوس ہوئی۔
بنیادی طور پر جہازی بھائی کا سفرناموں میں ہی شمار ہو سکتا ہے مگر اس کتاب میں روایتی سفرناموں کے برعکس، واقعات کی ترتیب زمانی نہیں بلکہ موضوعاتی ہے۔ مثلاً کتاب کا آغاز ماریچ (ماریشس کو ہندوستانی مزدوروں کا دیا ہوا نام) کی تاریخ سے ہوتا ہے۔ پھر جزیرے میں ہندوستانی مزدوروں کی جبراً آمد اور اُن پر ظلم و استبداد کے واقعات کا ذکر ہے۔ ۔ ۔ اس کے بعد کہیں لندن سے ماریشس تک کے ہوائی سفر کی روداد ہے۔ بعد ازاں شب و روز کا احوال رقم کرنے کی بجائے غالب سیمینار کی تقریب (جس کے لئے عابدی صاحب کو مدعو کیا گیا تھا) کے مشاہدات، اُردو زبان کی ترویج کے حوالے سے سرگرم ادارے و محسنین کا تعارف، پاکستان سے متعلق ہر چیز سے پاکستانی سفارت کی روایتی لاتعلقی کا نوحہ، جزیرے کی سیر کی بڑی مختصر کہانی، ایک امام مسجد سے اسلام و مسلمان کے حالات حاضرہ پر ایک نشست اور ماضی و حال کے ماریشس میں جھانکنے کے لئے کئی بزرگوں سے ملاقات کی داستانوں پر ایک ایک باب۔ ۔ ۔ غرض بھانت بھانت کے موضوعات کتاب کو کبھی کوئی رنگ دیتے ہیں، کبھی کوئی۔ شاید یہی وجہ ہے جو دیباچے میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ پڑھیئے اور فیصلہ کیجئے کہ یہ سفرنامہ ہے یا نہیں۔
کتاب پڑھ کر ماریشس کی جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ برصغیر کا ہی ایک نسبتاً جدید حصہ ہے جہاں ہندوستانی ہی بستے ہیں جو کہ میرے خیال میں اتنا صحیح تاثر نہیں کہ ماریشس میں دیگر اقوام بھی بستی ہیں مگر شاید یہ عابدی صاحب کی مٹی سے محبت ہے جو انہیں ہزاروں میل دُور بھی ہندوستان پاکستان اور اُردو کے سوا کچھ قابلِ ذکر نہیں لگا۔ ۔ ۔ جو بھی ہو، فی الحال کتاب کے چند جملے جو پسند آئے، وہ آپ کی نذر۔ ۔ ۔
اس رجسٹر نے آنکھیں کھول دیں۔ ہندوستان میں ذات پات کے تصور کی جیسی تصویر میں نے اس روز دیکھی پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ ہر صفحے پر بائیس مزدوروں کا اندراج ہوتا تھا جن میں تین یا چار مسلمان ہوتے تھے۔ مسلمان مزدور کی ذات کے خانے میں صرف ایک لفظ ہوتا تھا: مسلمان۔
ماریشس والوں کو اس بات کا بڑی شدت سے احساس ہے کہ ان کی اُردو دہلی، لکھنئو اور حیدرآباد کی اُردو جیسی نہیں۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ جس زبان میں مقامی رنگ سمونے کی لچک نہ ہو وہ سوکھی شاخ کی طرح تڑاخ سے ٹوٹ جاتی ہے۔
ہم ماریشس والے ارتقا کے عمل سے گزر رہے ہیں مگر تیاری کے بغیر۔ ہم روایت بھی ترک کر رہے ہیں مگر خود کو تبدیل بھی نہیں کرنا چاہتے لٰہذا ہم ذہنی انتشار کا شکار ہیں ۔ ۔ ۔ آخرالذکر بات کتنی اپنی سی لگتی ہے۔
رضا علی عابدی صاحب سے یہ میرا پہلا تعارف تھا، اور میرے لئے کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ عابدی صاحب کا زیر غور سفر نامہ ماریشس یا کالا پانی، جسے وہاں پہنچنے والے ابتدائ ہندوستانی 'ماریچ' کہتے تھے؛ سے متعلق ہے۔ اور میرے لئے انتہائ خوشی کی بات یہ تھی کہ یہ نا صرف ان کے سفر کے مختصر احوال پر مشتمل تھا بلکہ اسے ماریشس کی تاریخ پر کوزے میں بند ایک سمندر کہنا چاہیئے۔ عنوان 'جہازی بھائ' ان لوگوں سے لیا گیا ہے جو اولین ہندوستان سے کالا پانی لائے گئے تھے اور ازاں بعد یہیں کے ہو رہے، جن کی اولادیں آج بھی وہاں آباد ہیں۔ اور وہ اپنے آپ کو آج بھی 'جہازی بھائیوں' کی اولاد بتاتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے۔ اور زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام لوگوں کو جو یہاں لائے گئے تھے، سب کا ریکارڈ آج بھی وہاں ان کی جملہ معلومات سمیت (نام، ذات، مذہب، قد وغیرہ بمع خوانگی ریکارڈ) اصل رجسٹروں میں درج ہیں اور وہ رجسٹر باقاعدہ کاغذات سے متعلقہ محکمہ میں محفوظ ہیں۔ اس جزیرہ میں سب سے پہلے چھٹی صدی عیسوی میں عرب آئے، ان کے بعد ولندیزی آئے، پھر فرانسیسی اور بالآخر انگریزوں نے یہاں قدم جمائے۔ عابدی صاحب نے اس سارے نو آبادیاتی نظام، غلامی، غلاموں سے سلوک، غلاموں کو دی جانے والے اذیتیں، ظلم و ستم، پھر غلامی سے آزادی، بعد میں برصغیر سے کھیت مزدوروں کو معاہدوں کے تحت لائے جانے کی روداد؛ ان تمام موضوعات کو انتہائ خوبی اور آسان اسلوب میں بیان کیا ہے۔ اور مصنف نے اصل موضوع، اپنے سفر کے اصل مقصد یعنی "غالب" اور "اردو زبان" کا بھی یوں ذکر کیا ہے کہ وہاں اردو بولنے، پڑھنے والے لوگوں کا ذکر، ماریشس کی تاریخ، اسکے باشندوں کے اردو سے لگاؤ اور اردو زبان کے پنپنے وغیرہ کو بھی خوب بیان کیا ہے۔ مزید برآں وہاں کے جغرافیہ، لوگوں کے رہن سہن، خوبصورت مقامات، آب و ہوا، مذاہب، زبانوں وغیرہ کا نہایت پر اثر، مختصر اور احسن انداز میں تذکرہ کیا ہے۔ بہت عمدہ اور لازمی پڑھے جانے کے لائق کتاب ہے۔ آپ سب بھی اس سفر میں عابدی صاحب کے ہمسفر بنیں اور ماریشس کی سیر سے لطف اندوز ہوں۔