ہم نے اپنے ماحول اوراجتماعی و انفرادی زندگی کو اس حد تک جامد ، خشک ، بور اور حسن و کیف سے عاری کر رکھا ہے کہ بحثیت حیوان جن جبلی خوشیوں پر ہمارا حق ہو سکتا تھا ، یہ کہ کر کہ ہم حیوان نہیں،انسان ہیں، خود کو محرام کر دیا ہے۔اور انسان ہونے کے ناتے جن خوشیوں پر حق ہو سکتا تھا یہ کہ کر رد کر دیا کہ ہم مسلمان ہیں، انسان نہیں۔یہ ہے ہمارا ثقافتی المیہ۔۔۔۔ہمارا شمار انسانوں میں اور نہ حیوانوں میں۔ اگر ہم اس طبقے کی مزاحمت نہیں کریں گے جو ثواب اور پارسائ کے نام پر پورے معاشرے کو بلیک میل کرتا ہے، اسے پیچھے رہنے اور گٹھن زدہ زندگی کزارنے پر مجبور کرتا ہے، تو ہمارے وطن میں تہذیب کے رہے سہے آثار بھی ختم ہو جائیں گے۔ یہ کتاب اسی سلسلے کی ایک کاوش ہے۔