This might be most expensive book that I ever bought. Never available in Indian or Pakistani mrkaet. I had to buy it from USA via shipment. Originally written in Punjabi as "Kashni Vehra". It's Punjabi edition is very easy to get but my badluck that I can't read Punjabi in Gurmukhi text, still it being my mother tongue. Usually Punjabi in Pakistan is written in "Shahmukhi" text which is as we write Urdu. This book is second autobiographical work by Balwant Gargi. Not good as previous one but still lovely. The Naked Triangle was more like his personal catharsis of his lovelife. But in this book Gargi reminisces his life as when he met some people, about whom we might wanted to know. I loved the moment when he met Yukio Mishima, the talented Japanese who wasn't only a writer but a bodybuilder and actor. I once read his story that how a writer acts upon ritual of Hara Kiri with his wife. Same goes with Mishima when he embraced death with open arms. Indira Gandhi who once had the power which could make or break anything. The great Reshman, who's voice was a symbol of our folklore. Her nigh notes on recording remind of my childhood. Gargi was no doubt one of the pioneer of Indian theatre. Its shame that theatre couldn't get attention in subcontinent, which it should have, still booming in movie business.
بلونت گارگی سے پہلا تعارف "گارگی بیتی" سے ہوا جو The Naked Triangle کا ترجمہ تھا۔ بلونت گارگی ہندوستانی پنجابی ادیب ہیں جو منٹو، امرتا پریتم اور گلزار جیسے ادیبوں کے ہم عصر رہے ہیں اور انکا بنیادی کام پنجابی تھیٹر میں رہا ہے۔ "گارگی بیتی" ایک حیران کن خودنوشت ہے جس میں انھوں نے اپنی زندگی کے تاریک نجی حقائق کو جس بے باک انداز سے بیان کیا ہے وہ بے حد قابل داد ہے۔ اس آپ بیتی کا اثر یہ ہوا کہ کوئی آپ بیتی آسانی سے پسند نہ آتی۔ اس کو پڑھتے ہوئے ندا فاضلی کی خود نوشت "دیواروں کے بیچ" یاد آتی ہے۔ پرپل مون لائٹ Purple Moonlight بلونت گارگی کی یادداشتوں کا دوسرا حصہ ہے۔ اور اس کتاب میں ندا فاضلی کی کتاب "دیواروں کے باہر" کے انداز میں اپنی نجی زندگی سے ہٹ کر اپنی زندگی میں آنے والے مشہور شخصیات کا غیر روایتی انداز میں ذکر کیا ہے اور انداز بیان ایسا منفرد اپنایا ہے کہ کہیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ بلونت گارگی حالات و واقعات میں موجود ہے۔ وہ تیسرے شخص کا روپ دھار لیتا ہے اور معروضی انداز سے بیان کرتا ہے۔ اور یہ بہت ہی باکمال بات ہے۔ یہ اسلوب ایک عمر کی ریاضت مانگتا ہے جو کہ بلونت گارگی کے فن کی معراج ہے۔ اس کتاب میں ناشر اور لکھاری کے کشمکش کو بیان کیا ہے۔اپنی زندگی میں آنے والے مقامی اور غیر ملکی ادیبوں کا تذکرہ کیا۔ غیر ملکی ادیبوں میں جنوبی ایشیا کے ادیبوں سے غیر منطقی تعصب کو خوبصورت انداز سے بیان کیا ہے اور حکومتوں کے ادبی لکھاریوں کے ساتھ انتہائی ناروا رویے کو بے باک انداز سے پیش کیا ہے۔ روس، چین، برطانیہ اور امریکہ میں کیے گئے اسفار اور ملاقاتوں کا بیان دلچسپ ہے اور پاکستانی فنکارہ ریشماں کا ذکر کھلے دل سے کیا ہے۔ اس کتاب کو UBSPD پبلشرز ڈسٹری بیوٹرز لمیٹڈ ہے۔ 184 صفحات ہیں۔ اس کتاب کا Cover بحالت مجبوری نہیں دیا رہا۔