Jump to ratings and reviews
Rate this book

Mavra / ماورا

Rate this book

120 pages, Hardcover

First published January 1, 1941

Loading...
Loading...

About the author

Noon Meem Rashid

12 books4 followers

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
6 (28%)
4 stars
9 (42%)
3 stars
3 (14%)
2 stars
2 (9%)
1 star
1 (4%)
Displaying 1 - 3 of 3 reviews
713 reviews77 followers
October 16, 2020
کسی سے دور یہ اندوہِ پنہاں ہو نہیں سکتا!
خُدا سے بھی علاجِ دردِ انسان ہو نہیں سکتا!

مرے محبوب، مرے دوست اب جانے بھی دے مجھ کو
بس اب جانے بھی دے اِس ارضِ بے آباد سے مجھ کو!

سوچتا ہوں کہ بہت سادۂ و معصوم ہے وہ
میں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروں
روح کو اُس کی اسیرِ غمِ اُلفت نہ کروں
اُس کو رُسوا نہ کروں وقفِ مصیبت نہ کروں

سوچتا ہوں کہ جلا دے گی محبت اُس کو
وہ محبت کی بھلا تاب کہاں لائے گی
Profile Image for N.
20 reviews11 followers
January 21, 2022
Rashid struggling to live within the confines of his privileged coterie of repressed dudes at ease in their recycled perso-urdu idiomatic strips (ghazals) while simultaneously straining to locate formulas to document his sex life.
Profile Image for Rural Soul.
561 reviews89 followers
August 2, 2025
سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ
میں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروں
...

خدا سے بھی علاجِ دردِ انساں ہونہیں سکتا
...

خیال ہی میں کیا پرورش گناہوں کو
کبھی کیا نہ جوانی سے بہرہ یاب انھیں
یہ مل رہی ہے مرے ضبط کی سزا مجھ کو
کہ ایک زہر سے لب ریز ہے شباب مرا
...

بجھ گئی شمع ضیا پوشِ جوانی میری
آج تک کی ہے کئی بار محبت میں نے
...

تُو مرے ساتھ کہاں جائے گی؟
موت کا لمحہ مایوس نہیں
قوم ابھی نیند میں ہے
مصلحِ قوم نہیں ہوں کہ میں آہستہ چلوں
اور ڈروں قوم کہیں جاگ نہ جائے
میں تو اک عام سپاہی ہوں
مجھےحکم ہے دوڑ کے منزل کے قدم لینے کا
اور اسی سعیِ جگر دوز میں جاں دینے کا
...

Displaying 1 - 3 of 3 reviews