Rashid struggling to live within the confines of his privileged coterie of repressed dudes at ease in their recycled perso-urdu idiomatic strips (ghazals) while simultaneously straining to locate formulas to document his sex life.
سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ میں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروں ...
خدا سے بھی علاجِ دردِ انساں ہونہیں سکتا ...
خیال ہی میں کیا پرورش گناہوں کو کبھی کیا نہ جوانی سے بہرہ یاب انھیں یہ مل رہی ہے مرے ضبط کی سزا مجھ کو کہ ایک زہر سے لب ریز ہے شباب مرا ...
بجھ گئی شمع ضیا پوشِ جوانی میری آج تک کی ہے کئی بار محبت میں نے ...
تُو مرے ساتھ کہاں جائے گی؟ موت کا لمحہ مایوس نہیں قوم ابھی نیند میں ہے مصلحِ قوم نہیں ہوں کہ میں آہستہ چلوں اور ڈروں قوم کہیں جاگ نہ جائے میں تو اک عام سپاہی ہوں مجھےحکم ہے دوڑ کے منزل کے قدم لینے کا اور اسی سعیِ جگر دوز میں جاں دینے کا ...