Jump to ratings and reviews
Rate this book

Aur Line Cut Gai / اور لائن کٹ گئی

Rate this book

Hardcover

Loading...
Loading...

About the author

Kausar Niazi

34 books13 followers

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
48 (51%)
4 stars
23 (24%)
3 stars
17 (18%)
2 stars
3 (3%)
1 star
2 (2%)
Displaying 1 - 12 of 12 reviews
Profile Image for Hammad Gill.
28 reviews6 followers
August 31, 2022
It is not a review, but a book summary:

یہ کتاب 1974 سے 1977 تک کے بھٹو حکومت کے اندرونی حالات کی منظر کشی کرتی ہے۔ 1974 میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کی صدارت کے بعد مسٹر بھٹو اپنی شہرت کے نقطہ عروج پر تھے۔ وہ اسی وقت الیکشن کروا کر عوام سے نیا منڈیٹ لینے کے خواہاں تھے اور اس سلسلے میں انھوں نے کوثر نیازی سے مشورہ کیا تو انھوں نے بھی انکے فیصلے کی تائید کی۔ مگر عبدالحفیظ پیرزادہ نے سختی سے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ چناچہ انتخابات کروانے کا فیصلہ کچھ دیر کے لئے موخر کردیا گیا۔ 1975 کے آخر میں مسٹر بھٹو نے پھر اس بارے میں سوچنا شروع کردیا مگر اب کی بار کوثر نیازی اسکے مخالف تھے۔ انکا ماننا تھا کہ اس وقت پیپلز پارٹی گروہ بندی کا شکار ہے مگر پیرزادہ اور بھٹو نے دلیل دی کہ اپوزیشن مکمل طور پر تقسیم ہے اور عوام میں بھی انکی کوئی خاص مقبولیت نہیں ہے ۔ چناچہ الیکشن کروانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ ایک پورا سال الیکشن کے لیے پس منظر بنانے میں لگ گیا اور 1976 کے آخر میں بھٹو نے الیکشن کا اعلان کردیا۔ جنوری 1977 میں قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کردی گئی۔

مگر اصل مشکل اب شروع ہوئی تھی۔اس وقت مسٹر بھٹو پارٹی لیڈروں سے زیادہ بیوروکریسی اور خفیہ اداروں پر بھروسہ کرنے لگے تھے۔ راؤرشید اور کمپنی مسٹر بھٹو کو مکمل یقین دلائے ہوئے تھے کہ اپوزیشن تقسیم ہے اور وہ انکو "فکس" کردیں گے۔ مگر اس وقت ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب صرف 2 ہفتوں کے اندر اپوزیشن کا 9 جماعتی اتحاد PNA وجود میں آگیا۔ ایسا لگتا تھا کہ کوئی نہ نظر آنے والا ہاتھ حرکت میں آچکا تھا۔

بیوروکریسی پر انحصار کا یہ عالم تھا کہ کوثر نیازی جیسے سینئر پارٹی رہنماؤں کو راؤرشید ہدایات جاری کرتے تھے۔ اس پر جب کوثر نیازی نے احتجاج کیا تو مسٹر بھٹو نے کہا یہ رشید کا نہیں میرا حکم ہے۔ خفیہ اداروں اور بیوروکریسی کی مدد سے ”آپریشن وکٹری“ تیار کیا جاچکا تھا۔ ڈی سی لاڑکانہ نے مسٹر بھٹو کو خوش کرنے کے لئے انکے مدد مقابل کو اٹھا لیا اور کاغزات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ گزرنے کے بعد رہا کیا۔ اس طرح بھٹو بلا مقابلہ فاتح ٹھرے۔ انکی دیکھا دیکھی چاروں وزراء اعلیٰ اور درجن بھر دوسرے ساتھیوں نے بھی یہی روش اختیار کی۔ جس سے الیکشن کی شفافیت پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ بھلے وزیر اعظم نے اس سب کا حکم نا دیا ہو مگر یہ سب کچھ انکے علم تھا اسکے باوجود انھوں نے اسے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔

الیکشن کا نتیجہ آیا تو پی پی پی 2/3 اکثریت سے کہیں زیادہ نشستوں پر فاتح تھی۔ اسی روز PNA نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مسٹر بھٹو نے پیرزادہ سے پوچھا کہ کتنی نشستوں پر گڑبر ہوئی ہے انھوں نے جواب دیا "سر 30 سے 40"۔ چونکہ ان نشستوں کے بغیر بھی پیپلز پارٹی فاتح تھی تو مسٹر بھٹو نے یہ نشتیں اپوزیشن کو دینے کی پیشکش کی مگر اپوزیشن نہ مانی۔ جلد ہی ایجی ٹیشن شروع ہوگئی۔ حالات بگڑے تو لاہور، حیدرآباد اور کراچی میں جزوی مارشل لاء لگادیا گیا۔ جرنیل اب کابینہ میٹنگز میں بیٹھنے لگے۔ اس سے جرنیلوں نے یہ تاثر لیا کہ حکومت پر بھٹو کی گرفت کمزور ہوچکی ہے۔ دن بہ دن ایجی ٹیشن بڑھتا گیا اور بات خون خرابے تک پہنچ گئی۔

مسٹر بھٹو نے الزام لگایا کہ اس سب کے پیچھے امریکہ ہے۔ انھوں نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا "ہاتھی مجھ سے ناراض ہے، ہاتھی کا حافظہ بہت تیز ہوتا ہے اسکی پالیسیوں کے خلاف جانے کا میرا یہ جرم معاف نہیں کیا گیا“ (نوٹ:ہاتھی امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کا نشان ہے۔) انھوں نے یہ بھی دعوہ کیا کہ ”لوگوں کو گرفتاریاں اور آزانیں دینے کے لئے ڈالر دیے جارہے ہیں۔ کراچی میں ڈالر 7-8 روپے کا ہوگیا ہے۔“ انھوں نے ہنری کسنجر کی دھمکی کا بھی حوالہ دیا کہ وہ مسٹر بھٹو کو ”ہولناک انجام کی عبرت ناک مثال“ بنانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ پھر ایک دن وہ کھلی چیپ پر سوار ہوکر روالپنڈی پہنچے اور انھوں نے عوام کے ایک جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے اپنی جیب سے خط نکال کر انکے سامنے لہرایا اور کہا کہ اس میں امریکی مداخلت کے تمام ثبوت موجود ہیں۔

اب تک مسٹر بھٹو جرنیلوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے تھے۔ جرنیلوں کی نیت جانچنے کے غرض سے 31 مئی کو انھوں نے تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور تمام اہم کورکمانڈروں کے سامنے اعلان کیا کہ اگر جرنیل ٹیک اوور کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہوکر لاڑکانہ جانے کو تیار ہیں۔ ‏اس پر جنرل ضیاء اپنی کرسی سے کھڑے ہوئے، قدرے جھکتےہوئے اپنا ہاتھ سینےپر رکھا اور کہا:
“No sir, we have no such intentions. We are the right arm of the government. We are loyal and we will remain loyal.”

انکے اس انداز سے اے بھٹو نے تاثر لیا:

“Lady protesting too much.”

جب مسٹر بھٹو حکومت چھوڑنے کی پیشکش کررہے تھے تو دو جرنیل مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کو کہنیاں مار رہے تھے۔

کوثر نیازی لکھتے ہیں کہ یہ سچ ہے کہ مسٹر بھٹو جنرل ضیا کو آرمی چیف کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ مگر ضیاء نے پہلے وار کردیا۔ 4 جولائی کی رات ساڑھے گیارہ بجے ایک پریس کانفرنس میں مسٹر بھٹو نے اپوزیشن کے تمام مطالبات ماننے کا اعلان کیا۔ یہ کانفرنس رات ایک بجے تک چلی۔ رات دو بج کر دس منٹ پر فوجی دستے حرکت میں آگئے۔ مسٹر بھٹو نے اپنے قریبی ساتھی غلام مصظفیٰ کھر سے فون پر رابطہ کرکے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ انھوں نے ابھی اتنا ہی کہا تھا ”سر میں نے سنا ہے کہ۔۔۔۔“

*اور لائن کٹ گئی*
Profile Image for W.
1,185 reviews4 followers
Read
February 15, 2019
This was also published as The Last Days of Premier Bhutto.The author was a minister in Z.A.Bhutto's cabinet and describes the tumultuous days in the summer of 1977 when violent protests erupted in the country following allegations of rigging in the elections.As the government and opposition made last ditch efforts for some sort of compromise and Bhutto scrambled to save himself,General Zia stepped in,imprisoned Bhutto,promised to hold elections in 90 days and stayed on for eleven years.
Profile Image for Waleed Bin Yousuf.
16 reviews8 followers
November 29, 2017
It's the first book I've read about Z.A. Bhutto. The writer really kept me indulged in it as it was simply written and the knowledge imparted in the simple lines was beyond explanation. This book discusses the agitation between PPP and PNA in detail. As I didn't know the background of the agitation so at start, I felt like I've been reading an incident from the centre. Other topics such as Bhutto's biggest mistake i.e. partial imposition of Martial Law, reasons for the enmity between Bhutto and America, the story behind the Atomic Reprocessing plant, diplomatic efficiency of Bhutto, causes of Failure of accord between PNA and PPP, etc. all are discussed. Recommended for those who are interested in knowing the scenario of politics at that time. Also, can be read for fun as it keeps you engaged most of the time.
Profile Image for Sadiq. PhD.
168 reviews16 followers
December 29, 2020
Mualna Kauser Niazi narrated and explains the events of Mr.bhutto regime from 1974 to 1977.And explains all about the agitation after elections 1977 which led to his downfall.
After finishing the book, I have concluded that we have not changed or learn a lesson, we still live in the same era where not Bhutto but the so called offsprings of Bhutto, offspring of Mufti Mahmood, and the inglorious bastards 👮🏼‍♂️are the still plundering the leftover bones of this country.
Profile Image for Muhammad  Osama Yousaf.
44 reviews2 followers
January 24, 2022
یہ کتاب بھٹو صاحب کی زندگی کے ایک مخصوص حصہ کی گرد گردش کرتی ہے اور اس تحریک کا قصہ سناتی جس پر شکوک و شبہات لازم موجود ہیں اور شدید تحفظات بہرحال ہیں لیکن مکمل حقیقت کچھ نہیں ہوتی خصوصا سیاست کے موضوع پر سو یہ لازم کہ مختلف لوگوں اس دور پر آرا پڑھی جائیں۔
Profile Image for Kashif Nasir.
Author 2 books9 followers
February 25, 2024
An interesting book, which shows what was happening in 1977 political crises. Not sure how much of it is believable, but nonetheless, it's an interesting perspective which takes right into the heart of action.
1 review
April 28, 2020
It explains all about mr.bhutto from 1974 to 1977.And explains all about the agitation after elections 1977.
Profile Image for Mahmood Hussain.
2 reviews1 follower
August 23, 2016
After reading this about 200 pages book, I have concluded that we have not learnt a lesson to govern our country and the story of Monkey and Cats still apply to us:

The Monkey and Cats

It was the aftermath of a big festival. Two cats were prowling together. One of the cats saw a big cake and mieued. The other jumped up and picket it. The first cat said, “Give me the cake. It is I who saw it first.” The other cat said “Keep away from it. It is I who picked it up.” They were fighting and fighting. But there was no solution. Just then, a monkey passed by. He thought “What foolish cats they must be! Let me make use of this chance.” He came to the cats and said in a loud voice. “Don’t fight. Let me share the cake among you both”. The cake was handed over to the monkey. The monkey split the cake into tow parts. He shook his head and said, “Oho! One is bigger. One is smaller”. He had a bit of the bigger and now said “Oho! This has become smaller now”. He ate from the other. And thus, he went on eating from part to part and finally finished the whole cake. The poor cats were disappointed. Moral: When you quarrel someone else gains.

Displaying 1 - 12 of 12 reviews