ہم نے جانا تو ہم نے یہ جانا جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے
کچھ شک نہیں کہ انسان کشمکش میں پیدا کیا گیا، تبدیلی کی خواہش کرنے پر مجبور پر تبدیلی کو قبول کرنے سے قاصر، سب زنجیریں توڑ کر دیوانہ وار دور کی روشنیوں کی جانب بھاگنے والا ممنزل پر پہنچ کر بھی بار بار حسرت سے ماضی کے اندھیروں کو دیکھتا ہے۔ سوچتا ہے یہ منزل یہ روشنی اپنے تصور سی دلکش کیوں نہیں، اسے پاکر بھی ادھورا پن کیوں ہے؟
وقت کے تندو تیز سیلاب میں خود کو خس و خاشاک کی طرح بہتے محسوس کرتے ایک شخص کی کہانی، کبھی وہ نوجوانی میں آنکھوں میں تبدیلی کے خواب سجائے رشتے ناطے، رسم و رواج حتکہ مذہب کی زنجیریں توڑ کر اپنے گاؤں سے نکلا تھا۔ سالوں بعد شکتہ دل و جاں کے ساتھ گاؤں کو لوٹتے اس کے زہن میں گاؤں کا پرانا رومانوی تصور تھا۔ وہ گاؤں جو اس کی تھکن نچوڑ کر پھر سے اسے زندگی سے لڑنے کے قابل کردے گا۔ مگر۔۔۔۔۔
مراٹھی ادب کا شاہکار ، ساٹھ کی دہانی کے انڈیں سماج کی کہانی جہاں تبدیلی کا بھگولا ہر چیز اکھاڑنے کے درپے تھا۔
I rarely give 5 stars. One of the master piece in Marathi literature by late Hamid Dalwai (respected liberal leaders in Indian Muslims). It is his story of returning to his old village after 15 yrs near Chiplun in Kokan. Where he is bambozled by changes in his village, his perception of village, his own supposedly liberal thought processes and reality. Characters of Sumati, Paritin (cloth washer), Laxmi are representative of various wemen of rural India. His culture observations of vilages of Kokan are way to similar to Go Ni Dandekar, Jaywant Dalwi and many other marathi writers in past. Him being muslim hardly changes that cultural narrative. A must read.
ایک شخص اور گاؤں کی کہانی. شخص جو دنیا کو بدلنے کے خواب دیکھ کر گاؤں چھوڑتا ہے مگر پندرہ سال بعد جب گاؤں واپس آتا ہے تو بہت کچھ بدل چکا ہوتا ہے. گاؤں میں اٹھنے والے نئے جھگڑوں سے تنگ آکر پھر شہر چلا جاتا ہے.