Wasif Ali Wasif is a writer, poet and Sufi intellectual from Pakistan. He is famous for his unique literary style. He used to write short pieces of prose on topics like love, life, fortune, fear, hope, expectation, promise, prayer, happiness, sorrow and so on. He did poetry in Urdu and Punjabi languages. Probably no contemporary Urdu writer is more cited in quotations than he is. Later years he used to answer questions in specially arranged gatherings at Lahore attended by the notable community. Some of these sessions were recorded in audio and were later published as Guftagoo (talk) series. His mehfils never had a set subject nor did he lecture on chosen topics. His way was to ask people if they had questions and then he responded to these in his highly original style. His thought was more on mysticism, spirituality and humanity. There are about 40 books to his credit including “Shab Chiragh”, “Kiran Kiran Sooraj”, and “Dil Darya Samandar”. It is self-evident that his books as well as recordings of talks are a treasure trove of wisdom.
As a Writer Wasif Ali Wasif was given much to silence. He spent most part of the day in silent tranquility, but when he spoke there was nothing that was not quotable. His written and spoken words are quotable for their content as well as their construction. Master of aphorism, he has the miraculous ability to capture a rainbow of meaning in a few dewdrops of well chosen words. His newspaper writings secured him a permanent place in the gallery of stylist prose writers. Though his main claim to fame is his writings, a select circle knows that he was an equally great conversationalist. Ashfaq Ahmed, the conversationalist par excellence of our time has said, The sentences we concoct are our piece of craft, Wasif’s lines came from somewhere else. His prose is simpler, using figures of speech less frequently and thus sounds more natural but it has distinctive qualities of fine poetry. Renowned politician and connoisseur of art and literature, Hanif Ramay is of the view Wasif’s prose influences readers in the same manner as the poetry of Iqbal. Another interesting aspect of his literary masterpieces is that these originally appeared as columns in an Urdu daily defying the strongly held belief that journalism cannot produce pure literature which can have a long life. Siraj Muneer, a well-read scholar and critic, has written, We took them as columns but they were another aalam (world). A discussion of his peculiar style would be incomplete without mentioning that all his writings have a lot between the lines too. He believed that a thought can never be expressed fully in words, a reader should be alive to this fact and should try comprehending the portion that was impossible to be carried in words. The leading critic and scholar Professor Gilani Kamran comments on his book ‘Dil Darya Samundar’ that Wasif Ali Wasif’s collection of essays has a pleasant rhythm of an emotionally sustained prose. The sentence moves with grace and the words have the ring of sensation. These features are only rarely found in modern Urdu prose. But whether or not one succeeds in discovering himself, or in entering the field of a higher experience, the rhythm of Wasif’s prose certainly compensates for any loss of achievement. With this one book, it can be said with some assurance, our culture is seen to be moving out of a closed world and entering an age of self discovery where a single individual becomes the object of new orientation and also the locus of a new destiny.” continue to full text
Journey of self-discovery to self-actualization; Wasif Ali Wasif's writings inspire you to be the best version of yourself, and embark your journey on spirituality.
Great read, especially few chosen chapters, like "الفاظ", "وضاحت", "جھر کی نہ دو", "بچہ". I was reading this book the days when I was to make imp decisions about my life, and these chapters "آدھا رستہ", "عظيم لوگ", "مقصد" have helped me a lot in my decisions. Will suggest as great read for everyone, esp. few mentioned chapters.
A great excerpt from the chapter "مقصد" :
مقصد کا تعین کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ ہماری زندگی کس حد تک ہماری اپنی ہے۔ اس میں ہمارا سماج شامل ہے اور ہمارا سماج ہم نہیں ہوتے۔ اس میں ھمارا دین شامل ہے اور ہمارا دین ہم نے نہیں مقرر کیا ۔ یہ عطا ہے کسی اور ذات کی۔ ہماری زندگی میں ہماری صلاحیتیں شامل ہیں اور ہماری صلاحیتیں محدود ہیں۔
Fٖrom chapter "منزل" : یقیں کے ساتھ اٹھایا ھوا پہلا قدم جو جانب منزل ہو وہی منزل ھے۔
"کبھی میں محبت بن کر کسی کے دل میں دھڑکتا ہوں اور کبھی نفرت بن کر کسی کے اندر آگ لگا دیتا ہوں۔ میں چلتے چلتے ٹھہر جاتا ہوں اور ٹھہرتے ٹھہرتے چل پڑتا ہوں۔ کبھی راہ سے بے راہ ہو جاتا ہوں اور کبھی گمراہی کی منزلوں میں راستوں کا نشان بنا دیا جاتا ہوں۔ میں کبھی نظروں میں سماتا ہوں اور ان نظروں سے گر جانے کا عمل بھی جانتا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں میرے اندر کوئ رہنما جذبہ کارگر ہے' جس کے دم سے میں چل رہا ہوں۔ میں اسکی عطا کے سامنے اپنی خطا کا ذکر نہیں کرتا۔ میں تو ہوں ہی خطا اور وہ۔۔۔ سراپا عطا" (حرف حرف حقیقت ) اگر آپ اردو کتب کے شوقین ہیں اور آپ نے ابھی تک واصف علی واصف ؒ کو نہیں پڑھا تو یقین مانیں آپ نے کچھ نہیں پڑھا۔ بخدا آپ کا اظہاریہ سب سے جدا سب سے انوکھا ہے لیکن اپنی دلکشی، رعنائی کیلئے کسی تعریف و تحسین کا محتاج نہیں. یہ واصف ؒ کی لکھی دوسری کتاب ہے جسکا ریوو دیتے ہوے میں پھر الفاظ کی کمی کا شکار ہوں۔ اسکا ہر ہر حرف اپنے اندر حقیقت کی ایک دنیا بساے ہوے ہے جو اپنے پڑھنے والے پر سکوت اور اطمینانیت کی کیفیت تاری کر دیتا ہے اور پڑھنے والا پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ ۔ایک جگہ حضرت واصف ؒ فرماتے ہیں کہ: ."زندگی کے جواز تلاش نہیں کیے جاتے صرف زندہ رہا جاتا ہے زندگی گزارتے چلے جائیں جواز مل جائے گا ۔ محبت کرنے والا زندگی کو جواز عطا فرماتا ہے زندگی نے آپ کو اپنا جواز نہیں دینا بلکہ آپ نے زندگی کو زندہ رہنے کے لیے جواز دینا ہے ۔ آپ کو انسان نظر نہ آئے تو کسی پودے سے پیار کریں ۔ اس کی پرورش کریں ، اسے آندھیوں سے بچائیں ، طوفانوں سے بچائیں، تیز دھوپ سے بچائیں، زیادہ بارشوں سے بچائیں ۔ اس کو پالیں، پروان چڑھائیں ۔ پھل کھانے والے کوئی اور ہوں ، تب بھی فکر کی کوئی بات نہیں ۔ کچھ نہیں تو یہی درخت کسی مسافر کو دو گھڑی سایا ہی عطا کرے گا ۔ کچھ نہیں تو اس کی لکڑی کسی غریب کی سردی گزارنے کے کام آئے گی ۔ آپ کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جائے گی ۔ آپ کو زندہ رہنے کا جواز اور ثواب مل جائے گا" ۔ . "حرف حرف حقیقت" اردو ادب کا وہ 'شاہکار' ہے جسے ہر مسلمان/پاکستانی کو ایک بار لازمی پڑھنا چاہیے۔ 🕊 ۵/ ۵ 🌟🌟🌟🌟🌟
Waoooo. Deep, enriching nd highly educative masterpiece. Simple yet profound opening to untouched phenomenoas of life. The very purpose of book is to give purpose to self and life.
Self reflecting, thoughtful and intriguing book. Highligts are *Cause and effect , its link to destiny and place of Rehmat in cause and effect theory ( with the pretext condidtion of Tauba) * Description of Holy Prophet's attribute of Rehmat *Place of dua for departed soul, how it acts * Humanism - Worship to God and Service to human * you may agree with the philosophy not with the life ( Russel, Yoval) * Differnce between rich and poor - It hings on imagination, relation with requirement and company one keeps, moeny does not make one rich or poor * Thoughts are born like humans - Good thoughts nurture good human( Hance try to possess only good thoughts like good books on ur your shelf) * Relation of Right and obligation leads to Balance, Atrocity, Zulm, Anarchy and Andeernagri * Dimensions of aim / Purpose of life - Self, society/ National and ALLAH * Destination is enlightened spot, whole achievement leads to Spirtualism * Connection lies in cognitive domain not a physical phenomnoa * Life is the name organized arrangement * Types of concience (zameer)- indivudual, group, national - Rumi works on individual zameer , iqbal in Qoumi zameer * Prohoehts' saying is sayings' proohet * Solution to materialism is spirtualism *
واصف علی واصف کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں. آپ شاعر بھی تھے اور شعبہ تدریس سے بھی وابستہ رہے.... تصوف کی طرف آپکا رجحان اوائل عمری سے ہی تھا اور اپنی اس پیاس کو بجھانے اور اپنے شوق کی تسکین کی خاطر آپ نے بہت سے بزرگوں سے کسبِ فیض کیا اور پھر یہ سلسلہ رکنے نہ دیا...
"حرف حرف حقیقت" آپ کے صوفیانہ نثر پاروں کا مجموعہ ہے جو گاہے گاہے "نوائے وقت" میں چھپتے رہے... کتاب کا نام آپ کا اپنا تجویز کردہ ہے. انکی اس انداز کی کتب کے سہ لفظی عنوانات جز اور کل کے وصل کی نشاندہی کرتے ہیں.
کتاب کے مضامین مختصر مگر جامع ہیں اور اپنے اندر معانی کا دریا سموئے ہوئے ہیں. ان میں راہ سلوک کے متلاشی افراد کے لیے نشانِ منزل بھی ہے اور عام آدمی کے خدشات، الجھنوں اور سوالات کے جوابات بھی. یہ کتاب احساس کی مردنی، ضمیر سے بغاوت، کثرت اموال کے لالچ کا نوحہ ہے.... مصنف نے دردِ دل کو آلہ کار بناتے ہوئے امت/قوم کے مذکورہ بالا امراض کی نہ صرف نشاندہی کی ہے بلکہ رجوع الی اللہ، احساس اور درد مندی کا احیاء اور انسان سے انسان کے تعلق کی صورت میں انکا علاج ھی پیش کیا ہے.
مثلاً ایک جگہ آپ انسان کے انسان سے تعلق پر قلم یوں رواں کرتے ہیں :
"آج کا انسان صرف مکان میں رہتا ہے. اس کا گھر ختم ہو گیا ہے. باہمی اشتراک کے زمانے ختم ہو گئے. آج کی ملاقاتیں ضرورت کی ملاقاتیں ہیں. آج کا تعلق افادیت کا تعلق ہے. انسان کو شاید محسوس نہیں ہو رہا کہ وہ روحانی تشنگی کا شکار ہے. وہ انسانوں کے اس عظیم میلے میں اکیلا ہے. وہ کسی کا نہیں اور اسکا کوئی نہیں. وہ چیزوں کو دیکھتا ہے' انہیں محسوس نہیں کر سکتا. اس بیگانگی کا نتیجہ خطرناک ہو سکتا ہے.
ابھی وقت ہے کہ رشتوں کے تقدس کا احیاء کیا جائے. انہیں پامال ہونے سے بچایا جائے. ایک بار پھر پرانی نشستیں قائم کی جائیں' پرانے گیت گائے جائیں 'پرانے چہرے ڈھونڈے جائیں' پرانی آنکھیں تلاش کی جائیں' پرانے آشیانے آباد کیے جائیں 'پرانی عقیدتیں بحال کی جائیں' پرانے منظر پھر سے دیکھے جائیں"(صفحہ : ١٣٣)
اسی طرح آپ کثیرالمقصدیت کو ضمیر اور احساس کی موت کا موجب بھی قرار دیتے ہیں.
لیکن ایسا نہیں کہ آپ نے صرف انسانیت اور اخلاقیات پر ہی زور دیا ہے. آپ نے مذہب و الٰہیات اور اخلاقیات میں توازن کو لازم قرار دیتے ہوئے اسکا فارمولا یوں پیش کیا ہے:
"مذہب دراصل اخلاقیات میں الٰہیات کا شامل ہونا ہے. ہم جواب دہی کے تصور کے مطابق، اللہ کے حکم کے مطابق، نظامِ اخلاقیات پر کاربند رہیں تو انسان انسان کے قریب آ سکتا ہے اور انسان اللہ کی خوشنودی حاصل کر لیتا ہے"
(صفحہ :٣٦)
اسی طرح اس کتاب کا حرف حرف حبِّ رسول اور عشقِ نبوی صل اللہ علیہ وسلم میں گندھا ہوا ہے...
کتاب میں" الفاظ"، " رحمت"،" سنگتیں"،" عدل"،" حقوق"،" جوازِ ہستی"،" ضمیر کی آواز " جیسے مضمون باندھے گیے ہیں....
یہ کتاب ایسی نہیں کہ اسے دو چار روز میں ختم. کرنے کی نیت سے شروع کیا جائے بلکہ یہ ایک ایسا مطالعاتی تجربہ ہے جس میں ایک ایک حرف سے معانی کشیدنے، اور اسے جذب کرنے کی حاجت محسوس ہوتی ہے....
غفلت کے مارے ہوئے ہم لوگوں کو ایسی کتب اپنی زندگی میں شامل کرنی چاہیے.....
نوٹ: یقین جانیے اس کتاب سے اقتباسات درج کرنا ممکن ہی نہیں ورنہ پوری کتاب لکھنے کی حاجت پڑ جائے گی....
اس دنیا میں کئی آۓ جو اپنے سینوں میں جذبات کا سمندر لیے چلے گئے۔ کئی آۓ جو اپنے دلوں میں آہوں کا تلاطم لیے چلے گئے۔ مگر وہ لوگ بہت کم آئے جو اپنے خیالات کو صفحہ قرطاس پر ثبت کر کے گئے۔ پھر یہ لوگ ان کئیوں کے جذبات کی عکاسی کر جاتے ہیں جو بے آواز چلے گئے۔ انہی میں سے ایک واصف علی واصف ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کا ہر حرف جذبات سی مخمور، کیفیات سے معمور ہے اور کروڑوں دلوں کے لیے وجہِ سرور ہے۔ آپ خود ہی اپنے قارعین کو کچھ اس طرح راہنمائی کر رہے ہیں
صاحب خیالے کے پاس خیالی بے آواز و بے الفاظ آتا ہے لیکن خیال کا اظہار محتاج الفاظ ہے ۔اکثر اوقات الفاظ خیال کا حجاب بن جاتے ہیں اس لیے استدعا ہے کہ قاری کی نگاہ اس خیال پر بھی رہے جو الفاظ میں موجود ہے اور اس خیال پر بھی جس کا الفاظ کے دامن میں سمٹنا محال تھا
This book is not a once to be read type, its meant to be read twice, thrice, in fact should be kept as a reference book, this book provides good stimulus for thought, especially when we are lonely and many things come haunting us inside our brain.
حضرت واصف مرحوم کی روحانیت سے بھرپورتحریروں کے سحر سے مزین یہ کتاب ایک الگ رستے پر ڈال کر ایک مختلف منزل کی طرف گامزن کرتی ہے۔ اس رستے کی الگ منطق اور الگ معیارات ہیں، دو عالم سے بیگانگی اور خود آگہی اس رستے کی سوغات ہیں۔