Mustansar Hussain Tarar (Urdu: مستنصر حسين تارڑ) is a Pakistani author, actor, the first Morning Show presenter and a pioneer trekker - in his own words: a vagabond.
Having made a name for himself by taking the mantle in Pakistan's mountaineering community, Mustansar Hussain is widely recognized as one of the most well known personalities in Pakistan. Though the origin of his fame is usually considered to be his established and decorated career as a writer, Tarar can also be recognized as the foremost endorser for tourism projects in Northern Areas of Pakistan, having exorbitantly increased the array of tourist exposure to the areas by becoming both a mountaineer and an adventure author who uses these locations as backdrops for his storylines.
Mustansar Hussain's literary proficiency as an author often overshadows the fact that he has been an active mountaineer for a very extensive period of time. Having embarked upon several painstaking and challenging tasks such as the ascension of K-2 and the surpassing of the treacherous "Chitti Buoi" Glacier among others. More significantly, both of Mustansar Hussain's professions often intertwine and relate, since he uses his experiences on his expeditions as travelogues. Though some of his publications have met lukewarm reactions due to supposed exaggeration, he reflects on this predicament with the notion that "words or even pictures cannot successfully express the beauty and splendour of nature in it's true spirit."
Tarar's first book Nikley Teri Talash Main, a travelogue of Europe, was published in 1971. He has so far over forty titles to his credit which include many genres of literature; travelogues, novels, short stories and collection of his newspaper columns and television dramas. He has been one of the best-seller fiction writer of Pakistan.
Mustansar was born in 'Jokalian' a small town in Punjab, Pakistan in March 1939. He spent his early childhood in the village and moved to culturally rich Lahore, witnessed the independence of Pakistan in 1947 and the events that took place at Lahore. His father Rehmat Khan Tarar opened a small seed store there. Mr Tarar got his schooling from Rang Mehal Mission High School and Muslim Model High School, Lahore. He then got admission in Government College Lahore , a college that owns the credit to polish several intellectuals of Pakistan. In 1950's, he went to London for higher studies. In 1957 he attended the World Youth Festival in Moscow and wrote a book named 'Fakhta' (Dove) on that experience. In 1971 his first travelogue Nikley Teri Talaash Main was published. It led to new trend in Urdu literature. He also became a television actor and from 1988 was for many years a host of PTV's live morning transmission Subuh Bakhair (Good Morning). His unconventional and down to earth style of comparing earned him great popularity. He called himself the 'Cha Cha Jee' of all Pakistani children and soon became known by this title.
Awards: Presidential award of Pride of Performance. Prime Minister's award for the Best Novelist for "Rakh". Life time achievement award of Almi Farogh-e-Urdu Adab, Doha (Qatar). Gold Medal bestowed by Moscow State University for literary achievements.
یہ صرف ناول نہیں ہے ایک سمندر ہے، جس میں کئی جزیرے آتے ہیں۔ کئی کردار لہروں کی طرح ابھرتے ہیں اور پھر سمندر میں ڈوب جاتے ہیں۔یہ ناول بھی آپ کو خس و خاشاک کی طرح اڑا کر لے جاتا ہے۔ کبھی آپ 1940 کے پنجاب میں ہوتے ہیں تو کبھی 2008 کے کینیڈا میں۔ بخت جہاں کا کردار آپ کو کڑی ٰیاوہ کہہ کر چانکاتا ہے۔ کبھی اس کی بیٹی کے شکوک آپ کے ذہن میں بھی اٹھتے ہیں۔ اس ناول میں کئی کردار ہیں جو زندگی کے منفرد رنگوں کے بھرے ہیں۔ یہ پاکستانی سماج کی ایک تاریخ بھی ہے اور نوحہ بھی۔آپ اس ناول کو عالمی ادب کے شہہ پاروں کے مقابل رکھ سکتے ہین۔ اپنی طوالت کے باوجود یہ ایک لمحہ کے لیے بور نہیں کرتا۔ راکھ کی طرح اس ناول میں بھی چار مرغابیاں آتی ہیں اور تاڑڑ صاحب بار بار سمجھاتے ہیں کہ ان چار مرغابیوں کا خوشی سے کوئی تعلق نہیں ہے
اس وقت میں کتاب کا آخری صفحہ پڑھتے ہوئے سوچ رہی ہوں جب انسان کسی طرف نہیں ہوتا تب بھی کسی طرف تو ہوتا ہے اور یہ کہ بایاں بازو کٹ جائے تو کیسی جان لیوا تکلیف ہوتی ہو گی ہماری نسل اس تجربے سے نہیں گزری اس لئے اندازہ نہیں لگا سکتی کہ کتنی تکلیف ہوتی ہو گی اور یہ کہ عطار کے پرندے سحر زدہ کردیتے ہیں۔ پہلے صفحے پر فودور دوستوفسکی کا چہرہ ابھرا تھا پھر کھو گیا پھر میرے بھی صنم خانے یاد آنے لگے مگر ان کے کردار خوابیدہ سے لگتے تھے یہاں تو حقیقی کردار وں کی پر شکوہ چہل پہل تھی۔ جملوں کی عمیق گہرائیوں میں بھید بھرے غار تھے غاروں میں حکمت کے جگنو تھے،زندگی کے راز افشا ہوتے تھے۔
"اور یہ بھید تب تک آشکار نہیں ہوتا جب تک تین بولی کتے آپ پر نہ چھوڑ دیے جائیں"
پھر کوئ امیر بخش ہو جاتا ہے اور کوئ بولی ہو جاتا ہے دوسروں کو کاٹنے لگتا ہے۔راجہ گدھ کا سایہ سا بنتا تھا مٹتا تھا۔ کچھ واقعات اور جملے تکلیف دہ تھے۔۔۔ تجزیہ کچھ بے ربط سا ہو رہا ہے میرے خیال میں لکھاری کو طبیب کی طرح ہونا چاہئے ، طبیب کی طرح وہ دلوں کے روگ، معاشرے میں پنپتی غلیظ بیماریوں کو پرکھ سکتا ہے،علاج تجویز کر سکتا ہے۔طبیب کا مریض کے لئے نرم گوشہ رکھنا اسکی محبت میں مرض کے باوجود مبتلا ہونا رحمت ربی ہے مگر طبیب کا اس کی بیماری کی محبت میں مبتلا ہونے کا شائبہ نہیں ابھرنا چاہئے۔
It has very complex plot depicts the state of mind of author while going back into life he spent. Furthermore it encompasses the event of whole century from pre-partition to 9/11 and beyond.
It might not be the historic reference but adequately conveys us the dichotomy and havoc we feed in our generation on the name of history which only served dividing and subdividing our civilization in the name of religion, languages, caste and creed.
3پنجابی تہذیب و تمدن کو انتہا ئی اعلیٰ طریقے سے اس ناول میں اجاگر کیا گیا ہے۔ خصوصی طور پر خالص پنجابی الفاظ کا استعمال نہایت خوش اسلوبی سے کیا گیا ہے۔ ایسا معاشرے کی منظر کشی کی گیئ ہے جس میں ہندو، سکھ اور مسلمان اکٹھے رہتے تھے اور ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔ تقسیم ہند کے وقت جس طرح لوگوں کو اپنے مویشی، زمینیں اور گھر چھوڑنے پڑے اور جس کرب سے گزرنا سے پڑا تھا اس کی بھی شاندار طریقے سے عکاسی کی گئی ہے۔ اس میں جتنے بھی کردار ہیں ایسے محسوس ہوتا ہے یہ حقیقی لوگ ہیں جو دیہی معاشرے میں ہمیں اپنے اِردگرد ہر طرف نظر آتے ہیں۔
ناول کی کہانی دو حصّوں میں بٹی ہے پہلا حصہ دنیا پور گاؤں جبکہ دوسرا حصہ نیو یارک اور کینیڈا میں ہے۔ وسطی پنجاب کے بہت سے لوگ بہتر روزگار کی تلاش میں ستر اور اسّی کی دہا یئ میں یورپ، امریکہ اور کینیڈا کی طرف نکل گئے تھے مصنف نے شاید اسی پہلو کی طرف نشاندہی کی ہے۔ نایٗن الیون کے بعد امریکہ اور یورپ میں جو اسلام مخالف جزبات ابھرے اور وہاں کے مسلمانوں کو تشدّد کا نشانہ بنایا گیا اس پہلو کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔
ناول کی کہانی تقریباً پوری بیسیوی صدی کا احاطہ کرتی ہے اور اتنا ضحیم ہے کہ بقول بخت جہاں کُڑی یاہوا ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا اور بعض دفعہ تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ کہانی پڑھتے زمانے ہی بِیت چکے ہیں۔
ناول کے آ خر میں پچیس سال کی لڑکی کا ساٹھ سالہ مرد کی محبت میں مبتلا ہونا عجیب لگا۔
A meditation on Pakistani society. On Punjabi society, in particular. On partition of India, this novel takes us back to the atrocities committed during the era. The unrelenting murder and mayhem of Partition. The intense hate spewed forth by the Muslims and Hindus against each other. The good old times and the worst ones, too. This novel explores such issues which are yet to be discussed in the public in Pakistan. Especially the views about bastards, cannibalism, homosexuality, prostitution and the dilemmas of Muslims arising after 9/11. Tarar is by no means any less than the Nobel laureates, judging by this novel. In fact, his art and perfection supersedes many of his contemporaries.
"Khas o Khashak Zamane" by Mustansar Hussain Tarar is a searing exploration of post-partition Pakistani, specifically Punjabi, society. The narrative does not flinch from depicting the grim realities of the Partition, from relentless violence to the venomous hate that once divided Muslims and Hindus. Yet, within the darkness, Tarar's prose also captures the golden hues of past times, grounding the reader in the best and worst moments of history.
Tarar also bravely addresses topics that are often taboo in Pakistani society, from illegitimacy and cannibalism to homosexuality and prostitution. His narrative offers nuanced perspectives on these themes, providing a raw, honest critique of societal norms. Furthermore, he navigates the complex psychological and emotional terrain left in the wake of 9/11, capturing the dilemmas faced by Muslims in its aftermath.
This novel is a testament to Tarar's literary prowess, as he not only matches but arguably surpasses many of his contemporaries, even those who have been honored with Nobel recognition. His storytelling is a blend of historical insight, social commentary, and human empathy, woven together with a mastery of craft that makes "Khas o Khashak Zamane" a poignant, thought-provoking read. It is an incisive exploration of society at crossroads and an unflinching critique of cultural taboos and global geopolitical impact.
اس ناول کی مرکزی تھیم کچھ یوں ہے تقسیم سے قبل پنجاب کے دیہات کا رهن سہن کیسا تھا اور پھر کیسے پنجاب کے دیہات آہستہ آہستہ سکڑتے گئے جبکہ دیش واسیوں نے پرائے شہروں اور پھر پرائے دیسوں کو اڑان بھری ۔اس ناول میں تارڑ صاحب نے ایک پورے جہان کی اور سات دہائیوں کی سیر کروائی ہے ۔ منظر کشی ایسی کی ہے کہ ذہن میں پوری تصویر بن جاتی ہے اور کہانی کے سب کردار ایسے بیان کیے ہیں کہ آپ کو گمان ہوتا ہے کہ ایک میں ہی تو ہوں جو اس انسان کو سمجھ پایا ہوں۔ تجسس ہوتا ہے کہ اگر ہم اس زمانے کے ہوتے تو کس کردار کے رو پ میں ہوتے ۔یہ مادی ترقی بے وقعت معلوم ہوتی ہے اور آپنی اصل کی جانب لو ٹنے کا جی چاہتا ہے ۔
چند باتیں جو مجھے نا گوار گزری وہ یہ ہیں : بیشتر مقامات پر بے جا طوالت اور بے معنی منظر کشی اور قصہ گوئی کی گئی ہے جس کی وجہ سے ناول بے حد طول پکڑ جاتا ہے ۔
تارڑ صاحب نے انسان کے حیات ، کائنات اور خالق کے ساتھ تعلق پر بیشتر مقامات پر اپنی رائے دینا چاہی ہے اور انسان کے مقصد حیات کو بھی کرداروں کے قول و فعل کے واسطے سے موضوع بنایا ہے لیکن دقت یہ ہے کے بجائے کوئی معنی خیز نتیجہ نکالنے کے قارئین کو محض Confuse کیا ہے اور میں بطور دین محمدیؐ کے پیروکار کے یہ سمجھتا ہوں کہ یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے کہ آپ اس کا نام لیں اور ساتھ ہی اپنے ذاتی اور confused نظریات کو بیان کردیں جیسے دونوں میں کوئی فرق ہی نہ ہو ۔
تارڑ صاحب کی Sexual fantasies متعدد، طویل اور حیران کن نوعیت کی ہیں۔ لہذا ناول بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔
مستنصر حسین تارڑ عہد حاضر میں اردو ادب کا ایک بڑا نام ہیں۔ وہ اس خطے میں داستان گوئی کی قدیم روایت کے سچے پیروکاروں میں سے ہیں۔ بلکہ انہوں نے داستان گوئی کی قدیم روایت کو نئی بلندی سے روشناس کروایا۔ 2010 میں “خس و خاشاک زمانے” لکھنے سے پہلے وہ اردو ادب کو “راکھ” اور “قربت ِ مرگ میں محبت” کے ساتھ ساتھ “بہاؤ” جیسے منفرد اور لازوال ناول دے چکے تھے۔
“خس و خاشاک زمانے” نہ صرف ان کے چالیس سالہ ادبی سفر کا نچوڑ ہے بلکہ یہ ان کے اندر بسے ایک قدیم داستان گو کی وسیع المشربی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جس میں انہوں نے یہ دکھایا کہ وہ نہ صرف وادی سندھ کی تہذیبی ارتقاء کو بیان کرنے پر قدرت رکھتے ہیں بلکہ مقامیت سے بین القوامیت کا سفر طے کرتے ہوئے بھی ان کا قلم لڑکھڑاتا نہیں۔ ناول کا پہلا حصہ جہاں تہذیب، روایات، سیاست، تاریخ اور اس خطے کے انسانوں کی نفسیات میں گندھا ہوا ہے، وہیں آخری حصہ ایک جہاں دیدہ آوارہ گرد کے گہرے تجربوں کا اظہاریہ ہے۔ ناول کا دوسرا حصہ پاکستانی نژاد انگلش ناول نگاروں کے نائن الیون کے بعد مسلم شناختی بحران پر لکھے گئے کسی بھی بڑے ناول سے کم تر نہیں ہے۔ ناول میں تاریخ، تہذیب، برصغیر کی تقسیم، پاکستان کے ��بتدائی تیس سالوں کی لڑکھڑاتی صورتحال، ہندو پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگوں، ضیا الحقی دور کی حشر سمانیوں، شناختی بحران، اسلاموفوبیا، موت و حیات کی کشکمش، سرکش انسانی رویوں، مذہبی شدت پسندی اور نسلی تفاخر جیسے کئی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ایک شاہکار ناول. اردو ادب کے چند بہترین ناول جن میں اداس نسلیں، نادار لوگ، راجہ گدھ، راکھ وغیرہ شامل ہیں ان کے ہم پلہ ناول. اس کو پڑھنے کے بعد کافی دنوں تک آپ اس کے کرداروں اور ان کے سحر میں جکڑے رہیں گے. جیسے ہی میں نے اس کو ختم کیا دوبارہ از سر ِ نو اس کو مطالعہ کرنے کا جی چاہا.