ثانیہ اور ارم پڑوس میں رہتی ہیں اور آپس میں دوستی بھی ہے۔ ثانیہ اپنے ماں باپ، بھائی وسیم اور دادو کے ساتھ رہتی ہے (بڑی بہن رابعہ کی شادی پھوپھو کے بیٹے سے ہو چکی ہے) جبکہ ارم کی فیملی اس کے والدین اور بھائی عبید پر مشتمل ہے۔ یہ ایک اصلاحی ناول ہے اور کافی حد تک رومانوی بھی۔ اچھائی برائی میں فرق کرنا، دوسروں کا احساس، اخلاقی اقدار اور بہت کچھ ایک کہانی کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی گئی جو کہ بہترین لگی۔ میں نے جب بھی یہ ناول اٹھا کر پڑھنا شروع کیا کبھی بوریت نہیں ہوئی۔ نہ ہی مجھے یہ نصیحتوں سے بھری ہوئی ایک فہرست لگا۔ اندازِ تحریر اتنا دلچسپ اور برجستہ رہا کہ لگا ہی نہیں میں کوئی خیالی کہانی پڑھ رہی ہوں۔ مجھے یہ سبھی کردار حقیقت کے بےحد قریب لگے۔ اس میں ایک بہت اہم موضوع پہ بات کی گئی ہے کہ عورت کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے ہم اکثر اوقات وفادار ہونے نا ہونے کی بات کرتے ہیں۔ بے وفائی اور بدکرداری پہ دھواں دھار تقریر بھی کرتے ہیں لیکن کچھ بیچ کے معاملات بھی ہوتے ہیں جن کی طرف خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فضول خرچی، بے جا خواہشات کا غلام بن جانا، اور پھر انہیں کسی بھی صورت پورا کرنے کی کوشش یہ سب بھی آجکل عام ہے۔ اوور آل ایک بہت ہی دلچسپ اور سبق آموز ناول رہا یادگار رہے گا۔ ثانیہ کا کزن فرخ، اس کی بڑی بہن رابعہ، سبھی کرداروں کو خوب گہرائی سے لکھا گیا ہے میں تو سبھی سے اٹیچ ہو گئی تھی۔ میں نے اس کی اقساط ماہانہ بھی پڑھیں (ایک ایک کر کے انفرادی طور پر) اور اکٹھی بھی پڑھیں (آخری 7 اقساط) لیکن مجھے ہر طرح سے لطف ہی آیا۔ راحت جبیں صاحبہ بہت ٹیلنٹڈ ہیں میں تو ان کی سبھی تحاریر پڑھنا چاہوں گی انشاء اللہ۔
Done with this toxic fest of a story. I strongly feel "Angna Phool Khilenge" title is a misfit. Sure, there was one arc where it applies, but generally, the theme of the story was so dark, so toxic, so unbearable. I have some notes, will share later. Not a bad story, but definitely not for me.
Erum was my favorite character in this novel. It was a bit sad to see Sania’s brutal ending, but she received a lot of curses from others so she deserved it.