ممتاز مفتی کا آٹھواں اور آخری افسانوی مجموعہ "کہی نہ جائے" کے عنوان سے 1992ء میں فیروز سنز لاہور کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ کہی نہ جائے کا انتساب قدرت اللہ شہاب کے نام ہے۔ ممتاز مفتی کہتے ہیں۔ ۔ ۔ 1943ء میں میں نے اپنا پہلا مجموعہ ان کہی بڑے زعم سے سے پیش کیا تھا کہ دلوں میں چھپی ہوئی ان کہیاں کہہ دوں گا۔ آج 1989 ء میں اپنا آخری مجموعہ کہی نہ جائے پیش کر رہا ہوں۔ مجھے اعتراف ہے کہ دل کی بات جو گھٹتے گھٹتے منہ تک آ جائے کہی نہ جائے۔
Mumtaz Mufti (Sitara-e-Imtiaz) is a Pakistani short story writer. He started writing Urdu short stories while working as a school teacher before partition. In the beginning he was considered among his contemporaries, a non-conformist writer having liberal views, who appeared influenced by Freud. His transformation from Liberalism to Sufism was due to his inspiration from Qudrat Ullah Shahab (Another well known Pakistani Author). At the same time, he did manage to retain his individual accent and wrote on subjects which were frowned upon by the conservative elements in society.
The two phases of his life are witnessed by his autobiographies, Ali Pur Ka Aeeli and Alakh Nagri. According to forewords mentioned in his later autobiography, Ali Pur Ka Aeeli is an account of a lover who challenged the social taboos of his times, and Alakh Nagri is an account of an acolyte who greatly influenced by the mysticism of Qudrat Ullah Shahab.
Talaash ("Quest") was the last book written by Mumtaz Mufti.
بیس عدد افسانوں پر مشتمل یہ مفتی جی کا آخری افسانوی مجموعہ ہے۔ ۔ ۔ دیر آید درست آید، اس کی حیثیت مفتی جی کے تمام افسانوی مجموعوں میں ترپ کے اکے کی ہے۔ کتاب میں کوئی افسانہ ایسا نہیں جو دلچسپی، گہرائی اور موضوعاتی لذت سے خالی ہو۔ ۔ ۔ اس پر مستزاد مفتی جی کی روایتی حدود و قیود سے آزاد زبان کہ قاری چٹخارے لیتا رہ جائے۔
ہر افسانہ ایک مرکزی خیال (مین تھیم) کے گرد پھیلا ہے مگر کئی افسانوں میں ضمنی تھیمز قاری کو خیالات کی بھول بھلیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ مرکزی نقطہ اوجھل کرنے کے بعد افسانے کے اختتام پر مفتی جی قاری کو جا لیتے ہیں کہ میاں اصل بات تو یہ ہے۔ ۔ ۔ اس لئے کئی افسانے ایک سے زائد بار پڑھنے کے لئے تیار رہیں۔
افسانوں کے موضوعات کا کینوس بھی خاصا وسیع ہے اور ہر افسانہ ایک الگ موضوع پر ہے۔ مفتی جی کے روایتی مرغوب موضوعات جیسے کہ انسانی نفسیات کی پیچیدگیاں، طوائفوں کے اندر چھپی ممتا، ہومیو پیتھی طریقہ علاج، اللہ اور اللہ لوگ انفاس پرافسانے تو شامل ہیں ہی، اس کے علاوہ کئی اچھوتے موضوعات پر بھی طبع آزمائی کی گئی ہے۔ :کئی موازنے کئے گئے ہیں جیسے کہ ـــ عورت اور مرد کی محبت کا موازنہ ـــ ماڈرن لڑکی اور روایتی لڑکی کا موازنہ :مردوں کے کردار کو بھی موضوع بنایا گیا ہے جن میں ـــ ساس بہو کے تعلقات میں مرد کا کردار ـــ عورت کو جسم فروش بنانے میں مرد کا کردار :مفتی جی نے کچھ فطری تعلق بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے جیسے ـــ افراط کا اَن پروڈکٹیونس سے اور کمی کا پروڈکٹیونس سے تعلق ـــ ممتا کا عورت کی نفسیات سے تعلق :کچھ مسائل کا حل بھی تجویز کیا ہے ـــ دکھ سے نجات کے لئے اپنی ذات سے توجہ ہٹا کر دوسروں پر لگانے کا مشورہ دیا ہے ـــ دور جدید کے خبط کا حل روحانیت میں دکھایا گیا ہے
قصہ کوتاہ یہ کتاب میری پسندیدہ ترین میں شامل ہوچکی اس لئے اس پر بات کرنا میرے لئے تو مسئلہ نہیں ہوگا، ہاں البتہ پڑھنے والوں کے لئے اکتاہٹ کا باعث ضرور بنے گا اس لئے خود کو یہیں روکتا ہوں۔ مفتی جی کے افسانے 'ٹرائی' کرنا چاہتے ہیں تو کہی نہ جائے بہترین شروعات ہے۔ بہترین نتائج کے لئے کتاب کی ترکیب استعمال کچھ یوں ہے: تین افسانے روزانہ، اپنی پسند کے وقت، تمام ذہنی بندشوں سے آزاد ہو کر کے۔ نوٹ: زیادہ استعمال کی صورت میں ری ایکشن کا خطرہ ہے۔
My first read from his collection of Afsanay/stories and im so pleased.
Mufti sahb, you are a tohfa! im not sure if you went ahead a little early or if i came a bit late but im thankful for this medium through which im still able to connect with you, this remarkable medium of your writing where its You standing with such maturity and sincerity, You are real and i love real. Our meeting is due..! one date for sure! "Out beyond the ideas of right doing and wrong doing.. there is a field..i'll meet you there! " In sha Allah ♥