Jump to ratings and reviews
Rate this book

Rolaak / رولاک

Rate this book

670 pages, Paperback

Published January 30, 2024

1 person is currently reading
17 people want to read

About the author

Rafaqat Hayat

5 books4 followers

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
3 (30%)
4 stars
4 (40%)
3 stars
3 (30%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 4 of 4 reviews
Profile Image for فیصل مجید.
187 reviews9 followers
March 16, 2024
رولاک از رفاقت حیات

رفاقت حیات کی ایک افسانوں کی کتاب "خواہ مخواہ کی زندگی" ہے لیکن میرا پہلا تعارف "میرواہ کی راتیں" سے ہوا۔ اور یہی کتاب انکا نمائندہ کام اور پہچان ٹھہری۔

19 سال کے طویل انتظار کے بعد انکا نیا ناول "رولاک" شائع ہوا کیونکہ پاکستان میں وہ تخلیقی سکون اور فرصت میسر نہیں جو ایک تخلیق کار کو درکار ہے۔ رولاک سندھی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی آوارہ گرد کے ہیں۔

ناول کے پلاٹ کا مقام اندرون سندھ کا شہر ٹھٹھہ ہے۔ اور زمانہ انٹرنیٹ کی آمد سے پہلے کا معاشرہ ہے۔ اس زمانے کو لفظوں سے زندہ کرنا بہت کمال ہے۔ اور ایک طرح سے یہ ایک سماجی دستاویز بن گیا ہے۔

جب حکومت/ریاست معاشرتی اصلاح کا فریضہ ادا کرنے میں ناکام ہو جائے تو معاشرتی جرائم پورے معاشرے کو مضبوطی سے جکڑ لیتے ہیں۔ جو ماحول رفاقت حیات نے دکھایا اس میں زنا بالرضا اور جسے کہتے ہیں "کمرشل سیکس"، جوا، نشہ (مرد و عورت یکساں شامل ہیں) بے ہودہ فلمیں، اور اسی طرح کی سب برائیاں شامل ہیں۔ تعلیم اداروں کی ناقص کارکردگی اور تشدد بہت حقیقی رنگ میں دکھایا ہے۔ مذہب صرف رسماً ہے جو افراد کو گناہ اور جرائم سے نہیں روکتا۔ سیاسی شعور ناپید ہے اور اس ماحول میں پلنے والے افراد کی زندگی پیٹ پوجا کی گرد گھوم رہی ہے یا تسکین نفس میں۔ کوئی زندگی کا نصب العین ہے نہ کوئی آدرش ہے اور نہ کوئی ویژن۔ حیات بے مصرف کا ماتم جاری ہے۔ نو من تیل نہیں ہے لیکن رادھا ناچ رہی ہے۔
مقامی اور مہاجر کے درمیان کشمکش ہے۔ مہاجرین کو اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے اس کے لیے جنس کا سہارا لیتے ہیں اور مقامی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے بجائے مکمل طور پر نہا رہے ہیں۔

کردار محدود ہیں۔ اسکا فائدہ یہ ہے کہ کردار کو بڑے پیمانے پر بیان کرنے کی سہولت میسر آجاتی ہے۔ شوکت صدیقی کی طرح رفاقت حیات کردار کے ساتھ جیتے مرتے ہیں۔ زبان تلمیح سے پاک ہے۔ عبداللہ حسین یاد آجاتے ہیں۔ مکالمے نہایت محدود ہیں لیکن پر لطف ہیں۔ زبان میں بے باکی حسب ضرورت ہے۔ زبان عوامی رکھی گئی ہے تاکہ قارئین زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہو سکیں۔

فکشن تمثیل اور فلسفے سے مل کر بنتا ہے۔ ان میں توازن مشکل ترین کام ہے۔ رفاقت حیات نے فلسفے کو تمثیل میں ڈھال دیا ہے۔ شوکت صدیقی یاد آجاتے ہیں۔
اس ناول کے کشمکش سے ترگنیف کا ناول باپ اور بیٹے یاد آتا ہے حالانکہ یہ یہ کشمکش اس سے یکسر مختلف ہے۔ اس کے علاوہ نطشے، جیمس جوائس، خالد طور کا "بالوں کا گچھا" اور اصغر ندیم سید کا ناول "ٹوٹی ہوئی طناب ادھر" بھی یاد آتے ہیں۔

رفاقت حیات کی سب اہم خوبی انکا لہجہ ہے جو برائی کو دیکھ کر واعظ کی طرح کراہت سے بیان نہیں کرتا ہے اور نہ برائی کے بیان کو لذت آمیز بنا کر پیش کرتا ہے۔ بلکہ وہ ایک حقیقت نگار کے طور پر سامنے آتے ہیں۔

670 صفحات پر مشتمل اس ناول کی قیمت نہایت مناسب پندرہ سو روپے رکھی ہے اور اسے القاء پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔ پانچ ستارے کی یہ کتاب مستحق ہے۔

از Faisal Majeed
Profile Image for Hassan Ali.
60 reviews41 followers
September 8, 2025
بہترین ادب کی ایک شخصی تعریف کیا ہو سکتی ہے؟ میرے لئے وہ ایک ایسا ادب ہے جو انسان کو گھائل کر دے۔ اس کو ایک تڑپ سے روشناس کروا دے جو اس کو اس کے موجودہ تناظر سے نکال کر اپنی ہی رو میں بہاتا ہوا کہیں اور لے جائے۔ اس کا تاثر اتنا گہرا ہو جو انسان کے ذہن اور باطن میں ایک انقلاب لانے کی طاقت رکھتا ہو۔ رولاک میرے نزدیک ایسا ہی ادب ہے۔

اگر آپ کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی حساسیت ہے جس کا براہِ راست تعلق قلبی محسوسات سے جڑا ہوا ہے تو قوی امکان ہے کہ 'رولاک' آپ کو بھی گھائل کر دے گا۔

رولاک پڑھتے سمے ایک خاص قسم کے Aura نے ہمہ وقت مجھے اپنے حصار میں لئے رکھا جس کا کسی حد تک ذکر کرنا واجب ٹھہرتا ہے۔
میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ کیسی Displacement تھی جس نے مجھے رولاک کے ساتھ شدت سے associate کر دیا ہے مگر ایک اداسی ہے جو کہیں روح کے اندر تک اتر گئی ہے۔ ایک خاموش سا نوحہ ہے جو اس اداسی کے افسردہ ساز کے ساتھ ماتم کناں ہے۔ اس اداسی میں کئی بار میرے دل پر گھونسے لگے۔ یہ گھونسے لگانے کے لئے میں رفاقت حیات صاحب کا شکرگزار ہوں۔ میں اپنے عزیز دوست نوید مسیح کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے مجھے 'رولاک' کا تحفہ عنایت کیا۔

انسان کی زندگی پر عموماً سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے رشتے اس کے اپنے لوگ یا خون کے رشتے ہوتے ہیں۔ اگر ان ہی رشتوں سے وابستہ تحفظ، ادراک و فہم اور سمجھے جانے کی توقعات پوری نہ ہو سکیں تو انسان رولاک کی طرح ایک عجیب سی بے رنگ و اذیت یافتہ صبح و شام کے شکنجے میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ پھر کسی ڈوبے ہوئے تباہ شدہ جہاز کے قریب المرگ مسافر کی طرح انسان کو ہر تنکے پر سہارے اور ہر رنگ پر کسی ساحل کا گمان ہوتا ہے۔

تمام انسان یا شاید بالخصوص ہم مشرق سمت بسنے والے لوگ ہمہ وقت اپنے رشتوں میں ایک نادیدہ سی قوت کے زیرِ اثر رہتے ہیں۔ اسی قوت کے زیرِ سایہ ہم مختلف نفسیاتی سمتوں میں (جن کی گہری جڑیں ہماری قلب و روح میں سرائیت شدہ ہوتی ہیں) پولرائزیشن کا شکار ہو کر بھٹکتے رہتے ہیں۔ اور اس سارے کا ادراک ہوتے ہوئے بھی ہم ان رشتوں سے مختلف نوع کی قلبی و ذہنی آسودگی تلاش کرتے اپنی زندگی کے ماہ و سال کے سراب میں چلتے چلے جاتے ہیں۔

رولاک کے تمام مرکزی و ثانوی کردار زیادہ تر متحرک ہیں۔ مگر کوئی بھی کردار چاہے مختصر دورانیے کے لئے ناول کے صفحات پر آیا وہ متحرک رہا اور کہیں بھی ایسا نہیں محسوس ہوا کہ کرداروں کا ایک میلہ لگا ہوا ہے۔ اس کی ایک سادہ سہ وجہ کرداروں کا واقعاتی تسلسل یا chronology کے ساتھ اس طرح سامنے آنا ہے کہ جیسے ان کا آنا اس وقت اشد ضروری ہو۔ اس سے کرافٹ کو ندرت ملی اور کردار کسی تصنع اور بناوٹ سے یکسر پاک اپنی سادگی اور اصلیت کی معراج پر رہے۔ ہر کردار اتنی حقیقت نگاری میں سمویا ہوا ہے جیسے پڑھنے والا ایک خاموش observer کی طرح ان ہی کرداروں کے بیچ زندگی گزار رہا ہے اور انہی پاڑوں، بدروؤں والی گلیوں اور شہر کی سڑکوں پر اپنی زندگی کے صبح شام کرتا ہو۔ تمام تر ذیلی تفصیلات جو پڑھنے والے کو بہم پہنچائی جاتی ہیں وہ کسی ایک لمحے بھی اکتاہٹ، یکسانیت یا ذہنی تردد کو جنم نہیں دیتیں بلکہ وہ پورے بیانیے میں ایسے رچ بس جاتی ہیں جیسے ایک ہی مرکب کے اجزائے ترکیبی ہوں۔
رولاک ہر صفحے پر ایک خاموش ارتقائی عمل سے گزرتا ہے۔ رولاک کے شب و روز کے ساتھ یہ ارتقا پڑھنے والے کی ذات پر بھی طلوع ہوتا ہے۔

داستانوی اسلوب کے ساتھ ایسی منظر نگاری، واقعاتی تسلسل اور کردار نگاری نے رولاک کو اردو ادب میں ہوئے بہت سے کام سے ممتاز کر دیا ہے۔ اردو ناول کی صنف میں ایسے کرافٹ اور ایسی ندرت کا ملنا بہت مشکل ہے۔

مجھے امید ہے کہ آنے والے وقت میں رولاک اور ذیادہ شہرت و مقبولیت حاصل کرے گا جس کا وہ بجا طور پر حق دار ہے۔

حسن علی، 9 ستمبر، راولپنڈی۔
Profile Image for Rizwan Mehmood.
172 reviews10 followers
April 15, 2024
رولاک سندھی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی آوارہ گرد کے ہیں۔ نام کی وجہ سے اس ناول میں دلچسپ بن گئی۔
قادر بخش جوکہ اس کہانی کا مرکزی کردار ہے۔ جس کے زبانی ہم یہ داستان سن رہے ہیں۔ اپنی بچپن سے جوانی تک کا سفر وہ اس کہانی میں بیان کر رہا ہے۔

کہانی کے آغاز میں معصوم سے بچے سے ملتے ہیں جو آگے چل کے معاشرے کی گندگی میں لتھڑ جاتا ہے۔ کہانی نفسانی خواہشات کے گرد گھومتی ہے۔ ان کےلیے کیسے کیسے قدم اٹھانے پڑتے ہیں۔ کیونکہ وہ ایک چھوٹے شہر سے تعلق رکھتا ہے جہاں سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ کوئی بات کسی سے چھپی نہیں ہے اور ایک دوسرے کے معاملات میں لوگ دلچسپی بھی زیادہ لیتے ہیں۔

کیونکہ ہمارا کردار ایک رولاک ہے اس لیے شہر کی گلیاں اس کو ازبر ہیں۔ وہ گلیوں میں گھومتا پھرتا ہے۔ یہاں شہر کی منظر کشی خوب ہے۔ گلیوں میں جوں جوں گھوم رہاہے۔ یوں لگتا ہے ہم بھی اس کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ لیکن پھر یہ مناظر بار بار بیان کیے ہیں جس سے ایک تکرار سی محسوس ہوتی ہے۔ ناول بے جا طوالت کا شکار ہو گیا۔ ناول لکھنے کی تکنیک سے تو زیادہ واقفیت نہیں لیکن پڑھے تو کافی ہیں۔ یہ ناول شروع ایسے ہوا جیسے ہم کردار کے ساتھ چل رہیں۔ گویا جو کچھ اس کے ساتھ زندگی میں بیت رہا ہے وہ ساتھ ساتھ بتاتا جا رہا ہے۔ لیکن آخری کچھ ابواب میں ایسا تاثر دے دیا کہ سب کچھ بیت چکا ہے اور کہیں بیٹھ کر اپنی داستان سنا رہا ہے۔ یہ بات مجھے کچھ عجیب لگی۔ اختتام میں کچھ اوپن اینڈنگ والا تجربہ استعمال کیا ہے کہ کردار کی قسمت کا فیصلہ پڑھنے والے پر چھوڑ دیا۔ لیکن یہ کہانی تو راوی خود بیان کر رہا ہے۔ اس کا فیصلہ پڑھنے والے پر کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ داستان کا آغاز اچھا ہوا لیکن پھر آخر تک پہنچتے پہنچتے کہانی کہیں گم ہو گئی۔

آخری بات یہی کہ کچھ سین اچھے لکھے ہیں لیکن مجموعی طور پر کچھ خاص پسند نہیں آیا۔
Profile Image for Naveed Masih.
5 reviews
May 15, 2024
کتاب پڑھنے اس پے غوروفکرکرنے اور ریویو لکھنے کے لئے ذہنی آسودگی اور فراغت درکار ہے۔ جو ظاہرہے بزی روٹین میں ایک مشکل کام ہے۔ لیکن پھر بھی کوشش جاری ہے۔
جس ٹھہراؤ اور دھیمے انداز سے رولاک لکھا گیا ہے اتنے ہی صبر کے ساتھ پڑھنے کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ ساڑھےچھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ ناول پڑھنے میں تقریبا ڈیڑھ مہینہ سے زائد وقت لگا۔ رفاقت حیات سے تعارف ان کے پہلے "ناول میرواہ کی راتیں" سے ہوا۔ یہ ناول اپنے موضوع اور کہانی کے اعتبار سے اچُھوتا ثابت ہوا اور خوب داد سمیٹی۔ رفاقت صاحب نے اپنے پہلے ناول کے انداز اور تاثر کو یہاں بھی برقرار رکھا ہے اور کُھل کر لکھا ہے۔
رولاک کی پڑھت اور اختتام ایک ہوش رُباتجربہ ہے۔ناول کا لوکیل سندھ اور زمانہ آج سے بیس تیس سال قبل کا ہے۔کہانی بالکل عام مگر بے باک اور دلچسپ ہے۔ کردار محدود البتہ انوکھے ہیں۔ اس ناول کے مرکزی کردار کا باپ جو ایک پاجی شخص ہے ایک منفرد تخلیق ہے اب تک پڑھے ناولز میں ایسا کردار پڑھنے کو نہیں ملا۔ ناول ذہنی، معاشی اور تعلیمی پس ماندگی، اپنے علاقے سے جڑت، گھریلو تشدد اور جنس وغیرہ کو موضوع بناتا نظر آیا۔ ان کے علاوہ ناول بیک وقت کئی طرح کے تھیمز لئے ہوئے ہے جنہیں پڑھنے والا اپنی استطاعت کے مطابق کھوج سکتا ہے۔
ماسوائے چند ایک واقعات کے کہانی سپاٹ رہی کہیں یہ محسوس نہیں ہوا کے کہانی اب اپنے عروج پر ہے۔طوالت کے باعث بعض جگہوں پر بوریت کا باعث بنا پر رفاقت صاحب کی نثر کی یہ خاصیت ہے کے کہانی سے تعلق نہیں ٹوٹنے دیتا۔ ایک دلچسپ ناول لکھنے پر رفاقت صاحب کو دلی مبارکباد۔
Displaying 1 - 4 of 4 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.