Having read some of Manto's books earlier, I wasn't too impressed by this book,it seemed like a repetition of his other works.Most of the stories were fairly ordinary and the prose rather jarring.However,the book did have its share of ironic moments.
منٹو نے معیاری بھی خاصا لکھا اور غیر معیاری بھی۔ ۔ ۔ خوش قسمتی سے یہ کتاب پہلے قبیلے سے ہے۔ چُغد کے معنی ہیں 'اُلو' اور منٹو نے یہ اصطلاح ہوس سے بے نیاز 'خالص محبت' کرنے والوں پر استعمال کی ہے اور اپنے ان افسانوں میں سیکس کو ایک ایسی ضرورت کے طور پر پیش کیا ہے جو ہر انسانی جذبے پر حاوی ہوجاتا ہے۔ مجموعے کے سبھی افسانے اسی ایک موضوع 'سیکس اور محبت' کے گرد گھومتے رہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انسان کے مختلف نفسیاتی پہلوؤں جیسے رقابت، ہوس، بھولاپن وغیرہ کو اجاگر کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ میرے خیال میں ایسے بولڈ موضوع کے ساتھ انصاف صرف منٹو ہی کر سکتا تھا جو لکھتے ہوئے کسی خارجی روک ٹوک کا قائل نہیں اور بھیانک سے بھیانک بات بھی لکھ جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ منٹو کے افسانوں کے کردار نہایت غیر معتدل بلکہ زبردست حد تک انتہا پسند واقع ہوئے ہیں، جبکہ ظاہر ہے ایسے لوگ لاکھوں میں ایک دو ہی ہوتے ہیں۔ بہرکیف ایک اچھی فکر انگیز کتاب ہے اور منٹو کی ان چند کتابوں میں سے ہے جو ہر ایک کو پڑھنی چاہئیے۔ نیز دیباچے میں منٹو نے لکھا کہ 'بابو گوپی ناتھ' اور 'میرا اور نام رادھا ہے' ان کی عظیم کہانیاں ہیں، اس پر بھی قاری کی مہر تصدیق ثبت ہونا لازم ہے۔
اس چخد کے نام جو اپنے جخد ہونے کا بیچ کھت اقرار کرے
This collection comprises 8 short stories: Debacha, Aik Khat, Dharas, Chughad, Parhiye Kalma, Mus Tain Wala, Babu Gopi Nath, Mera naam Radha hai, Janki, and Panch Din.
Chughad was written before the Partition of 1947 in Bombay. From the eight short stories, I enjoyed Chughas, Dharas, Janki, and Panch Din the most. These stories were written before 1947 and possibly around the end of WWII. Manto seems hopeful and almost content with his work in all his musings. Something that disappears in his later work, and he becomes much more cynical.
Manto doesn't hold back; he paints vivid characters while also humanising the sect of people we all tend to forget about. The prostitiutes, pimps, addicts, mistresses all show up in his stories and are fleshed out. Manto writes his female characters with a lot of care and understanding, without a lick of judgment. His crass and vulgar language about working women is almost reverent and dignified.
I'll end this review with an interesting line from Panch Din ۔۔۔ایک آدمی کا مرنا موت یے۔ایک لاکھ آدمی کا مرنا تماشہ۔
منٹو کے بارے کہا جاتا ہے کہ بہت فحش لکھتے ہیں۔ مگر غور کیا جائے تو منٹو کمال کے ادیب تھے۔ انہوں نے ایسے حساس موضوع پر بے باک ہو کر لکھا۔ منٹو کے لکھے گئے کردار ہم اپنے معاشرے میں چلتے پھرتے دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے حساس موضوع کے ساتھ منٹو ہی انصاف کر سکتا ہے۔اس افسانوی مجموعے "چغد" میں منٹو نے کمال لکھا ہے۔ اگر آپ یہ پڑھ کر منٹو کو فحش سمجھنے لگیں تو خود سے ایک سوال کیجیے گا کہ کیا ایسے کردار ہمارے معاشرے میں موجود ہیں؟ اگر جواب مثبت ہو تو بتائیے کہ ادیب کی تحریر میں معاشرے کا عکس نہ ہو تو کیا محض ہوائی باتیں لکھ کر وہ اچھا ادیب کہلا سکتا ہے!
Loved it. Manto, as always, has this unmatched magic when it comes to all these amazing characters of his. The way he analyzes the characters, and never truly judges them, unless necessary. I loved this set of stories/ essays too. There were ten separate writings (including the last word). My favourite stories/ essays from this one were: Babu Gopinath, Mera Naam Radha Hai, Ek Khat, Chughad, Parhiye Kalma etc.