“میرے وہ کیسری پھول” مختصر سی کہانی جو بہت خوبصورتی سے لکھی گئی ہے۔میں فرزانہ جی کی پہلے دو کہانیاں پڑھ چکی ہوں تو اِس میں تو کوئی شک نہیں کہ وہ خوبصورت لکھتی ہیں۔عام سی باتوں کو اِس قدر خوبصورت انداز میں بیان کرتی ہیں کہ پڑھنے والا تعریف کیے بنا نہیں رہ سکتا۔
اِس کہانی کی بات کریں تو اِس کا انداز بیان پہلی دو کہانیوں سے مختلف تھا۔اندازِ بیان سادہ اور عام تھا اور اگر میں پہلے اُن کا کام پڑھ نہ چکی ہوتی تو یقیناً مجھے یہ کہانی بے حد پسند آتی مگر چونکہ اب ایسا نہیں تو یہ کہانی میرے لیے تھوڑی پیچھے چلی گئی ہے۔
کہانی خوبصورت ہے،کردار بہت خوبصورتی سے لکھے گئے ہیں اور کرداروں کے زیادہ ہونے کے باوجود بھی ہر کردار کو بہت خوبصورتی سے لکھا گیا ہے۔مختصر یہ کہ کہانی خوبصورت ہے اور خوبصورتی سے لکھی گئی ہے ۔پڑھ کر بہت اچھا لگا۔
"کیا میں تمہاری انا کا قد نہیں جانتا۔ اس بار میں سارے فیصلے کر کے آیا ہوں اور میں اس کیسری پھول کو ڈھونڈنے والی لڑکی کے لیے دیوان ہائوس ہاؤس سے دستبردار ہو کے آیا ہوں۔ میں اپنی فیملی کی موجودگی میں اپنی تمام پراپرٹی تمہارے نام کرکے آیا ہوں"
This is one of best novel I've ever readdd omg it was so well written and Qasam & Warsa were everything. Ughhh I wish i could read it for the first time again. Ughhh I loved everything about this damn book. I'm going to miss Qasam forever. This book literally felt like coming back home. Qasam is my favorite lover boy 😭 he's the standard & no one's doing it like QASAM MAILK 🧎🏾♀️ Qasam malik has my heart
"تم مجھے جو مرضی کہ لو اور مجھے جیسا بھی سمجھو مگر یاد رکھنا کہ قسام مالک، ورثہ تیمور سے کسی صورت بھی دست بردار نہیں ہوگا"
مالی بابا نے ہمیں کشتیاں بنا کر دی ہیں لیکن وہ سب بچے مجھے کھیلنے نہیں دے رہے۔ ڈھیلی پونیوں کے ساتھ منہ بسورتی دس سال کی ورثہ شکایت لگانے کے بعد اس سے پوچھ رہی تھی۔ بڑے جھرنے کے پاس جو تالاب ہے کیا وہ صرف ولید لوگوں کا ہے ۔اس تالاب کا آدھا حصہ ہمارا ہے تو ورثہ یہاں کشتیاں چلاسکتی ہے۔ قسام نے اپنے خونی رشتوں کو حکم دیا تھا یا بتایا تھا۔ وہ ہمیشہ انہیں اس کا بھرم رکھتا تھا۔ "وہ سب اسے یوں دیکھ رہے تھے جیسے سالوں پہلے آدھے تالاب میں درجن بھر کشتیاں چلاتے۔ وہ بچے باقی آدھے تالاب میں تیرتی دو کشتیوں کو حسد اور رشک سے دیکھتے تھے۔
وہ کہ سکتی تھی اگر دنیا میں کسی کو محبت مطلوب تھی تو اس وقت انہیں اس شخص کا لہجہ چرالینا چاہیے
⭐️⭐️⭐️✨️ (I think I'll re-read it some other time)
کہانی کی بنت کافی مشکل تھی سمجھنے کے لئے, جس کی وجہ سے اسے پڑھنے میں اتنا مزہ نہیں آیا۔ لیکن الفاظ کا چناؤ وغیرہ بہت اچھا تھا جیسا عموما فرزانہ کھرل کے ناولوں میں ہوتا ہے۔ اب میں ان کی کوئی بھی تحریر بنا نام کے بھی پہچان سکتی ہوں۔
(قبیلہ، دیوانگی جیسی محبت، کسی نا کسی وجہ سے دونوں خاندانوں میں دشمنی اور ان کا مخصوص اسلوب)
2.5/ 5 صرف اندازِ بیاں کی خوبصورتی کی وجہ سے۔ یہ فرازانہ کھرل کی پہلی تحریر ہے جو میں نے پڑھی۔ کہانی شروع سے آخر تک ہی مجھے غیر دلچسپ لگی۔ کرداروں سے بھی بہت سے شکوے رہے۔ ہاں، ورثہ کے کردار کے کچھ پہلو مجھے پسند آۓ۔ وہ واحد چیز جس نے مجھے کہانی کو پڑھنے پر آمادہ کیا وہ اس کا اندازِ بیان تھا اور میں فرزانہ کھرل کی باقی تحاریر بھی اسی وجہ سے پڑھوں گی۔ طرزِ تحریر یوں تو سادہ ہے لیکن جملوں کو کافی شاعرانہ انداز میں قلم بند کیا گیا ہے۔ مجھے یہ بات پسند آئی۔
اس کہانی کو کتنی مرتبہ جیا ہے، ان کرداروں کے ساتھ وقت گزارا ہے، ان مکالموں کو اتنا دہرایا کہ یادداشت میں محفوظ ہو گئے! ❤🩹
"میں اس وقت بھی اپنے پورے خاندان کو انگلیوں پہ گن سکتا تھا، اور تمہارا شمار تب بھی میری زندگی میں ایک زمانے جتنا تھا۔"
آل ٹائم فیورٹ ڈائلاگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرزانہ کھرل کو پہلی مرتبہ کووڈ کے دوران پڑھا، ان کا ناول چھاپ تلک سب ان کا پہلا تعارف تھا۔ اور پڑھا تو بس مبہوت رہ گئی۔ اس وقت میں یونیورسٹی کے پہلے سال میں تھی، اور ناولز پڑھنے کا سفر تو جماعت نہم سے شروع ہوگیا تھا لیکن مجھے اتنا افسوس ہوا کہ فرزانہ جی سے متعارف اتنی دیر بعد جا کے کیسے ہوئی۔ خیر پھر آپ کے نام سے سرچ کر کر کے جتنے ناول ملے سب پڑھ ڈالے۔ آپ کو ہمیشہ پڑھنا کیسے جذبات سے دوچار کرتا ہے میں واقعتا بتا نہیں سکتی۔ ہر بار پڑھ کے لگتا ہے میں ان کی سب سے بڑی مداح ہوں اور خوش فہمی سی ہوتی کہ جیسے ان کرداروں مکالموں کو میں محسوس کر پاتی ہوں شاید ہی کوئی کرتا ہو کیونکہ ان کو پڑھ کے ہمیشہ گنگ ہوجاتی ہوں۔ تخیل میں پھول کھلنے لگتے ہیں۔ فرزانہ کھرل جیسے محبت میں خودداری کو سب سے نمایاں شے لکھتی ہیں مجھے اس سے محبت ہے۔ مجھے ہمیشہ افسوس رہتا ہے ناولز گروپ میں یہ نام کیوں نظر نہی آتا جیسے نظر آنا چاہیے، پھر مجھے خود ہی جواب بھی پتہ ہے کہ فرزانہ کھرل کو پڑھنے والوں کا بھی معیار بلند ہونا انتہائی ضروری ہے۔ چھاپ تلک سب، میرے وہ کیسری پھول، چھپا کے چھئی، اور پیپل کے پتوں پہ پسندیدگی کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ میں وقتا فوقتا آپ کے پیج کا چکر لگاتی اس آس میں کہ کیا کچھ نیا لکھا، لیکن نا دیکھ کے اداسی ہوتی، کیونکہ کبھی کبھی دل کچھ اچھا پڑھنے کی بہت ضد کرتا اور فرزانہ جی کو پڑھنے کے بعد دل کہیں اور مشکل سے ٹہرتا۔ آج بھی اسی احساس سے بالاخر ہار کے میسج لکھ رہی کہ یہ جاننا آپ کا حق ہے جتنا دل سے آپ لکھتی ہیں اسے بہت قدر محبت اور دل سے پڑھا بھی جاتا ہے۔ میں آپ کے ناولز (خصوصا کچھ ناولز) کو تو نا جانے کتنی بار دوہرا چکی ہوں۔ آئیندہ بھی دوہراتی رہوں گی کیونکہ دل بھرتا ہی نہی ہے۔ ایک اور مزے کی بات آپ کی ۳۰ صفحات پہ مشتمل کہانی پڑھتے بھی گھنٹوں لگ جاتے کیونکہ ہر دوسرے جملے پہ رک کے اسے دوبار، سہ بار اور پھر بار بار پڑھ کے لطف لینے کا احساس ہی الگ ہے۔ اور پھر دل نہی کرتا آپکے لکھے کو جلدی پڑھا جائے کیونکہ کہانی کا ختم ہونا اداس کرتا۔
فرزانہ جی اتنا پیارا پتہ نہی کیسے لکھتی۔ بہت خوبصورت! مکالمے یاد ہو جاتے ہیں! اور وہ پرانے نہی ہوتے، جتنی مرتبہ پڑھ لو تازہ رہتے اور جو معنی دیتے، اہف!!
کچھ بہت بے ترتیب سا اظہارِ خیال ہوگیا یہ تو۔
لیکن فرزانہ کھرل خوبصورت پڑھنے کے خواہش مند افراد کے لیے ایک مستند حوالہ ہیں۔
میں نے فرزانہ کھرل کی یہ پہلی کہانی پڑھی ہے اور کہنا پڑے گا کہ ان کا اندازِ تحریر واقعی بہت منفرد ہے- انہوں نے صرف 77 صفحات میں ایسی مکمل کہانی پیش کی جو قاری کو ابتدا سے آخر تک باندھ کر رکھتی ہے۔ ہر کردار کا اپنا الگ انداز تھا- میرا سب سے پسندیدہ کردار قسم ملک ہے، جو نہ صرف دل کو چھو گیا بلکہ کہانی کو ایک خاص رنگ بھی دیا۔ اور اگر بات کروں منظر نگاری کی تو وہ بھی بہت خوبصورتی سے، مختصر مگر مکمل انداز میں کی گئی ہے۔
this was good but didn’t live up to the hype for me! the writing style was kinda confusing shuru se akhir tak! but i liked the main characters and all those kesari phool wale scenes! they were written beautifully, full of feelings! ❤️ also that love confession was one of the best i’ve ever read! “تم ایک دن میری ہر چیز اپنے نام لکھوا لینا اور میں زندہ رہنے کے لیے صرف محبت ذخیرہ کروں گا۔ تمہاری محبت۔”