Jump to ratings and reviews
Rate this book

Taar e Ankaboot / تار عنکبوت

Rate this book
افسانے۔


مہرہ جو پٹ گیا
خیال بیاباں نورد
کنڈکٹر
تارعنکبوت
ایسی لمّی اڈاری
بیچلر ہوم
تصویر
اک شور ماومن
رتن جوت
ذہن کا اقلیدسی زاویہ
رنج سفر
نیا گوتم
کوک کی ایک بوتل
خستہ خانم

208 pages, Paperback

First published January 1, 1990

2 people are currently reading
39 people want to read

About the author

Altaf Fatima

18 books21 followers
Altaf Fatima (born 1927 in Lucknow, British India) was an Urdu novelist, short-story writer, and teacher (specializing in Muhammad Iqbal). Her novel Dastak Na Do ("Do not knock") is regarded as one of the defining works in the Urdu language. An adaptation was presented on Pakistan television and an abridged translation was serialised by the Karachi monthly, Herald.

Altaf Fatima was the second of four children born in a Muslim household in Lucknow, India, to Mohammad Fazle Amin and his wife Mumtaz Jahan.

She was living in Lahore, Pakistan at the end of her life, to where she had retired as a professor of Urdu, but continued her literary work.

Altaf Fatima's novel Dastak Na Do has been translated into English by Rukhsana Ahmed.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
5 (50%)
4 stars
3 (30%)
3 stars
1 (10%)
2 stars
0 (0%)
1 star
1 (10%)
Displaying 1 - 3 of 3 reviews
Profile Image for Rural Soul.
550 reviews89 followers
October 2, 2025
بہت ہی اعلٰی پائے کی مصنفہ کی کتاب پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
جب کتاب پڑھ رہا ہوتا ہوں، اس وقت کسی اچھے فقرے کے اثر کی وجہ سے، کافی نکات ذہن میں آتے ہیں. وہ نکات جو بیانیہ کے لیے آسانی فراہم کریں گے کہ آخر اس کتاب میں اچھا کیا تھا؟
مگر جب تعریف و توصیف کے کے لیے لکھنا شروع کرتا ہوں تو سب کچھ ذہن سے نکل جاتا ہے۔


الطاف فاطمہ اس دور کی لکھاری ہیں، جب خواتین مصنفین گلی محلے، کالج کے رومانس؛ شادی بیاہ، ساس بہو کے جھگڑے اور اسلامی تڑکے والے کمرشل ناولوں سے بہت مختلف لکھا کرتی تھیں. یعنی موضوعات کی فراوانی تھی. اب مجھ پر  سیکسسٹ ہونے کا ٹھپہ نہیں لگنا چاہیے، اس لیے کہ عورت ہونے کے باوجود مرد کرداروں کے ساتھ عمدہ افسانہ تخلیق ہوا ہے جو الطاف فاطمہ کا مردانہ نفسیات کے عمیق مشاہدے کا ثبوت ہے. ایک دو افسانوں میں انداز گڈ مڈ ہوتا نظر آیا مگر شاید الطاف فاطمہ کا انداز ہی یہی ہے۔


عموماً انکا افسانہ، خیالات کی بے لگام دوڑ کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور بعد میں کہانی اور پلاٹ کو واضح کرتا ہے۔
یوں تو سارے ہی افسانہ لاجواب تھے مگر
کوک کی ایک بوتل
بیچلرز ہوم
خستہ خانم
مہرہ جو پِٹ گیا
بہت پسند آئے۔

Profile Image for E..
81 reviews
November 21, 2025
اس قدر خوبصورت افسانے🥹❤️
میں الطاف فاطمہ کی ناول نگاری کی مداح تھی لیکن اب ان کے افسانے مجھے ان کے ناولوں سے زیادہ پسند ہیں۔ اس قدر خوبصورت انداز اور گہرا مشاہدہ کہ کئی جملے رکنے اور سوچنے پر مجبور کریں کہ اس قدر اچھا کوئی کیسے لکھ سکتا ہے؟

سب سے بڑھ کر اس کتاب کا انتساب ❤️
"بے زمینی کا دکھ اٹھانے والوں کے نام"

سب ہی پسند آئے لیکن کنڈکٹر، ذہن کا اقلیدسی زاویہ، تارِ عنکبوت، خستہ خانم،ایسی لمّی اڈاری پسندیدہ ترین رہے۔ ❤️❤️❤️
Displaying 1 - 3 of 3 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.