سب کچھ اس پائے کا ہے کہ میں فخر سے اس خوش فہمی میں چلا گیا کہ شاید کسی ملک کے، جہاں قومی زبان اُردو ہو، محکمہ تعلیم کی تیار کردہ کورس کی اضافی کتاب ہے۔ طلبہ پڑھیں گے، بار بارپڑھیں گے اور بڑے ہو جانے پر اپنے بچوں کے لیے رکھ رکھیں گے کہ وہ پڑھیں گے۔ اس کتاب کی تیاری میں ہاتھ بٹانے والوں نے اپنا اپنا کام اس خوبی سے کیا ہےکہ داد دینا مجھ پر فرض ہے۔ کیا تصاویر، کیا الفاظ کے معنوں کی پیش کش اور کہانیوں کی فہرست ... اصل داد تو کم سِن پڑھنے والے دیں گے۔ میرا خیال ہے، کم عمر پڑھنے والوں کے لیے چھپنے والی کتابوں میں ’’بک کارنر‘‘ کی یہ سوغات رہنمائی کا کام کرے گی۔
داخلے کا دن، سرورق کو دیکھ کہ ایک خوشنما تاثر ملتا ہے لیکن کہانیوں میں (گو کہ موضوعات کے حساب سے اہم ہیں) افسردگی نمایاں ہے۔ خوف، اغوا اور موت جیسے موضوعات پر کہانیاں ہیں۔ چھوٹے بچوں سے زیادہ ٹین ایجرز کے لیے پڑھنا شاید بہتر رہے گا۔ تین کہانیاں کبڑا نیم، متو اوربادشاہ ک قد مجھے اچھی لگیں۔
اس کتاب کی کچھ کہانیاں اچھی لگیں، جیسا کہ "متو" اور "کبڑا نیم" لیکن باقی کہانیاں بچوں کے پڑھنے کے حساب سے کچھ عجیب سی ہیں۔
مثال کے طور پہ "بادشاہ کا قد"، اس کہانی میں باشاہ کے قد کا مسئلہ جس طور پہ حل کیا گیا ہے وہ بچوں کے لیے تو نہیں پر میٹرک یا کالج کے طالب علم یا طالبات کو زیادہ بھا سکتا ہے۔
کتاب کی سرورق کہانی تو بہت ہی بے ڈھب ہے۔ مصنف ایک والد کو اپنی سکول میں داخلے کی عمر کی چھوٹی بچی کی نقل کرنے کی معصومانہ شرارتوں کو کتھک ڈانسر کی اداؤں سے موازنہ کرتے ہوئے دکھاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ والد صاحب کو اخلاقی طور پہ ایسے بلند معیار کا دکھایا گیا ہے جو اپنی بیٹی کے سامنے انڈر وئیر میں آنے پر بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔
نہیں معلوم کہ مصنف کتاب کے سرورق پر لکھے "بچوں کے لیے کہانیاں" کے الفاظ کو کیسے بھول گئے۔
کتاب میں "فاطمہ امر" کی بنائی تصاویر قابل تعریف ہیں
This entire review has been hidden because of spoilers.