Jump to ratings and reviews
Rate this book

Daakhlay ka Din / داخلے کا دن

Rate this book
سب کچھ اس پائے کا ہے کہ میں فخر سے اس خوش فہمی میں چلا گیا کہ شاید کسی ملک کے، جہاں قومی زبان اُردو ہو، محکمہ تعلیم کی تیار کردہ کورس کی اضافی کتاب ہے۔
طلبہ پڑھیں گے، بار بارپڑھیں گے اور بڑے ہو جانے پر اپنے بچوں کے لیے رکھ رکھیں گے کہ وہ پڑھیں گے۔
اس کتاب کی تیاری میں ہاتھ بٹانے والوں نے اپنا اپنا کام اس خوبی سے کیا ہےکہ داد دینا مجھ پر فرض ہے۔ کیا تصاویر، کیا الفاظ کے معنوں کی پیش کش اور کہانیوں کی فہرست ... اصل داد تو کم سِن پڑھنے والے دیں گے۔
میرا خیال ہے، کم عمر پڑھنے والوں کے لیے چھپنے والی کتابوں میں ’’بک کارنر‘‘ کی یہ سوغات رہنمائی کا کام کرے گی۔

حسن منظر

128 pages, Hardcover

Published August 5, 2024

7 people want to read

About the author

Hasan Manzar

27 books21 followers
Hasan Manzar is one of the eminent short story writer of Urdu from Pakistan. His books have won awards from Pakistan Academy of Letters.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
0 (0%)
4 stars
0 (0%)
3 stars
1 (33%)
2 stars
2 (66%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 2 of 2 reviews
Profile Image for Rizwan Mehmood.
172 reviews10 followers
January 9, 2025
داخلے کا دن، سرورق کو دیکھ کہ ایک خوشنما تاثر ملتا ہے لیکن کہانیوں میں (گو کہ موضوعات کے حساب سے اہم ہیں) افسردگی نمایاں ہے۔ خوف، اغوا اور موت جیسے موضوعات پر کہانیاں ہیں۔ چھوٹے بچوں سے زیادہ ٹین ایجرز کے لیے پڑھنا شاید بہتر رہے گا۔ تین کہانیاں کبڑا نیم، متو اوربادشاہ ک قد مجھے اچھی لگیں۔
34 reviews
February 7, 2025
اس کتاب کی کچھ کہانیاں اچھی لگیں، جیسا کہ "متو" اور "کبڑا نیم" لیکن باقی کہانیاں بچوں کے پڑھنے کے حساب سے کچھ عجیب سی ہیں۔

مثال کے طور پہ "بادشاہ کا قد"، اس کہانی میں باشاہ کے قد کا مسئلہ جس طور پہ حل کیا گیا ہے وہ بچوں کے لیے تو نہیں پر میٹرک یا کالج کے طالب علم یا طالبات کو زیادہ بھا سکتا ہے۔

کتاب کی سرورق کہانی تو بہت ہی بے ڈھب ہے۔ مصنف ایک والد کو اپنی سکول میں داخلے کی عمر کی چھوٹی بچی کی نقل کرنے کی معصومانہ شرارتوں کو کتھک ڈانسر کی اداؤں سے موازنہ کرتے ہوئے دکھاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ والد صاحب کو اخلاقی طور پہ ایسے بلند معیار کا دکھایا گیا ہے جو اپنی بیٹی کے سامنے انڈر وئیر میں آنے پر بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔

نہیں معلوم کہ مصنف کتاب کے سرورق پر لکھے "بچوں کے لیے کہانیاں" کے الفاظ کو کیسے بھول گئے۔

کتاب میں "فاطمہ امر" کی بنائی تصاویر قابل تعریف ہیں
This entire review has been hidden because of spoilers.
Displaying 1 - 2 of 2 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.