صنوبر ناظر کا شمار نئی نسل کی ان نمایاں خاتون لکھاریوں میں ہوتا ہے جو اس شاندار روایت میں نمایاں ہوئی ہیں جسے کشور ناہید، زاہدہ حنا اور نورالہدیٰ شاہ نے اعتبار و وقار بخشا ہے۔ ناہموار استحصالی طبقاتی معاشروں میں قلم ظلم و جبر کے خلاف جد و جہد میں خلقِ خدا کا ترجمان ہوتا ہے۔ وہ ترجمانی صنوبر کی تحریروں میں جھلکتی ہے۔ صنوبر کی کہانیاں، کالم، آپ بیتیاں ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی زندگی کی تصویریں ہیں، جنھیں صنوبر نے بڑی سہولت سے لکھا ہے۔ تکلیف دہ، الم انگیز، ناروا ... صنوبر کی تحریروں میں گاہے گاہے فریاد کی لَے تیز بھی ہوتی ہے اور لہجہ تلخ بھی ... انکار، احتجاج، تردید میں قلم دل کا ساتھ دیتا ہے کہ مصلحت اس کو راس نہیں آتی۔ (افتخار عارف)
آرٹ کی یا خالصتان کی تحریک پر صنوبر کا قلم روانی سے چلتا ہے، مذہب کی جنونیت اور غزہ، بلوچستان اور اقلیتوں پر ظلم و ستم کی داستان لکھتے ہوئے صنوبر کے قلم میں خون بھر جاتا ہے۔ ـیہ تمام تحریریں پختگی کی عکاس ہیں، کبھی یہ موپاساں سے ہم کلام ہوتی ہیں تو کبھی مائیکل اینجلو سے۔ صنوبر کی مختلف موضوعات پر یہ تحریریں کچنار کی کلیوں کی طرح ہیں، انھیں پڑھتے ہوئے بہت سے ادیب یاد آئیں تو صنوبر کو مزید لکھتے رہنے کی دُعا دیجیے گا۔ ـ (کشور ناہید)
اگر آپ کہانی سننے کے شوقین ہیں، اگر آپ کو زبان و بیان کی دلکشی متاثر کرتی ہے، اگر آپ دوسروں کے غم پر دُکھی اور مسرت پر خوش ہو سکتے ہیں اور اگر آپ اپنے سماج، اپنے گرد و پیش کو خوب صورت بنانے کے خواب دیکھتے ہیں تو صنوبر کی کتاب آپ کی بہترین ساتھی ہو سکتی ہے۔ موضوعات کا تنوع، اسلوب کی شگفتگی، دردمندی اور اصلاحِ احوال کی تمنا صنوبر کی تحریر کے امتیازات ہیں۔ بظاہر ہلکی پھلکی یہ تحریریں گہرے معانی، مقاصد اور مضمرات سے پُر ہیں۔ (نجیبہ عارف)
سماج کی بے حسی ہو یا عورت اور بچیوں کے ساتھ اس پدرسری سماج کا رویہ! یا سیاست اور ریاست کی بدنمائی ہو، صنوبر کے انداز میں جذباتی نوحہ گری نہیں ہے۔ وہ اشک بہا کر کتھارسس نہیں کرتی، بلکہ وہ ہر داغ و زخم کی نشاندہی کرتی ہے۔ متوجہ کرتی ہے، سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے۔ صنوبر کے مضامین پڑھتے ہوئے بارہا یہ خیال بھی آتا ہے کہ اس کے اندر ایک اچھی افسانہ نگار بھی موجود ہے، جس کی انگلیاں سماج کی نبض پر رکھی ہیں۔ مجھے امید ہے صنوبر ناظر کی اگلی کتاب اس کے افسانوں کا مجموعہ ہوگی! (نور الہدیٰ شاہ)
کتاب خیالوں کی آرٹ گیلری از صنوبر ناظر ایک ایسی تحریری دنیا ہے جہاں ہر صفحہ کسی نہ کسی احساس کا عکس لگتا ہے۔ یہ روایتی کہانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یادوں، مشاہدات اور جذبات کا ایک نرم مگر گہرا بہاؤ ہے جو قاری کو آہستہ آہستہ اپنے اندر کھینچ لیتا ہے۔ مصنفہ کسی بڑے پلاٹ یا ڈرامائی موڑ کے پیچھے نہیں بھاگتیں بلکہ چھوٹے چھوٹے لمحوں میں چھپی بڑی حقیقتوں کو سامنے لاتی ہیں، اسی لیے یہ کتاب پڑھتے ہوئے اکثر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کسی اور کی نہیں بلکہ اپنی ہی کہانی پڑھ رہا ہو۔
اس کتاب میں کئی تحریریں ایسی ہیں جو دیر تک ذہن میں رہتی ہیں، مگر آپ کی پسندیدہ تحریر “بکهری سمٹی یادیں” خاص طور پر دل کو چھو لینے والی ہے۔ اس میں صنوبر ناظر نے اپنی ذاتی زندگی کی یادوں کو جس سادگی اور خلوص کے ساتھ بیان کیا ہے، وہ اسے کتاب کا سب سے مضبوط اور اثر انگیز حصہ بنا دیتا ہے۔ اپنے والد کے ساتھ جڑی خوبصورت یادیں ایک نرم سی اداسی اور محبت کے ساتھ ابھرتی ہیں، جبکہ والدہ کا کردار ایک مضبوط اور بہادر عورت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ توازن—نرمی اور طاقت کا—تحریر کو مزید حقیقت کے قریب لے آتا ہے اور قاری کے دل میں ایک گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں کتاب صرف ادب نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ تجربہ بن جاتی ہے۔
مصنفہ کا انداز سادہ ہے مگر اس میں ایک خاموش گہرائی موجود ہے۔ وہ جذبات کو پیچیدہ الفاظ میں نہیں لپیٹتیں بلکہ سیدھے دل تک پہنچا دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے کتاب میں بیان کیے گئے موضوعات—محبت، تنہائی، معاشرتی رویے اور اندرونی سوالات—بہت ذاتی محسوس ہوتے ہیں۔ کہیں کہیں یہ تحریریں قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں، اور کہیں صرف ایک خاموش احساس چھوڑ جاتی ہیں۔
البتہ، یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کتاب ہر قاری کے لیے نہیں ہے۔ جو لوگ واضح کہانی، تیز رفتار پلاٹ یا ڈرامائی اتار چڑھاؤ پسند کرتے ہیں، انہیں یہ تحریریں سست یا زیادہ اندرونی لگ سکتی ہیں۔ یہاں واقعات کم اور احساسات زیادہ ہیں، اور یہی اس کی اصل پہچان بھی ہے۔
مجموعی طور پر، “خیالوں کی آرٹ گیلری” ایک ایسی کتاب ہے جو قاری کو باہر کی دنیا سے زیادہ اپنے اندر کی دنیا میں لے جاتی ہے۔ خاص طور پر “بھیکری سمٹی یادیں” جیسی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سچی اور خالص یادیں کسی بھی بڑی کہانی سے زیادہ اثر رکھتی ہیں۔ یہ کتاب ختم ہونے کے بعد بھی دل میں ایک ہلکی سی نمی اور کئی ادھورے سوال چھوڑ جاتی ہے، اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔