Saadat Hasan Manto (Urdu: سعادت حسن منٹو, Hindi: सआदत हसन मंटो), the most widely read and the most controversial short-story writer in Urdu, was born on 11 May 1912 at Sambrala in Punjab's Ludhiana District. In a writing career spanning over two decades he produced twenty-two collections of short stories, one novel, five collections of radio plays, three collections of essays, two collections of reminiscences and many scripts for films. He was tried for obscenity half a dozen times, thrice before and thrice after independence. Not always was he acquitted. Some of Manto's greatest work was produced in the last seven years of his life, a time of great financial and emotional hardship for him. He died a few months short of his forty-third birthday, in January 1955, in Lahore.
عرصہ دراز سے کتابوں کی الماری سے جھانکتی ہوئی اک کتاب جس کو اک رات اچانک پڑھنے کا فیصلہ کر لیا اور دو دن کے مختصر وقت میں اختتام کو پہنچ گئی۔ اس کتاب میں 27 عنوان کے اوپر لکھا گیا ہے۔ مگر اس کتاب کے اندر ایک ہی بات کے اوپر خط لکھے گئے ہیں۔ چچا سام کے خطوط ، جو کہ 9 کہ تعداد میں ہیں مگر ان کے اندر روس،امریکہ اور کوریا کی بات کی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ آزادی برصغیر کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ امریکی فنکاروں کا لکھا گیا ہے۔ اور باقی عنوان بھی قاری کو متوجہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اور مرکزی افسانہ جو کہ بلکل آخر میں ہے اور اس پر مقدمہ بھی چل چکا ہے باقی تمام افسانوں سے بہتر ہے۔ اگر اسکو کتاب کے شروع میں لکھ دیتے تو وقت کی بات ہو سکتی تھی۔ پوری کتاب میں اک افسانہ میری شادی قدر بہتر اور عمدہ ماناجا سکتا ہے ۔ مختصر لکھا جا سکتا ہے کہ یہ تخلیق منٹو کی باقی تخلیقوں سے بہت مختلف ہے۔ اور اسکو پڑ ھنے کا لطف اس قدر نہیں آ سکا۔
زیر نظر کتاب منٹو کے مضامین ہیں۔انہوں نے مضامین میں معاشرے پر گہرا طنز کیا ہے غالبا جسے ”dark humor” کہا جاتا ہے ۔ان کے کچھ جملے واقعی سوچنے پرمجبور کرتے ہیں ۔تقسیم ہند نے ان کے زہن پر کافی گہرا اثر چھوڑا ہےجو آپ کتاب میں با آسانی محسوس کر سکتے ہیں ۔ وہ نظریہ پاکستان کے بھی حامی نہیں تھے ۔ ان کا درد آپ اس جملے سے محسوس کر سکتے ہیں لکھتے ہیں “میں پہلے سارے ہندوستان کا ایک بڑا افسانہ نگار تھا ۔ اب پاکستان کا بڑا افسانہ نگار ہوں” تب کے ملکی حالات اور اب کے حالات میں کوی خاص تبدیلی نہیں آی۔ جیسا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مذہبی تشدد پسندی ضیا الحق کے زمانہ سے بڑھی لیکن منٹو کو پڑھ کر لگتا ہے کہ مذہبی تشدد پسندی تب ہی سرایت کر چکی تھی۔چچا سام کے نام لکھے گہے فرضی خطوط میں وہ طنز کا سہارا لے کر امریکہ پر تنقید کرتے ہیں اور امریکہ کی ترقی کو بھی مانتے ہیں اور ان کے اشتراکی نظریات بخوبی معلوم ہو سکتے ہیں۔ کتاب دلچسپ ہے اس میں گہری تنقید ہی مطالعہ کا نچوڑ ہے۔ ( یہ ایک پرانا ریوو ہے جو میں نے کتاب کو پہلی دفعہ پڑھنے کے بعد لکھا تھا۔)