Jump to ratings and reviews
Rate this book

Mantara / منتارا

Rate this book
کیسویں صدی میں ناول کی روایت کو تاریخی، تہذیبی، سیاسی اور تمدنی سطح پر ثروت مند کرنے والوں میں سب سے اہم نام حفیظ خان کا ہے، جن کے ناولوں میں ہندوستان کے مختلف خطّوں، تہذیبوں اور تاریخ کے دھاروں میں بہتی ہوئی سچائی کو دریافت کرنے کی جو اُمنگ قاری کا دل موہ لیتی ہے وہ حفیظ خان کے تخلیقی طلسم کا نقطۂ عروج ہے۔ ان کا ناول ’’منتارا‘‘ دوسری اشاعت میں ’’بک کارنر جہلم‘‘ سے شائع ہو رہا ہے۔ یقیناً ناول کی مقبولیت میں امر شاہد اور گگن شاہد کا بھی اہم حصّہ ہو گا۔ حفیظ خان کے فن کی جہتوں کو اگر سمجھا جائے تو میں نے ان کے تمام ناولوں میں بیانیہ میں بدلتے ہوئے تکنیک کے تجربوں کو محسوس کیا ہے۔ وہ ہر ناول میں کہانی کہنے کے مزاج کا پینترا بدل دیتے ہیں۔ یہ صفت ایک زرخیز تخلیقی دانش کا ہی کرشمہ ہوتا ہے۔ ’’منتارا‘‘ ہماری تاریخ، ہماری انتظامی زندگی کی ناکامیوں اور ہماری کوتاہیوں کا موزَیک ہے۔ حفیظ خان نے اپنے اس ناول میں آئینہ بکف ایک مورّخ اور کہانی کار کا کردار ادا کر دیا ہے۔
(اصغر ندیم سیّد)

محمد حفیظ خان کم و بیش اپنے ہر ناول میں تاریخ یا سیاست یا دونوں کے کسی ایسے گوشے کو منتخب کرتے ہیں جو ’نازک‘ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے ناولوں کے مطالعے سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک فکشن، محض ایک دلچسپ، مربوط پلاٹ کی، تفریحی نوعیت کی کہانی لکھنا نہیں ہے (یہ کہانی بھی انھیں لکھنا آتی ہے)، بلکہ فکشن کو ایک ایسی تخیّلی، بیانیاتی سپیس تصور کرنا ہے، جو حقیقی انسانی مسائل کی مخفی پرتوں کو کھولنے اور سمجھنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ منتارا، ہماری ہی کہانی ہے۔ ہمارے وطنِ عزیز کی اور اس کی تازہ ترین تاریخی و سیاسی صورتِ حال کی۔ اس ناول میں اگرچہ سیاسی کھیل کو اس کی باریکیوں کو پیش کیا گیا ہے، تاہم اس کے کردار مہرے بننے کے باوجود اپنی خوشی، رنج، ذلت اور بے بسی کو محسوس کرتے ہیں۔ چناں چہ یہ سیاسی ناول، کرداروں کی کئی نجی، نفسیاتی اور وجودی گرہوں کو بھی کھولتا ہے۔
(ناصر عباس نیّر)

’’منتارا‘‘ کی کہانی ایک عام سے منظر اور پس منظر میں کولمبو اور پھوکٹ کے ساحلوں پر بہت دھیمے خرام کے ساتھ نمودار ہوتی ہے۔ حسن و عشق کی چہلیں ہیں، خود سپردگیاں ہیں، ناز و نخرے ہیں، جسموں کی گہرائیوں کے بھید بھی ہیں اور بھاؤ بھی۔ یوں کہانی دھیمے دھیمے رفتار پکڑتی ہے اور حاکمیت کے بے رحمانہ اسلوب ’’ڈیپ سٹیٹ‘‘ کے منجدھار میں پہنچ کر یہ رفتار دیوانگی کی خونیں حدوں میں داخل ہو جاتی ہے۔ کہانی کی زیریں لہروں کی بو قلمونی تہ میں پڑی حیرتوں کی ریت کو اس وحشت و دہشت اور شدت کے ساتھ کھودتی ہے کہ قاری ہر ہر قدم پر خود کو نیچے ... اور نیچے دھنستا پاتا ہے۔ سیاسی جرائم کی لامتناہیّت دم لینے کی مہلت ارزانی نہیں کرتی۔ کہیں پڑھا تھا کہ قلوپطرہ کی ناک اگر ذرہ بھر مزید لمبی ہوتی تو تاریخِ عالم کچھ اور ہوتی، ’’منتارا‘‘ پڑھنے سے پہلے یہ جملہ کبھی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ ہر دور کی سیاسی قحبہ گیری ہو یا قلوپطرہ کی ناک، ’’منتارا‘‘ کی قلوپطراؤں کی یہاں کی سیاست پر فرماں روائی صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہاں ’’سیاسی طوائف‘‘ کی برانڈ نیو اصطلاح اپنی تمام تر معنوی برہنگی کے ساتھ موجود ہے۔ مخدوم ناظر حیات ایک سیدھا سادہ سا حُسن پرست کردار ہے لیکن انتشاری مہاجرت نے اسے ہوس کا خانہ بدوش بنا رکھا ہے۔ ایک گرم آغوش اسے سیاسی وجاہت سے زیادہ عزیز ہے۔ حفیظ خان نے اسے بڑی ہی خوب صورتی اور مہارت کے ساتھ تیار کیا ہے۔
(انوار فطرت)

230 pages, Hardcover

Published March 5, 2025

1 person is currently reading

About the author

Mohammad Hafeez Khan

10 books19 followers
محمد حفیظ خان ایک معتبر محقق، مؤرخ ،نقاد، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نگار، شاعر، کالم نویس اور صحافی کے طور پر منفرد شناخت کے حامل ہیں۔ گذشتہ 51برسوں سے علم وادب کی مختلف اصناف میں گراں قدر اضافہ کا باعث ہوتے ہوئے بھی انھوں نے پیشہ ورانہ لحاظ سے مختلف جہتوں میں ناموری حاصل کی۔ 1980ء میں وکالت سے آغاز کے بعد انھوں نے ریڈیو پاکستان کو بطور پروڈیوسر جائن کیا، بعدازاں جامعاتی سطح پر قانون کے مدرس رہے۔ یکے بعد دیگرے وفاقی اور صوبائی سول سروس کا حصہ رہنے کے بعد ضلعی عدلیہ میں شمولیت حاصل کی جہاں سول جج سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تک کے مناصب پر فائز رہنے کے علاوہ حکومت ِ پنجاب میں ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ قانون و پارلیمانی امور اور پنجاب سروس ٹربیونل کے ممبر اور چیئر مین بھی رہے۔ ملک کے مایہ ناز تربیتی اداروں میںقانون اور ادب کی تدریس بھی اُن کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ محمد حفیظ خان اب تک تین مرتبہ ا کادمی ادبیات کے ایوارڈ، پاکستان ٹیلی وژن سے بہترین ڈراما نگار کا ایوارڈ اور قومی سول ایوارڈ ’’تمغۂ امتیاز‘‘ حاصل کر چکے ہیں۔ اکادمی ادبیات کے بورڈ آف گورنرز کی رکنیت، ’’کمالِ فن‘‘ ایوارڈ کی جیوری میں کئی بار کی شمولیت، اکادمی کی اشاعتی کمیٹی، ترجمہ کمیٹی اور وظائف کمیٹی کی رکنیت بھی اُن کے اعزازات میں شامل ہیں۔ ’’پلاک ‘‘کی جانب سے گذشتہ برس اُن کی کتاب ’’پٹھانے خان‘‘ پرشفقت تنویر مرزا ایوارڈ اورنیشنل بک فاؤنڈیشن کی جانب سے انھیں تین مرتبہ ’’کتاب کا سفیر‘‘ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ گذشتہ تین برسوں میں اُن کے چار ناولوں ــ ’’ادھ ادھورے لوگ‘‘ ، ’’انواسی‘‘، ’’کرک ناتھ‘‘ اور ’’منتارا‘‘نے قومی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے۔ پندرہ برس تک روزنامہ نوائے وقت، جنگ، نئی بات اور خبریںمیں کالم نگاری کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ کے انگریزی ماہنامہ "The Competitor" کے ایک سو بیس سے زائد شماروں کی اجرائی اورسرائیکی ٹی وی چینلز وسیب اور روہی کے لیے ڈراما سیرئیلز لکھ چکے ہیں۔ نمائندہ ادیب کی حیثیت سے پاکستانی اہلِ قلم کی نمائندگی کرتے ہوئے انھوں نے دو بار چین کا دورہ بھی کیا ہے۔ محمد حفیظ خان کی تحریریں جہاں کلیات اور جامعات کے ادبی نصاب کا حصہ ہیں وہاں اُن کی ادبی خدمات کی مختلف جہتوں پر ایم اے اور ایم فل کے کئی مقالے بھی لکھے جا چکے ہیں۔

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
0 (0%)
4 stars
1 (100%)
3 stars
0 (0%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
No one has reviewed this book yet.

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.