زندگی کی پہلی اردو کتاب جس کو پڑھ کے مجھے شدید خوف محسوس ہوا۔ کچھ واقعات تو اتنے ڈراونے تھے کہ مجھے بہت جلد احساس ہوا کہ یہ کتاب اکیلے بیٹھ کے پڑھنے والی نہیں
یہ کتاب پڑھتے ہوئے میرا چائے کا کپ گر کر ٹوٹ گیا، کیونکہ میں ناول پڑھنے میں اتنا گم تھا کہ کپ میز پر رکھنے کے بجائے ہوا میں ہی چھوڑ دیا، بالکل جیسے ٹام اینڈ جیری میں ہوتا ہے۔
کپ گرا اور ٹوٹا تو پورا گھر اکٹھا ہو گیا کہ کیا ہوا؟ کیا ہوا؟
جب آپ ناول شروع کرتے ہیں تو پھر آہستہ آہستہ کہانی میں کھو جاتے ہیں۔ سردیوں کی رات، ٹرین کا کسی انجان جگہ پر رک جانا، ڈرائیور کا باہر نکل کر دیکھنا کہ آخر کس نے چین کھینچی ہے، پھر ڈرائیور کا گارڈ سے رابطہ کر کے اسے بلانا، اور دونوں کا اتر کر چیک کرنا کہ معاملہ کیا ہے۔
ٹرین میں ایک بارات جا رہی ہوتی ہے، اور مسافر جن بھوتوں کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ بارات کہاں جا رہی ہوتی ہے اور کس کی ہوتی ہے، یہ تو ناول پڑھ کر ہی پتا چلے گا۔ لیکن اصل کہانی ایک شادی شدہ جوڑے کی ہے، جس کی دلہن کے پیچھے ایک عاشق جن لگ جاتا ہے۔
کہانی ڈراؤنی ضرور ہے، مگر اختتام مجھے تھوڑا بچکانہ لگا، جہاں کسی گیم کی طرح ہوا میں نت نئی قسم کی چیزیں ظاہر ہو رہی ہوتی ہیں۔
لیکن رات کے وقت، جب آپ اکیلے ہوں، موسم ٹھنڈا ہو، تو اسے پڑھنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔