Autobiography of Diwan Singh Maftoon; Naqabil-e-Faramosh is not a schematic autobiography, yet it is an intimate book of memoirs. Its prodigality of confidence is entrancing. In short, clipped epsiodes, it unfolds the life of the author. There is no attempt here either at selfpity or self glorification. Nothing about the story seems manipulated. It reads naturally and unobtrusively. In parts, it has the excitement of a thriller, especially in the unravelling of courtly intrigue. It could thus be read also as documentation of princely India.
Deewan Singh Maftoon was a famous Urdu journalist and activist of the freedom movement in British India. He got fame through his editorials in which he highlighted the issues of public under British Raj and Princely States. He belonged to a Sikh family of Hafizabad in now Pakistan but later migrated to Dehli in his twenties where he met Khawaja Hassan Nizami and both started the newspaper Rayyat. Due to their aggressive stance against the British government, they were forced to close the paper. After some time, Deewan Singh started newspaper Riyasat. The birth of the Riyasat was a notable event in Urdu journalism as it was a real putsch so far as princely India was concerned. Several cases were brought up against it and its editor soon.
Maftoon had a natural talent for writing. His Urdu prose is acclaimed for its lucidity and exactness. He penned an autobiography titled Naqabil-e- Faramosh. The book contained many historical facts regarding India. He penned another book Jazbaat-e-Mashriq
ناقابلِ فراموش دیوان سنگھ مفتون صاحب کے متعلق "شیشہ اور شہ رگ" نامی کتاب میں پڑھا تھا. مذکورہ کتاب "دبیر حسین رضوی" نامی ہندوستان کے سابق پولیس افسر کی لکھی ہوئی تھی. کتاب میں دیوان سنگھ مفتون کا ذکر جیل کے اندر ایک قتل کے مقدمے کی مداخلت کی صورت میں تھا، جب انکی بروقت مداخلت کی وجہ سے ایک بے وقوف جاٹ (جو پولیس کے سبز باغوں کی وجہ سے خود بھی مرنے چلا تھا اور ساتھ میں دو بے گناہوں کا بیڑا بھی غرق کرنے کے قریب تھا) اپنا بیان تبدیل کر گیا.
اسکے بعد ایک اور کتاب میں "ناقابلِ فراموش" کے کچھ اقتباسات پڑھے تو سوچا کہ انکی کتاب پوری پڑھنی چاہئیے. ذاتی یادداشتوں پر مشتمل اچھی کتاب تھی. چونکہ یہ خود پنجاب سے تعلق رکھتے تھے اس لئے راقم کا اندر کا پنجابی بھی پرانے پنجاب کے بارے میں پڑھ کر تسکین حاصل کرتا رہا، یہ الگ بات ہے کہ وسط پنجاب سےجغرافیائی دوری کی وجہ سے راقم پنجابی کا الگ لہجہ ہندکو بولتا ہے. ذاتی تجربات اور فیصلوں میں گندھی یہ یادداشتیں ہماری اپنی زندگی میں کئے گئے فیصلوں کے بارے میں بھی سوچنے کو مجبور کرتی ہیں. کتاب کا بہاؤ کبھی کبھار سست لگتا ہے کیوں کہ دیوان صاحب کے زیادہ معاملات کچہری، پولیس اور والیانِ ریاست کے ساتھ تھے. اسکے باوجود بھی انداز بہت اچھا تھا.
There are pieces which come across as modern day blogs; there are those which come across as long journal entries written for a future audience in mind; and then there are those which are kind of long-winded rants. Many pieces seem like newspaper commentaries where Divan Singh Maftoon calls himself Editor Riyasat but then there is more personalized account where he supposedly forgets to switch the editorial hat. Overall, its an interesting read and like many memoirs, its significance is pretty much time bound. And although its not an ordinary memoir, its very hard to take it as a timeless literary classic in the company of Yadon Ki Barat. Yes, it has its extremely interesting moments but they get lost in lots and lots of chaotic ramblings.
The schematic disarray is understandable since the pieces were actually published in Weekly Riyasat in 1940s. There must be considerable rewriting as Divan Singh published the later edition with long revisions. In my view, this disarray takes too much away from an otherwise invaluable literary event of those years when it was actually published.
دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر اخبار ریاست سے بہت سے والیانِ ریاست خوف کھاتے تھے۔ سردار صاحب کے مہاراجہ پٹیالہ اور نواب بھوپال سمیت کئی والیانِ ریاست نے مقدمات چلوائے۔ سردار صاحب نے سب مقدمات کا سامنا کیا مگر اپنا قلم بیچنے سے انکار کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی ریاستوں میں آزادی کی شمع روشن کرنے میں سردار صاحب کا کردار بہت اہم تھا جبھی تو مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو اور ابوالکلام آزاد آپ کی صحافتی خدمات کے معترف تھے۔ یہ ایک ایسی داستان ہے جو حقیقت میں ناقابلِ فراموش ہے۔
ایک ایسے انسان کی اپبیتی جسنے اپنی طبیعت کے against کسی موقع پر کسی بھی پریشانی مین نا ھی اپنے اپکو جھکایا اور نا ھی کمزور یا confused سمجھا, اور اپنی اسی طبیعت کی وجہ سے کامیاب ھوا, اپنی اپبیتی مین دیوان سنگھ نے اپنی زندگی کے different واقعات کو اس ترتیب کے ساتھ short stories مین لکھا ہے کہ پرھنے والا نا only good feel کریگا بلکہ اگر چاہے تو ان lessons کو اپنی زندگی apply کرکے اپنی طرز زندگی کو change کر سکتا ہے, اسکے علاوہ اس کتاب مین ھندوستان مین انگریز کی government کرنکے طریقے, راجاون مہاراجاون کی معلومات پاکستان بننے کی باتین اور بہت کچھ اس طریقے سے لکھے ہین کے پرھنے والا بہت دلچسپی لے گا A must read for every Urdu reade
دیوان سنگھ مفتوں ایڈیٹر "ریاست " اردو کے مشہور صحافی رہ چکے ہیں . یہ کتاب ان کے ناقابل فراموش مضامین کا مجموعہ ہے . واقعات کا یہ مرقع کافی دلچسپ ہے . سردار صاحب اپنی بیباکانہ تحریروں ، جرات اور صاف گوئی کے لئے جانے جاتے تھے . اس کتاب کو ان کی سوانح عمری سمجھ کر پڑھا جا سکتا ہے
ناقابل فراموش از سردار دیوان سنگھ مفتون کی خود نوشت کا پہلا حصہ ہے۔(سیف و قلم دوسرا حصہ ہے)۔ اسے خود نوشت سے زیادہ رپورتاژ کہنا زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں آپ بیتی کم ہے، جگ بیتی زیادہ اور پاپ بیتی ندارد۔ اگر آپ نے مطالعہ کے میدان میں نووارد ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے ایک اچھا آغاز ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس کا انداز بیان صحافیانہ، رواں اور ہر باب کا آغاز عنوان سے اور اختتام اخلاقی سبق لیے ہوئے ہے۔ صحافت میں گزری زندگی جس نے ان کو جیل، کہچری، عدالت اور ممتاز سیاستدانوں سے ملاقات میں کا شرف بخشا ہے۔ بنیادی طور پر گاندھی کو مثالی رہنما سمجھتے ہیں لیکن جناح صاحب کے کردار کی اصول پسندی کے قائل ہیں۔ انگریزوں اور ہندوستانیوں کے عیوب و خصائل سے بخوبی واقف ہیں جسکی آگاہی وہ اپنے قارئین کو گاہے بگاہے دیتے رہتے ہیں۔ یہ کتاب ایک طرح سے مشکل ہے کیونکہ اس میں تقسیم ہند سے پہلے کا بیان کثرت سے ہے اور ان کے بیان کردہ کردار زیادہ تر ہندو، سکھ اور انگریز ہیں جن سے پاکستانی ہونے کے ناطے دلی مطابقت قائم کرنا زیادہ مشکل ہے۔ اس کتاب کا موازنہ خشونت سنگھ کی آپ بیتی سچ محبت اور ذرا سا کینہ سے کریں تو یہ زبان کے فرق کے باوجود یہ کہنا درست ہوگا کہ خشونت سنگھ کا انداز ادبی ہے اور سردار مفتون کا طرز تحریر صحافیانہ۔ کتاب چونکہ ضخیم ہے اس لیے تفصیلی تاثرات لکھنا میرے لیے ممکن نہیں۔ اسے بک کارنر، جہلم نے اچھے انداز سے شائع کیا ہے۔ اس کے 536 صفحات ہیں اور اسکی قیمت بارہ سو روپے ہے۔