This book is a selection of 21 unpublished essays that Yousufi had penned down at various stages in his life. It offers a glimpse into the writer’s childhood, which had never been discussed in his writings before.
Mushtaq Ahmad Yousufi D.Litt (HC), SI, HI is an Urdu satirical and humor writer from Pakistan. Banker by profession, Yousufi has also served as the head of several national and international financial institutions. He has received Sitara-e-Imtiaz and Hilal-e-Imtiaz, the highest civil honors by the Government of Pakistan. He was also given the highest literary award by Pakistan Academy of Letters in 1999 the Kamal-e-Fun Award. His books have received many awards and critical acclaim.
Yousufi was born in British India in a learned family. His father Abdul Karim Khan Yousufi was chairman of the Jaipur Municipality, and later Speaker of the Jaipur Legislative Assembly. Yousufi completed his early education in Rajputana and earned B.A. from Agra University while M.A. Philosophy and LL.B from Aligarh University. After partition of India his family migrated to Karachi, Pakistan.
Ibn-e-Insha, himself an Urdu satirist and humourist, wrote about Yousufi: "...if ever we could give a name to the literary humour of our time, then the only name that comes to mind is that of Yousufi!" Another scholar Dr Zaheer Fatehpuri wrote, "We are living in the '...Yousufi era' of Urdu literary humour..." The Yousufi era started in 1961 when Yousufi's first book Chiragh Talay was published.
مشتاق احمد یوسفی کی اس کتاب میں ان کا روایتی انداز ماند نظر آتا ہے۔ مزاح میں کچھ کسر سی رہ گئی ہے، یا پھر شاید ہم نے امیدیں کچھ زیادہ وابستہ کر لی تھیں۔پہلی کتابوں کی ہر سطر پر قہقہہ پھوٹتا تھا، یہاں کئی کئی صفحے پلٹ جاتے ہیں اور زیر لب تبسم بھی نہیں آتا۔ایک دوست نے کہا یوسفی صاحب کوایسی کتاب نہیں لکھنی چاہیے تھی۔ لیکن ہم ان سے متفق نہیں۔کتاب یوسفی صاحب پر ان کے چاہنے والوں کا قرض تھا، جو انہیں ادا کرنا ہی تھا۔ کتاب سے چند جملے پیش ہیں۔ دنیا میں جتنی بھی لذیذ چیزیں ہیں، ان میں سے آدھی تو مولوی صاحبان نے حرام کر دی ہیں اور باقی آدھی ڈاکٹر صاحبان نے۔ اب تم جن نظروں سے مرغی کو دیکھنے لگے ہو، ویسی نظروں کے لیے تمہاری بیوی برسوں سے ترس رہی ہے۔ اسلام آباد درحقیقت جنت کا نمونہ ہے۔۔۔اس اعتبار سے یہاں جو بھی آتا ہے، حضرت آدم کی طرح نکالا جاتا ہے! آدمی کو جب تک صحیح وقت پر غلط صحبت نصیب نہ ہو، وہ انساں نہیں بنتا۔ نامقبول ہونا، بہر صورت نامعقول ہونے سے بہتر ہے۔ فیمی نسٹ خواتین سے ڈر لگتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان سے اختلاف کیا جائے تو خفا ہو جاتی ہیں۔ اگر متفق ہو جائیں تو اور زیادہ خفا ہو جاتی ہیں۔ مرزا نے پروفیسر قاضی عبدالقدوس کو بتایا کہ انہوں نے پشاور میں سنا کہ وہاں ہیجڑے کو رسماً اور اخلاقاً پھوپھی کہتےہیں! مثلاً پھوپھی نرگس، پھوپھی خلیل! پروفیسر قدوس کے دل و دماغ پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ اپنی سگی پھوپھی کو ممانی کہنے لگے۔
میرا یہ ماننا ہے کہ یوسفی صاحب اردو کے سب سے بڑے مزاح نگار ہیں،اگرچہ ان کے مزاح میں بے ساختہ پن کی کمی ہے جو ابن انشاء، یا پطرس کے ہاں نظر آتی ہے لیکن یوسفی صاحب کے مزاح کی گہرائی ،الفاظ کا چناؤ اور میروغالب کے اشعار کا تڑکا کہیں اور نظر نہیں آتا۔میں نے یوسفی صاحب کی باقی تمام کتب سے تو بہت لطف اٹھا یا لیکن یہ کتاب سوائے کچھ مضامین کے کچھ زیادہ مزہ نہدے سکی۔موضوعات میں بھی کوئی گہرائی نظر نہ آئی، ،وہی تعریف وتنقید محض کا مخصوص مشرقی انداز ،کچھ پندو نصائح،اور کچھ پرانی باتوں کو نئے انداز سے کہنے کی کوشش۔ اس سے پہلے یوسفی صاحب مجھے کبھی مشکل محسوس نہیں ہوئے لیکن اس بار پڑھنا ایک بوجھ محسوس ہورہا تھا جیسے کچھ کہنے کو نہیں ہے لیکن پھر بھی کہا جارہا ہے۔الفاظ کے پیچھے محسوسات غائب تھے۔ میرا ارادہ تھا کہ 2 ریٹنگ دوں لیکن پھر خیال آیا بے تحاشا فضول انگریزی کتابوں کو 3 ریٹنگ دی تھی ، یہ تو پھر اردو کی کتاب ہے اور وہ بھی ایسی اردو جو اب شاید دوبارہ نہ لکھی جائے۔بہت سی خامیوں کے باوجود کئی مقامات پر بہت ہنسی آئی۔
بہت سے لوگ یوسفی کو محض ایک مزاح نگار کے طور پر دیکھتے ہیں جس کا کام بات بے بات قاری کی گدگدی کرتے رہنا ہے۔ درحقیقت یوسفی کا مزاح، ہمارے اکثر سیاسی، سماجی و معاشی رویوں کا نوحہ ہے۔ یوسفی کی یہ آخری کتاب اُس نوحے کا آخری حصہ ہے جو گزشتہ پانچ دہائیوں سے ایک مزاح پارے کے طور پہ لیا جاتا رہا ہے۔ اِس کو اُسی پسِ منظر میں ہی دیکھنا ہوگا ورنہ یہ کتاب آپ کو لطف نہیں دے گی۔
3.5 stars یوسفی صاحب کے ( ' زرگزشت ' و غیرہ کے نسبتاً ) ہلکے پھلکے مضامین کا مجموعہ ۔ اُن کا منفرد شیوہ طنز و مزاح بھرپور جھلکتا ہے ۔ ' دو مضامین بُہت پسند آے : 'قصّہ خوانی بازار سے کوچہَ ماضی گیراں تک' اور 'آم ، روہو اور بچّھو
In places it is hilariously funny (as one would expect from Yusufi). But the book is a collection of speeches Yusufi has delivered over the years, a large part of the book therefore talks about how great person X or Y is, depending on where and, in whose honor, the speech is being delivered. This work doesn't hold a candle to Yusufi's earlier works (in particular Zarguzasht).
This book is basically a collection of yusfi's various addresses and articles. The book is more informative and less humorous than expected. But still it is a wonderful book and a gem of its kind. I have gone through it about 3 times and still I want to go through it once again. It can be regarded as a casual read but I think it's more of an informative and knowledgeable book.
Too dry. Picked this book in expectations of some great humorous stories and stuff but no...its a collection of kinda boring essays/speeches with very little humour.
﷽ کتاب شام شعر یاراں ، مشہور زمانہ اور اردو مزاح کے لاثانی بادشاہ مشتاق احمد یوسفی صاحب کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں ہمیں پہلے والی ساری کتابوں سے الگ انداز نظر آتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کتاب میں جو مضامین شامل کیے گۓ ہیں وہ ادبی محافل میں پہلے یوسفی صاحب نے خود پڑھے تھے جو کہ کراچی ، اسلام آباد ،لاہور ، راولپنڈی ، لندن اور پشاور وغیرہ میں پڑھے گئے تھے ان مضامین میں زیادہ تر خاکہ نگاری کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے جس کسی مصنف کی کتاب کی اجراء کی رسم میں صدارت کی یا وہاں پہ بطور مہمان خصوصی گئے تو انہوں نے اس مصنف اور اپنے تعلقات کو موضوع بنایا جس سے نا صرف ہم ان باتوں سے آگاہ ہوتے ہیں جو یوسفی صاحب نے زرگزشت میں نہیں بتائیں بلکہ جس شخصیت کا خاکہ پیش کیا جا رہا ہوتا ہے تو اس کے بارے میں بھی کافی معلومات ہمیں ملتی ہیں جو دوسرے ذرائع سے ملنا محال ہیں۔ بعض اوقات ایسا مقام بھی آتا ہے جب قاری بیزار ہو جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ یوسفی کو بطور مزاح نگار پڑھ رہا ہوتا ہے حالانکہ یوسفی اس وقت حقیقت پسندانہ طرزِ نگارش اختیار کیے ہوتے ہیں ، اس سے یہ مراد ہرگز نہ لیا جائے کہ ساری کتاب میں کہیں بھی مزاح کا پہلو نظر نہیں آتا، ایسا بالکل بھی نہیں ہے جہاں پہ بھی یوسفی مزاح کا پہلو سامنے لے کر آتے ہیں طبیعت لوٹ پوٹ ہو جاتی ہے اور یہی یوسفی کا خاصہ ہے کہ وہ قاری کو مزاح میں بھی کوئی نہ کوئی پتے کی بات بتا جاتے ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ کتاب یوسفی صاحب کی پانچویں اور آخری تصنیف ہے اور یہ ہمیں ان واقعات سے بھی آگاہ کرتی ہے جو زرگزشت میں ہمیں نہیں بتائے گئے اور قاری یوسفی صاحب کی شخصیت کے ایسے پہلوؤں سے آگاہ ہوتا ہے جن سے وہ پہلے واقف نہیں تھا۔ یوسفی صاحب کے ہر پرستار کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے تبصرہ: سید محمد حمزہ
یہ کتاب در اصل یوسفی صاحب کے مختلف اوقات میں لکھے اور مختلف تقریبات میں پڑھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے کو کراچی آرٹس کاؤنسل کی عالمی اردو کونفرنس 2014 کے لیے نہایت جلد بازی میں یوسفی صاحب کے گھر سے ادھر ادھر کے مضامین ڈھونڈ کر شایع کیا گیا۔ جس میں ترتیب اور وحدت کا سرے سے کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ اور چونکہ مختلف پڑھے گئے مضامین کو بھی جوں کا توں چھاپ دیا گیا، کیوںکہ یوسفی صاحب 96 برس کی عمر اور علالت کے باعث نظرِ ثانی سے قاصر رہے، تو معیار ادبی کتاب کا سا نہیں رہا۔ اور مضامین چونکہ ظاہر ہے صاحبِ کتاب کے اپنی مرضی سے کتاب کے قصد سے نہیں لکھے اس لیے پڑھنے میں دقت ہوتی ہے۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ اس کتاب کو شایع کرنے والوں نے مشتاق احمد یوسفی اور ان کے چاہنے والوں سے شدید بددیانتی برتی ہے۔ بہرحال ہمارے محبوب مصنف کی کتاب ہے لہٰذا ہم نے خریدی بھی اور پڑھی بھی۔۔ تبرکاً ہی سہی۔۔