Unlock the hidden psychological mechanisms behind colonialism with "Istemar Ki Nafsiyat - استعمار کی نفسیات" by renowned psychologist Dr. Akhtar Ali Syed. This groundbreaking Urdu book delves deep into the psychological foundations, motivations, and long-term impacts of colonialism, offering readers a unique perspective that combines history, psychology, and socio-political critique. Dr. Akhtar Ali Syed, a respected name in clinical psychology, explores how colonial powers used psychological manipulation, fear, identity distortion, and cultural suppression to dominate and control societies. He not only highlights the strategies employed by colonizers but also sheds light on the psychological trauma and inferiority complex left behind in colonized minds — effects that still resonate in post-colonial societies today. Istemar Ki Nafsiyat is an essential read for students, researchers, psychologists, political thinkers, and anyone interested in understanding the hidden mental warfare behind historical imperialism. Written in eloquent yet accessible Urdu, it brings academic insight to a wide readership.
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
استمعار کی نفسیات از اختر علی سید سوا چار سو پر مشتمل اس کتاب کو القاء پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔ اور اسکی قیمت ایک ہزار روپے ہے۔ اختر علی سید معروف نفسیات دان ہیں۔ اور آئر لینڈ میں رہائش ہے۔ اس کتاب کے کچھ حصے آن لائن شائع ہوچکے ہیں اور اب ان کو مرتب کرکے ایک کتاب کی شکل دی گئی ہے۔ ان مضامین کو کالمز کے انداز میں لکھا گیا ہے۔ شائد اس لیے کہ انکی تفہیم آسان ہوسکے۔ اس کتاب کا موضوع کافی وسیع ہے یعنی کولونیل ازم اور مابعد کولونیل ازم۔ اور پھر اسی تناظر میں گزشتہ چالیس سالوں میں پاکستانی معاشرے کو نفسیاتی سطح پر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب کا اسلوب علمی ہے اور ظاہر ہے یہ پاکستان کے علمی سطح پر موجود طبقے سے مخاطب ہے۔ کیونکہ مصنف صاحبِ مطالعہ شخص ہیں اس لیے انکی تحاریر میں جو تلمیحات استمعال ہوئی ہیں انکا سمجھنا بھی ضروری ہے۔ انکا پاکستانی معاشرے پہ جو بےلاگ تبصرہ ہے اس کے لیے ضروری تھا کہ یہ پاکستان سے دور رہ کر یہ سب لکھیں۔ اس طرح کی کتب کی ہمارے معاشرے کو اشد ضرورت ہے۔ پیدائش پاکستان کے بعد بھی اس خطے کا کونیل ازم ختم نہیں ہوا تھا۔ استمعار نے صرف اپنی شکل بدلی ہے۔ اور چلمن کی آڑ لے لی ہے۔ لیکن ارون دھتی رائے نے "درندے کی پہچان" لکھ کر اس کی شناخت کروائی ہے۔ کلونائزر جب کسی ملک کی معشیت اور دفاع کو فتح کرلیتا ہے تو اگلا مرحلہ رائے عامہ کو قابو کرنا ہوتا ہے تو اس کے لیے نفسیات کے استمعال بلکہ ابیوز کرتا ہے۔ انہی نفسیاتی حربوں کا احوال اس کتاب میں ہے جن کے ذریعے گزشتہ پچیس سالوں اس خطے کی جنگ کو چھتری میسر آئی جسکے تلے یہ پورا خطہ جنگ زدہ رہا اور آج بھی لوگ درست سوچنے سے قاصر ہیں۔ساری کتاب کا حال یہ ہے پڑھتا جا اور روتا جا۔ مصنف نے سنجیدہ لہجے میں درست تناظر میں بات کی اور کسی مقدس گائیوں کو نہیں بخشا ہے۔ بلکہ استمعاریت کا پورا نیٹ ورک بے نقاب کیا ہے۔ تو اس حوالے سے یہ کتاب انتہائی اہم ہے۔ اس کتاب کی ایک تھیم ریاست اور فرد کا باہمی تعلق ہے۔ مملکت خداداد خود استمعاریت کا شکار ہے اور یہ اپنی عوام کو بھی دوہری استمعاریت کا نشانہ بناتی ہے اور اس کے لیے نفسیات کو بطور ہتھیار استمعال کیا جاتا ہے۔ عوام آخر تک پتا ہی نہیں چلتا کہ آہنی دیوار کی پیچھے کون ڈوریاں ہلا رہا ہے وہ تو صرف ریاستی بیانیے پر کٹھ پتلی کی طرح نچاتے رہتے ہیں۔ اور زیادہ کچھ ہوا تو کوئی پروپیگنڈا گھیر لیتا ہے۔ تنقیدی سوچ کے نہ ہونے کی وجہ سے سچ اور جھوٹ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور سیاسی طور پر جذباتی ہونے کی وجہ سے بڑی آسانی سے بے وقوف بن جاتے ہیں۔ کلونائزر جانتا ہے کہ اگر محکوم عوام منظم ہوگئی تو اس سے بڑا خطرہ کوئی نہیں۔ اس لیے رائے عامہ کو کبھی یکساں نہیں ہونے دیتا۔ گمراہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس کام میں اسے بڑی آسانی سے شراکت دار مل جاتے ہیں۔ جو سچ تک عوام کبھی پہنچنے نہیں دیتے اور معلومات کی کثرت نے یہ کام اور مشکل کردیا ہے۔ کلونائزر کے خلاف ردعمل بھی منظم نہیں ہوتا اور اکثر یہ برق بھی الٹا محکوموں پر گرتی ہے۔ اختر علی سید نے چند سماجی امراض کے پر تفصیل سے بات کی ہے جیسے ریپ، قتل، ہجوم کے ہاتھوں قتل وغیرہ لیکن ان سماجی امراض کی وجوہات کی درست تشخیص کی ہے جو کہ بظاہر بہت آسان لگتے ہیں لیکن اصل میں نہایت پیچیدہ ہیں۔ درست تناظر کو پالینا آسان نہیں ہے۔ لیکن مصنف یہ منزل حاصل کرلی ہے۔ آخر میں چند شخصیات بالخصوص اپنے اساتذہ کا جیسے خالد سعید، اختر احسن، آئی اے رحمان، اور عاصمہ جہانگیر کو خراج تحسین دیا ہے۔ اور عالمی طور پر ارون دھتی رائے، رابرٹ فسک، ایڈورڈ سعید، ولہلم رائج، ایرک فرام، اشیش نندی، اور سوسن براؤن ملر وغیرہ استفادہ کیا ہے۔ اور مجھ جیسے طالب علموں کو مسیح کمپلیکس اور نیکروفیلیا جیسی نفسیاتی اصطلاحات سے آگاہی ہوئی۔ اتنی اہم کتاب ہونے کے باوجود یہ کتاب اتنی غیر مقبول کیوں ہے؟ وجہ یہ ہے کہ شورِ ناقوس میں بانگِ درا گم ہے۔ ہر کان تک یہ آواز نہیں پہنچ پاتی۔ یہ کتاب کوئی حرف آخر نہیں ہے بلکہ بارش کے ابتدائی قطروں میں سے ہے۔ لہذا اس پہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ذوق کی تربیت بھی ایک معنی رکھتی ہے یہ آپ کو وہ نظر بخشتی ہے جو سانپ اور رسی میں فرق کرنا جانتی ہے۔ پانچ ستارے کی مستحق یہ کتاب آپ کی توجہ کی پوری طرح مستحق ہے۔ اور اختر علی سید سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ مزید کتب لکھیں۔ کیونکہ اردو قارئین ابھی تک ان موضوعات سے نابلد ہیں اور دیگر مصنفین کے لیے ان موضوعات پر ایک بنیاد فراہم کردی ہے۔ از Faisal Majeed
میں یہ کہوں گا کہ یہ ایک بہت اچھی کتاب ہے جو آپ کو سوچنے کے نئے زاویے دیتی ہے۔ تشدد، شور کی ثقافت، دانشور کی تعریف، استعمار کو شناخت کرنے کا بنیادی فریم ورک اور ایسی ہی بہت سی اہم موضوعات بارے ایک اہم کتاب یے۔
اس کتاب میں کچھ ابواب ایک حال موجود مشہور سیاسی جماعت اور اس کے قائد بارے بھی ہیں جن میں یہ استدلال کیا گیا ہے کہ آخر وہ بھی پاکستانی مسئلہ کا حل کیوں نہیں۔۔ اگر تو آپ اس جماعت کے حامی ہیں تو وہ ابواب آپ کو بوجھل کرسکتے ہیں، پر میں پھر بھی کہوں گا کہ آپ اُنہیں بھی پڑھیے۔ اس کتاب کے اہم اسباق میں سے ایک اہم سبق صحت مند مکالمہ بھی ہے تو اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ ابواب بھی پڑھ چھوڑیں۔۔ ہوسکتا ہے کتاب ختم کرنے کے بعد آپ کچھ نئے سوالات لے کر اٹھیں۔
کچھ دوستوں کے مطابق کتاب پڑھتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے، تو یہ آپ پر ہے کہ آپ کیا کرتے ہیں۔
اس کتاب کے کئی خوبصورت پہلوؤں میں سے ایک خوبصورت پہلو اس میں متعارف کروائے گئے کچھ اور اہم دانشور اور مصنفین بھی ہیں، اختر علی سید صاحب کے اپنے اساتذہ بارے لکھے خاکے بھی اہم اور قابل ذکر ہیں۔