اردو کا پہلا مکمل مزاحیہ ناول کہا جاتا ہے۔ اگر یہ پہلا مزاحیہ ناول نہ بھی ہو تو بغیر کسی شک کے اول آنے والا ناول ضرور ہے ۔ پہلی سطر سے لے کر آخری صحفہ تک مزاح سے بھرپور۔ ناول کی ابتدائی سطریں یہ ہیں " جیسے ہی نائی نے میرے سر پر اُسترا پھیرنا شروع کیا۔۔۔مجھے سکون سا آ گیا۔ ٹنڈ کروانا میرے لیے ہمیشہ باعثِ اطمینان رہا ہے۔۔۔جیسے جیسے استرا میرے سر پر پھرتا جاتا ہے مجھے اپنا آپ ہلکا پھلکا لگنے لگتا ہے،
میں ٹنڈ اسلئے نہیں کرواتا کہ اس سے سر کو ہوا لگتی ہے۔۔۔ بلکہ میں نے نوٹ کیا ہے کہ ٹنڈ کروانے سے میرا سر ، منہ سے اچھا نکل آتا ہے۔ ابا کو میری ٹنڈ سے بہت چڑ ہے، اُن کے بس میں ہو تو وہ دنیا بھر کے استروں پر زنگ لگوا دیں، اگرچہ انہیں ٹنڈ کا کوئی شوق نہیں لیکن قدرت نے ان کے سارے بال اُڑا دیے ہیں۔۔۔ ابا کی اتنی گھنی ٹنڈ دیکھ کر میرے منہ سے رال ٹپکنے لگتی ہے اور میں سوچتا ہوں کہ کاش میرا سر بھی ایسا سمُوتھ ہو جائے۔ مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا ہوتا تھا تو ابا کے سر پر چپت مارنے کا بڑا مزا آتا تھا، بالکل ایسی آواز آتی تھی جیسے طبلے کی “ترکٹ“ سے آتی ہے، لیکن جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا، ابا کا سر مجھ سے دور ہوتا چلا گیا اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اخلاقی اعتبار سے ابا کے سر پر چپت مارنا میرے لیے جرمِ ضعیفی قرار پایا۔ انہی دنوں میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں ابا کے سر پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے “سر“ پر خود کھڑا ہونگا۔۔۔ یوں میں نے خود انحصاری کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پہلی دفعہ ٹنڈ کرائی۔ مجھے یاد ہے جب میں پہلی دفعہ ٹنڈ شدہ ہو کر گھر پہنچا تو ابا نے دروازے سے ہی مجھے چونی دے کر رخصت کرنے کی کوشش کی تھی۔"
I had a smile on my face throughout the entire book The dialogue of Khoobsurat Seth and Kamal k Abba 😭😭 I really enjoyed it (Not gonna discuss about logic morality and rationality here)
This was most probably the first humorous novel of my life, which I read in my early childhood. Really funny, witty, and full of amazing twists and turns. It felt like a treat when I read it again after so many years. It's a story of a poor boy and his parents; and how they got stuck with the big fishes. The way the author has described their household, dealings with each other and the "poverty" is downright funny.