Jump to ratings and reviews
Rate this book

Bay Watan / بے وطن

Rate this book

790 pages, Unknown Binding

First published January 1, 1997

Loading...
Loading...

About the author

Ashraf Shad

10 books7 followers

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
3 (42%)
4 stars
2 (28%)
3 stars
2 (28%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 - 4 of 4 reviews
Profile Image for فیصل مجید.
216 reviews9 followers
October 25, 2019
اشرف شاد کا بے وطن ناول اس خواب کو چکنا چور کرتا ہے کہ پاکستان سے باہر زندگی آسان ہے۔ دھیمے لہجے میں زندگی کے تلخ حقائق کو پوری شدت سے بیان کیا ہے ۔ مکالمے بے مثال ہیں اور انداز بیان میں روانی ہے لیکن کردار نگاری میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ تقریبا آٹھ سو صفحات پر لکھے ناول کی موجودہ قیمت ١٠۵٠ ہے جسے دوست پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔ بقول شوکت صدیقی کہ یہ ناول آپ کے علم میں اضافہ کرتا ہے جیسے ہر اچھی کتاب کرتی ہے۔
Profile Image for Tariq Ahmad Khan.
118 reviews10 followers
February 28, 2026
سلیم اسٹریلیا پہنچا کیوں کیسی اور وہاں اس کے ساتھ کون کون ملا لمبی داستان ہے۔ اتنی لمبی کے رائٹر کو سات سو نواسی صفحات لگ گئے اس ساری بکھیڑے کو سمیٹنے میں لیکن
۔
سلیم اور اس کے ساتھ جڑی کرداروں جیسا کہ حسن صدیقی صاحب مسز چنائے ظہور بے دل سائرہ غزالہ چودری انور بشیر ایوان اور ایسے ہی ان گنت کردار اور ان کی انتہائی دلچسپ اور انوکھی کہانیاں اتنی خوبصورتی اور دلچسپی سے بنی گئی ہیں کہ اپ کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ اپ نے کب تقریبا اٹھ سو صفحات کا ناول پڑھ ڈالا۔ ہر کردار انوکھا اور اس سے جڑی کہانی اتنی ہی انوکھی۔ اس ناول کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ ہر کردار کی الگ کہانی ہے اور یہ کردار اور اس کی کہانی کسی نہ کسی ذریعے یا واسطے سے سلیم سے جڑ جاتی ہے۔ یوں سب کردار مرکزی پلاٹ کے ساتھ ایک لڑی میں پروہ نظر اتے ہیں۔
۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی خصوصا وہ پاکستانی جو مغربی ممالک میں قانونی یا غیر قانونی طریقے سے پہنچ گئے وہ انتہائی اچھے طرح اس ناول سے جڑ پائیں گے۔
۔
ہر تارک وطن جب بے وطن ہوتا تو یہ بدوطنی ان کے لیے کیا خوشیاں غم اور آزمائشیں لے کر آتی؟ وہ وطن اور رشتوں سے دوری کا کرب کیوں کر اور کیسے سہ پاتے؟ سپنوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے کس قسم بھٹی میں سے جل کر گزرتے؟ اور کیا کیا قانونی اور غیر قانونی حرکتیں یا کرتوت کرتے پھرتے، ان کی سماجی معاشی اور گھریلو زندگی کی جھلکیاں پورے ناول میں یہاں وہاں بکھری پڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔
۔
اس ناول میں بعض کردار اور ان سے جڑے واقعات پر بعض اوقات کسی فلم کا سا گمان ہوتا اور یہ قطعی غیر یقینی اور غیر حقیقی لگتے۔ آخری صفحات میں تو یہ بولی وڈ کی کسی فلم جیسے لگنے لگتے
۔
لیکن
۔
مجموعی طور پر ایک عمدہ ناول ہے اور انتہائی دلچسپ اگر آپ کا کتاب اور کہانی پڑھنے میں دل نہیں لگتا تو اسے پڑھنا شروع کر دیں یہ اپنے دلچسپ بیان سے آپ کو اس بحران سے نکال لائے گا
2 reviews
December 7, 2011
This book will bring life to the thoughts of all the people who live like plants in the pots.
Displaying 1 - 4 of 4 reviews