اشرف شاد کا بے وطن ناول اس خواب کو چکنا چور کرتا ہے کہ پاکستان سے باہر زندگی آسان ہے۔ دھیمے لہجے میں زندگی کے تلخ حقائق کو پوری شدت سے بیان کیا ہے ۔ مکالمے بے مثال ہیں اور انداز بیان میں روانی ہے لیکن کردار نگاری میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ تقریبا آٹھ سو صفحات پر لکھے ناول کی موجودہ قیمت ١٠۵٠ ہے جسے دوست پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔ بقول شوکت صدیقی کہ یہ ناول آپ کے علم میں اضافہ کرتا ہے جیسے ہر اچھی کتاب کرتی ہے۔
سلیم اسٹریلیا پہنچا کیوں کیسی اور وہاں اس کے ساتھ کون کون ملا لمبی داستان ہے۔ اتنی لمبی کے رائٹر کو سات سو نواسی صفحات لگ گئے اس ساری بکھیڑے کو سمیٹنے میں لیکن ۔ سلیم اور اس کے ساتھ جڑی کرداروں جیسا کہ حسن صدیقی صاحب مسز چنائے ظہور بے دل سائرہ غزالہ چودری انور بشیر ایوان اور ایسے ہی ان گنت کردار اور ان کی انتہائی دلچسپ اور انوکھی کہانیاں اتنی خوبصورتی اور دلچسپی سے بنی گئی ہیں کہ اپ کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ اپ نے کب تقریبا اٹھ سو صفحات کا ناول پڑھ ڈالا۔ ہر کردار انوکھا اور اس سے جڑی کہانی اتنی ہی انوکھی۔ اس ناول کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ ہر کردار کی الگ کہانی ہے اور یہ کردار اور اس کی کہانی کسی نہ کسی ذریعے یا واسطے سے سلیم سے جڑ جاتی ہے۔ یوں سب کردار مرکزی پلاٹ کے ساتھ ایک لڑی میں پروہ نظر اتے ہیں۔ ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی خصوصا وہ پاکستانی جو مغربی ممالک میں قانونی یا غیر قانونی طریقے سے پہنچ گئے وہ انتہائی اچھے طرح اس ناول سے جڑ پائیں گے۔ ۔ ہر تارک وطن جب بے وطن ہوتا تو یہ بدوطنی ان کے لیے کیا خوشیاں غم اور آزمائشیں لے کر آتی؟ وہ وطن اور رشتوں سے دوری کا کرب کیوں کر اور کیسے سہ پاتے؟ سپنوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے کس قسم بھٹی میں سے جل کر گزرتے؟ اور کیا کیا قانونی اور غیر قانونی حرکتیں یا کرتوت کرتے پھرتے، ان کی سماجی معاشی اور گھریلو زندگی کی جھلکیاں پورے ناول میں یہاں وہاں بکھری پڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ۔ اس ناول میں بعض کردار اور ان سے جڑے واقعات پر بعض اوقات کسی فلم کا سا گمان ہوتا اور یہ قطعی غیر یقینی اور غیر حقیقی لگتے۔ آخری صفحات میں تو یہ بولی وڈ کی کسی فلم جیسے لگنے لگتے ۔ لیکن ۔ مجموعی طور پر ایک عمدہ ناول ہے اور انتہائی دلچسپ اگر آپ کا کتاب اور کہانی پڑھنے میں دل نہیں لگتا تو اسے پڑھنا شروع کر دیں یہ اپنے دلچسپ بیان سے آپ کو اس بحران سے نکال لائے گا