Jump to ratings and reviews
Rate this book

Ay Ghazaal-i Shab / اے غزال شب

Rate this book
Ay Ghazaal-i-shab by Mustansar Hussain Tarar

296 pages, Hardcover

First published January 1, 2013

16 people are currently reading
169 people want to read

About the author

Mustansar Hussain Tarar

97 books467 followers
Mustansar Hussain Tarar (Urdu: مستنصر حسين تارڑ) is a Pakistani author, actor, the first Morning Show presenter and a pioneer trekker - in his own words: a vagabond.

Having made a name for himself by taking the mantle in Pakistan's mountaineering community, Mustansar Hussain is widely recognized as one of the most well known personalities in Pakistan. Though the origin of his fame is usually considered to be his established and decorated career as a writer, Tarar can also be recognized as the foremost endorser for tourism projects in Northern Areas of Pakistan, having exorbitantly increased the array of tourist exposure to the areas by becoming both a mountaineer and an adventure author who uses these locations as backdrops for his storylines.

Mustansar Hussain's literary proficiency as an author often overshadows the fact that he has been an active mountaineer for a very extensive period of time. Having embarked upon several painstaking and challenging tasks such as the ascension of K-2 and the surpassing of the treacherous "Chitti Buoi" Glacier among others. More significantly, both of Mustansar Hussain's professions often intertwine and relate, since he uses his experiences on his expeditions as travelogues. Though some of his publications have met lukewarm reactions due to supposed exaggeration, he reflects on this predicament with the notion that "words or even pictures cannot successfully express the beauty and splendour of nature in it's true spirit."

Tarar's first book Nikley Teri Talash Main, a travelogue of Europe, was published in 1971. He has so far over forty titles to his credit which include many genres of literature; travelogues, novels, short stories and collection of his newspaper columns and television dramas. He has been one of the best-seller fiction writer of Pakistan.

Mustansar was born in 'Jokalian' a small town in Punjab, Pakistan in March 1939. He spent his early childhood in the village and moved to culturally rich Lahore, witnessed the independence of Pakistan in 1947 and the events that took place at Lahore. His father Rehmat Khan Tarar opened a small seed store there. Mr Tarar got his schooling from Rang Mehal Mission High School and Muslim Model High School, Lahore. He then got admission in Government College Lahore , a college that owns the credit to polish several intellectuals of Pakistan. In 1950's, he went to London for higher studies. In 1957 he attended the World Youth Festival in Moscow and wrote a book named 'Fakhta' (Dove) on that experience. In 1971 his first travelogue Nikley Teri Talaash Main was published. It led to new trend in Urdu literature. He also became a television actor and from 1988 was for many years a host of PTV's live morning transmission Subuh Bakhair (Good Morning). His unconventional and down to earth style of comparing earned him great popularity. He called himself the 'Cha Cha Jee' of all Pakistani children and soon became known by this title.

Awards:
Presidential award of Pride of Performance.
Prime Minister's award for the Best Novelist for "Rakh".
Life time achievement award of Almi Farogh-e-Urdu Adab, Doha (Qatar).
Gold Medal bestowed by Moscow State University for literary achievements.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
18 (31%)
4 stars
15 (26%)
3 stars
16 (28%)
2 stars
6 (10%)
1 star
2 (3%)
Displaying 1 - 13 of 13 reviews
Profile Image for Fatima.
64 reviews10 followers
December 24, 2018
خوابوں کے تعقب میں انھیں اپنا دین ایمان بنانے والوں کے جب خواب ٹوٹتے ہیں تو ان کی کرچیاں سالوں پر محیت ہو جاتی ہیں۔ کچھ مفاہمت کر لیتے ہیں اور کچھ ظہیر الدین کی طرح سرابوں میں زندگی گزار دیتے ہیں۔
کچھ جینا اسلام کی طرح نگر نگر پھرتے ہیں اور کچھ مصطفیٰ اسلام اور سردار قالب کے روپ میں اپنی دھرتی کی کسک میں رہتے ہیں اور کوئی کوئی عارف نقوی ہوتا ہے جو اے ارجن کہتے کہتے رخصت ہو جاتا ہے۔
سرخ سویرے اور اشتراکیت کے نظریے پہ مبنی اس ناول کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہے۔۔۔ خواب۔
اور لازم تو نہیں کہ ہر خواب پورا بھی ہو۔
Profile Image for Biblio Hodophile.
7 reviews
June 12, 2020
اےغزال شب، تیری پیاس کیسے بجھاؤں
ہم انسان اکثر کسی فلسفہ یا نظریہ کے پیچھے دیوانہ وار ہو کر گر پڑتے ہیں، اسے آخری سچ مانتے ہیں، اپنے نظریات کی ترویج کرنے میں اکثر جبر سے کام لیتے ہیں۔ کسی نظریہ کے پیچھےاس قدر دیوانے وار گرتے ہیں کہ اس کے تخلیق کرنے والے اپنے جیسے فانی کو ہی خدا مان بیٹھتے ہیں۔ جو حقیقی اور سچا خدا ہے اگرچہ انکار اسکا نہ کریں تو بھی اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ پھر جب وہ خواب، وہ سچ جس پرایمان لایا جاتا ہے، سچ سمجھتے ہوئے اسے لافانی کا رتبہ قرار دیتے ہیں، وہ کرچی کرچی ہو کر جب ٹوٹتا ہے تو اس پر دل و جان سے ایمان لانے والے بھی بکھر سے جاتے ہیں۔ کیا ہم اکثر ایسا نہیں کرتے؟ چلیں ہم کوئ بڑے نظام کے پیچھے نہیں جا رہے مگر ہم میں سے اکثر جوش و خروش والی تقاریر کرتے ہیں کہ یہاں سے ایسا سورج نکلے گا ہمارا کے پوری دنیا میں چھا جائے گا۔ صرف ہمارا ہی پرچم پھر لہرائے گا۔ یا جب ہماری حکومت آئے گی تو ہم یہ کردیں گے وہ کردیں گے، تخت الٹے گا، غریب عیش کرے گا، وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ سب ایک محض خواب نہیں ہوتا یا چلو پورا ہوتا ہے تو محدود وقت کے لئے۔ مگر انسان یعنی ہم میں سے اکثریت کچھ چیزوں کو لا محدود سمجھ کر خود کو اس کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں پھر وہ محدود ہو جائے، ٹوٹ جائے تو دل برداشتہ ہوجاتے ہیں۔ حتیٰ کے وہ خطہ ارض جہاں قدم جمائے کھڑے ہوتے ہیں وہ اجنبی لگتا ہے، عذاب ہو جاتا ہے وہاں لمحہ لمحہ ٹہرنا۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے کہ محض نظریات کے ساتھ جڑے خوابوں کے ٹوٹنے سے سب ختم شد سا لگتا ہے؟ یہ سوال بڑا دلچسپ ہے میرے لئے تو خاص کر کیونکہ میں نے اکثر لوگوں کو اپنے بنائے نظریات پر اتنا یقین رکھتے ہوئے دیکھا ہے کہ وہ ہی انکا اوڑھنا بچھونا ہوتے ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ نے اسی بات کو ایک کہانی کے روپ میں بیان کیا ہے۔
اگر ادب کے لحاظ سے بات کی جائے تو وہ تارڑ صاحب نے نہایت شائستہ انداز میں ادب کاحق ادا کیا ہے۔ الفاظ کا چناؤ ، فقروں میں روانی ، زبان کی سادگی اور ٹھیک جگہ اشعار کا استعمال یہ سب انکی تحریر کا خاصہ ہے۔ لیکن اگر بات کی جائے صرف کہانی کی تو مجھے یہ ناول نامکمل سا دکھا ہے۔ جیسے بات شروع کی گئ تھی تو مجھے ایسا محسوس ہوا تھا اس میں سوویت یونین کا باقعدہ پس منظر بتایا جائے گا، کمیونزم کے بارے میں بات ہوگی ایک کہانی طور پر ہی لیکن ایسا کچھ خاص نہیں تھا، کہانی زندگی کے چند عام سے کرداروں کے گرد رہی، جس کی وجہ سے مجھے کئ جگہ زیادہ دلچسپ نہیں لگا ناول۔
بہر حال کہانی ہے ان لوگوں کی جنہوں نے کمیونزم کو اپنا آخری سچ مانتے ہوئے، اپنے دین اور ملک سے بے وفائ کی اور کوئ برلن، روس، ھنگری وغیرہ میں جاکر بسے ایسے کہ وہیں کے ہو رہے۔ جب انکا آخری سچ کا خواب ٹوٹ گیا تو وہ اپنے وطن کی سر زمین لاہورکی یادوں میں تڑپنے لگے ، واپسی کا ارادہ کرکے آئے تھے کہ زمین نے ناراضگی اورغصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں گویا جلاوطن جیسا سندیس دیا کہ اب یہ زمین انکا گھر نہیں۔ وہ دیوانے پھر سے خود کو مزید بہانوں کی زد میں لاتے ہوئے وہیں گئے جہاں انکا گھربار تھا اب۔ تارڑ صاحب نے اس ناول کے ذریعے جن کچھ واضح اور مبہم خیالات کا اظہار کیا ہے وہ یہ ہیں۔
۱) وطن وہ نہیں جہاں آپ پیدا ہو۔ بلکہ وہ سرزمین جہاں کوئ آپ کے انتظار میں ہو وہ وطن ہے۔ مگر یہ گویا کہ پھر ایک فریب سا ہے۔ آپ اپنی سرزمین کو اسلئے بھی چھوڑتے ہو جب آپ کے پاس اس سے زیادہ بہتر و بہترین سہولت موجود ہو۔ جہاں آزادی ہو ایک فرد کو معاشرتی اور مذہبی آزادی۔ جہاں کا ماحول آلودہ نہ ہو۔ جہاں آسائشیں میسر ہوں۔
۲) بیوی بچے گھربار ان سب سے دور نہیں ہونا بلکہ ان میں رہتے ہوئے بھی اپنے دل کو انکی الفت سے بھرنے نہیں دینا۔ دل آپ کا وہیں ہونا چاہئے جس نے آپ کو پیدا کیا وہی حقدار ہے کہ دل اس طرف مائل ہو۔
۳) مرد کو کبھی بیوی بچے صرف کمانے کی مشین کی مانند سمجھتے ہیں، اسکے غم اور دکھ کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اسی وجہ سے اکثر مرد اپنے آبائ جگہ کی طرگ لپکتا ہے کہ شاید اسے وہاں سکون ملے۔ ناول لکھا ہی زیادہ تر مرد کی نظر سے گیا ہے، جیسے وہ بیوی بچوں اور زندگی کو دیکھتا ہے۔ یہ بھی پہلو دکھایا گیا ہے کہ مرد اپنے نظریات کو آسانی سے نہیں چھوڑتے اگر انکے کچھ نظریات ہوں معاشرے اور انقلاب پر۔ عورتیں اسکے برعکس اکثر تبدیلی کو جلدی قبول کرلیتی ہیں جیسے کمیونزم سے سرمایہ دارانہ نظام۔
۴) ہم اکثر ایک خوش اخلاق لڑکی کو برا ہی سمجھتے ہیں۔ وہ آپ سے صرف بات کررہی ہوگی زندگی کے فلسفے پر، اپنے کسی شوق پر مگر چونکہ وہ مرد عورت سے یکساں سلوک کررہی ہوگی تو اسے برا سمجھا جائے گا گویا وہ ہوس کا مال ہو۔ اور اس سوچ کا تعلق پاکستان کے معاشرے سے جوڑا گیا ہے۔ اسکی بات کو سننے کے بجائے اسکے جسم کی طرف لپکنا۔ میں اس بات سے بہت زیادہ تنگ آگئ تھی لیکن جب نگاہ ڈالتی تھی اپنی ذات پر اور اپنے جیسی اور خواتین اور لڑکیوں پر تو تارڑ صاحب سے بلکل اس معاملے میں اتفاق رائے رکھتی ہوں۔ یکساں سلوک سے مراد وہ مرد سے بھی بات کرنے پر ہچکچائے گی کم، اسکی گفتگو رومانوی نہیں ہوگی، وہ آپ سے یا تو اسلئے بات کرے گی اسے اپنے نظریات یا اپنے سفر کی کہانی بتانی ہوگی یا وہ آپ سے زندگی کے فلسفہ پر بات کرے گی۔
۵) طالبان غلط ہیں برحق مگر کیا ہم ان سے نفرت کرسکتے ہیں؟ تارڑ صاحب نے یہاں کمیونزم کے ماننے والے انقلابیوں کی نظر سے یہ کہا ہے کہ جیسے یہ انقلابی اپنے سچ کو آخری مان بیٹھے انسانیت کا درس دیتے ہوئے اپنی راہ میں آنے والے لاکھوں کو موت کی گھاٹ اتار دیا تو یہ ہی سب کچھ وہ طالبان اپنے مذھبی نظریات کو ٹھیک مانتے ہوئے نہ جانے کتنے انسانوں کو موت کی گھاٹ اتار چکے ہیں۔ بات دونوں میں یکساں ہی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ہم انصاف اور امن والے ہیں۔
۶) کسی خود ساختہ خواب کا تعاقب بعض اوقات انسان کو کہیں کا نہیں رہنے دیتے۔ اور جب وہ عظیم خواب چکنا چور ہوتا ہے تو پھر انسان عام سے عجیب سے خوابوں کا تعاقب کرتا ہے؛ کسی کا خواب کسی دریا کو بہتے دیکھنا ، کسی کا مائ بوڑھیاں تلاش کرنا ، کسی کا بغیر کچھ کہے ہاں میں ہاں ملا کے چلنا، کسی کا فقط زندگی کے رکنے کاانتظار کرنا، کسی کا سفر سے تھک کر سفر کا ترک کرکے ایک عام سی زندگی گزارنا اور کسی کا فقط پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے خود کے جسم کو خاک آلود کردینا۔
۷) کراچی شہر اجنبی ہے یہاں کوئ رہ کر بھی اس زمین کا نہیں بن پاتا۔ یہ منظر تارڑ صاحب نے ٹھیک دکھایا ہے کچھ حد تک۔ ۔ تارڑ صاحب نے اسے ضیاء الحق اور کراچی میں بے تحاشہ جگھڑوں کے دور سے بتایا ہے کہ وہ اب بے رونق سا ہے۔ میرا شہر ایسا ہی ہے، ہم اس سے محبت کرتے ہیں پر یہ شاید دل برداشتہ ہوچکا ہے، پتھر دل سا ہے کہ اجنبیت اس میں سرائیت کرگئ ہے۔ لاہور شہر کو اس سے جوڑا جاتا ہے اور مصنف نے بھی یہ ہی کوشش کی مگر مجھے یہ مناسب نہیں لگتا۔ ایک مرجھایا سا بدن، خون آلودہ اسکو آپ اس شہر سے نہیں جوڑ سکتے جس میں آج بھی جان باقی ہے۔ میرا شہر کس جیسا ہے یہ میں نہیں جانتی پر وہ بیزار ہے خود اور اسکی وجہ اکیلے ہم نہیں ملک کا اکثر حصہ ہے۔ مگر وہ چل رہا ہے، آنے والوں کو جگہ دے دیتا ہے۔ مجھے اس خطہ میں چھپی سی محبت محسوس ہوتی ہے کہ بس ذرا سی توجہ کی ضرورت ہے خیال کی ضرورت ہے یہ پھر سے کھلکھلائے گا۔ مسکرائے گا اور اپنے خون ٓلودہ بدن سے راہیں ہموار کرے گا ترقی کی طرف۔ مگر یہ خواب سا ہے محض، حقیقت سے بہت دور۔
جس نظم پر ناول کا نام رکھا گیا ہے وہ ۹۰ فی صد کہانی کا نچوڑ ہے۔ اگر بغور کہانی پڑی جائے تو نظم آپ کے کانوں میں خود بخود ہلکی سی آواز میں گنگناتی ہے۔ اسکا ایک ایک الفاظ دل پر اپنے قدم جماتا ہے۔ اور کتاب ختم ہوتی ہے تو وہ نظم کی دھن تیز ہوجاتی ہے۔
اے غزال شب،
تری پیاس کیسے بجھاؤں میں
کہ دکھاؤں میں وہ سراب جو مری جاں میں ہے؟
وہ سراب ساحرِ خوف ہے
جو سحر سے شام کے رہ گزر میں فریبِ رہرو سادہ ہے
وہ سراب زادہ، سراب گر، کہ ہزار صورتِ نوبنو
میں قدم قدم پہ ستادہ ہے،
وہ جو غالب و ہمہ گیر دشتِ گماں میں ہے
مرے دل میں جیسے یقین بن کے سما گیا
مرے ہست و بود پہ چھا گیا!
اے غزالِ شب،
اُسی فتنہ کار سے چھپ گئے
مرے دیر و زود بھی خواب میں
مرے نزد و دُور بھی حجاب میں
وہ حجاب کیسے اٹھاؤں میں جو کشیدہ قالبِ دل میں ہے
کہ میں دیکھ پاؤں درونِ جاں
جہاں خوف و غم کا نشاں نہیں
جہاں یہ سرابِ رواں نہیں،
اے غزالِ شب!
ن م راشد

یہ ناول میں کہوں گی کے تبصرہ مکمل پڑھ کے دل مانے تو پڑھ لیں یا ادب سے لگاو کے لئے فقط۔۔ میں اسے ہر کسی کے لئے مناسب نہیں سمجھتی کیونکہ یہ سنجیدہ ہے اور توجہ طلب ہے۔
Profile Image for Tariq Mahmood.
Author 2 books1,064 followers
December 22, 2014
Initially I thought the story was an analogy with the fall of the Islamic empire at the hands of the Mongols but it turns out to be the tale of a number of destitute Pakistani youth who had chosen to migrate to the communist countries, marry there only to eventually come back to their home city of Lahore in their declining age.

I found the narrative challenging my patience repeatedly, with every chapter a new story. There was also lack of any single story in the novel, with the objective of the novel remained a complete mystery to me right till the end. The whole narrative is highly nostalgic and filled with stereotypes. Russians and Germans are mean and detached while Pakistanis are loyal yet intrusive. The whole book could have been written as a long short story in my opinion.

In summary, each man is crafted and groomed by his culture, initially all the characters were Pakistani as they lived in Pakistan, but then they migrated to Russia where they lived a life of denial, in a perpetual state of nostalgia for their native land. Why they chose never to come back from time to time remains a mystery though. In the end they go back only to find out that they are aliens in their beloved Pakistan, so they return back to Russia.
Profile Image for Hasan Raaz.
25 reviews9 followers
February 15, 2018
MHT proved again that he is one of the best urdu Novelist , splendid writing , elegant and stylish.The story ,characters and narration all engages the reader deeply into the act. MHT has always been admired for his travelogues but not much credit has been given to his Novels,the critics will one day acclaim his novels i believe.
Profile Image for Muhammad Waqas.
73 reviews11 followers
March 14, 2015
یہ کافی حد تک کم معروف تصنیف ہے۔ تارڑ نے اس میں نہ صرف اشتراکیت کے زوال کا احاطہ کیا ہے بلکہ وطن کے تصور کی بھی نہی جہت تلاش کرے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ ارجن کے مکالمے اور جبپسی کے گیت پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
Profile Image for Rural Soul.
550 reviews89 followers
February 27, 2024
چندھیائی ہوئی آنکھوں اور سنے ہوئے ہاتھوں والا ایک بچہ دور دراز حزن و ملال کے جزیروں اور پتھریلی زمین پر پلتا ہے. افلاس کے علاوہ وراثت میں اسے لفظ اور شعر کی سُدھ بدھ عطا ہوتی ہے کیوں کہ وہ ایک ناکام شاعر کا بیٹا ہے. لمحے، دہائیاں بن کر گزرتے ہیں۔
اپنی حقیقتوں سے فرار فقط خوابوں میں ہی میسر آتا ہے اور شاید یہی خواب انسان کو قصوں میں لے جاتے ہیں. یہی قصے انسان کو کتاب سے روشناس کرتے ہیں. جب تک ہم جان پاتے ہیں کہ زندگی ان کتب سے بہت مختلف ہوتی ہے، تب تک بہت دیر ہوجاتی ہے۔

چھپی ہوئی تحاریر اور کسی بھی خواب افزاء افیون سے بھری کتاب کے لیے ترستے ترستے وہ بڑی درسگاہ پہنچتا ہے. اپنے کالج کی لائبریری اپنی اُسی خواب افزاء افیونی بھوک کے ہاتھوں مجبور ہوکر صرف ایک ہفتے میں ہی چاٹ ڈالتا ہے. اپنی کنجوسیوں کے بیچ وہ پرانے سب رنگ دریافت کرتا ہے اور چنگیز آتماتوف اس کی شاعرانہ بھوک کے بدلے اسے مزید دیومالائی مثالی کردار تفویض کرتا ہے۔
آتماتوف کے کردار جب لینن کی موت پر آنسو بہاتے ہیں تو وہ اُس لینن پر رشک کرتا ہے. جب وہ گھر آتا ہے تو وہ لینن کے بارے دریافت کرتا ہے اور اس کا باپ اسے بتاتا ہے کہ لینن کون تھا۔

وہ لینن کے سحر میں آجاتا ہے. وہ انٹرنیٹ کی عنقائی کے باوجود لینن کو جاننے کی کوشش کرتا ہے اور وہ یہ جان کر تسکین اٹھاتا ہے کہ پون صدی پہلے کسی شخص نے اس جیسے افلاس زدہ نوجوانوں کو ایک نئی راہ دکھائی تھی. وہ سچا پکا برابری پسند بن جاتا ہے. مراعات یافتہ اور سرمایہ دار طبقوں سے نفرت کرتا ہے. اپنے متمول خاندانوں کے سرخیلوں سے عیدین یا متوفین کی فاتحہ پر الجھتا ہے۔

اپنے پیشہ ورانہ سفر میں وہ اسی برابریت کے پاگل پن میں الجھ کر رہ جاتا ہے. وہ نظام کو سمجھے بغیر وہ اپنے افسران کے سامنے شعور و ادراک کی اکڑ دکھانے کی کوشش کرتا ہے. چار پیسے جیب میں آنے کے بعد وہ دل کھول کر کتب کے میناروں میں محو استراحت رہتا ہے. اپنے دفتر میں وہ فارغ وقت میں افسرانِ بالا کی چاپلوسی کی بجائے فخر سے محوِ مطالعہ رہتا ہے. ان سے اپنے حق کے لیے الجھتا ہے، انھیں اپنی شعوری جارحیت سے پچھاڑ نے کی کوشش کرتا ہے۔

یوں ایک دہائی گزر جاتی ہے. اس پر "رپھڑی" اور کام چور ہونے کی چھاپ لگ جاتی ہے. وہ ان رفقاء پر پھر بھی تکیہ کیے رہتا ہے جنھیں اس نے شعوری سطح کی یکسانیت کے باعث سینکڑوں میں سے منتخب کیا تھا.نظام اس کے خلاف ہوجاتا ہے. اسے ہر ممکن نقصان دینے کی کوشش کی جاتی ہے. وہ اپنے رفقاء پر بہت انحصار کرتا رہتا ہے. ان کے لیے مالی جانی قربانیاں دیے جاتا ہے. لوگ اسے ان انٹیلیکچوئل نما خودغرض موقع پرستوں سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں مگر وہ سنی ان سنی کرتا رہتا ہے اور بعد میں پچھتاتا ہے۔

جب اسے یہ سمجھ آنا شروع ہوتا ہے کہ نظام یوں خود اپنے "کاغذات" خراب کیے جانے سے نہیں بدلا کرتا. اسے رفتہ رفتہ احساس ہوتا ہے کہ جن کو وہ اپنے شعوری رفقاء سمجھتا تھا، وہ اپنی نوکری بچانے میں اس سے ربع صدی آگے تھے. اسے ہمیشہ وہ قربانیاں یاد آتیں جب اس کے شعوری دوست اسے محافل میں ذلیل کرتے. اسے رفتہ رفتہ سمجھ آتا کہ وہ لوگ حسن، دولت اور علم میں سے تیسرے کے نشے سے ٹُن ہیں. وہ اخلاقی سطح پر اس سے کہیں نیچے بول بزاز رول کرکے گیند بنانے والے کیڑے کے مصداق اپنی جانکاریوں کی لن ترانیوں میں جھوم رہے ہیں. کڑے وقت میں وہ اسے آگے کرکے اپنا آپ بچانا جانتے ہیں۔

اس پر جب یہ سب آشکار ہوتا ہے تب لینن اس کے دل کے پاتالی نہاں خانوں، زندانوں میں زندہ ہے مگر وہ آخری سانسوں پر ہے۔

اسی حقیقی داستاں کی طرح، ناول کے کرداروں کی بھی یہی کہانی ہے۔
Profile Image for jzee.
40 reviews4 followers
August 2, 2021
Another very interesting and fine novel by Mustansar Hussain Tarar.

The story revolves around some Pakistanis who have settled in USSR & Eastern Block countries during the hay days of cold war when USSR supported left leaning activists and students across the globe and in Pakistan, the establishment had found an easy target in left to further its own agenda, thus making life miserable for these parties, groups and people.

The story and character development is quite interesting to keep the reader intrigued and glued to the narrative. As usual, the book also gives hints for further study into many topics by adding some historic/factual details about places and things.

All in all, a highly recommended book amongst contemporary Urdu novels.
Profile Image for Tayyaba Farooqi.
8 reviews
January 21, 2020
The book, in my opinion, talks of broken dreams, broken souls, dissidents and delusional concept of state & ownership. Moreover, the dependency of happiness over the imaginative world which makes and break people. Also the consequences of rise and fall of systems and people.
Overall a good read that also traces some history of socialists born in Pakistan.
Profile Image for Nayab Khalid.
1 review1 follower
December 3, 2022
Now a days I'm reading this novel and in love with the way Mustansar HUSSAIN Tarar has narrated the stories of people who pinned their hopes of a better world with the communist revolution. They left Pakistan to play their role in the Marxist ideology under the promises given by Linen.
Profile Image for Mujahid Khan.
111 reviews19 followers
February 10, 2017
Mustansar Hussain Tarar is one of the finest novelist of our times. His recent novels doesn't get the fanfare it deserves but truth is, his intellect and wisdom as a novelist has superseded many of his contemporaries. I fear that if he die which eventually he will, (don't we all?) who'd take up his place in the Realm of Urdu Novel.
اے غزال شب is a tale of the departed times. Once, when USSR was at the helm of the world. Once, Soviet Union was standing in its glory and the next moment it crumbled to dust. The narrative is riven with nostalgia. Glory, grandeur and devastation...
A tale of how dreams were shattered by the fall of USSR. How rootless people found themselves among the ruins of the crumbling Russia.
This is by far one of the most vehemently evocative novel of modern Urdu literature. A gazebo into the glory of Kremlin.
Profile Image for Waqas Qazi.
109 reviews6 followers
June 28, 2016
Great book. A commentary on the fall of communism, and how it affected / affects the Pakistani diaspora. Contains other brilliant snippets also such as breaking of the fourth wall, opinions on nationhood, and some sly remarks on religion. Only Tarrar could write such a contemporary book in Urdu.
1 review
May 13, 2019
I want to read
This entire review has been hidden because of spoilers.
Displaying 1 - 13 of 13 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.